والدین کو وقف ، خیرات اور عمرہ کر کے فائدہ پہنچائیں، سعد الخثلان

ریاض۔۔۔ سربرآوردہ علماء بورڈ کے سابق رکن او رسعودی فقہی انجمن کے چیئرمین ڈاکٹر سعد الحثلان نے واضح کیا ہے کہ والدین کو   وقف ،خیرات ، حج ، عمرے  او رکار خیر کر کے  فائدہ پہنچانے کا  اہتمام کیا جائے۔ قبرستان جانے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور جانے والوں کو زحمت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ وہ معروف آگہی پروگرام  "یستفتونک" میں والدین کی زیارت کیلئے قبرستان جانے کا شرعی حکم بیان کر رہے تھے۔ پروگرام میں ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا والدین کی وفات کے بعد ان سے ملنے کیلئے قبرستان جانا ان کے ساتھ حسن سلوک کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں۔ الخثلان نے جواب دیا کہ میرے علم کے مطابق  رسول اللہ ﷺ سے ایسی کوئی حدیث ثابت نہیں جس میں اولاد کو والدین کی وفات کے بعد ان کی زیارت کیلئے قبرستان جانے کی تعلیم یا ترغیب دی گئی ہو۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ اس حوالے سے جس حدیث کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ وہ ضعیف ہے بلکہ موضوع حدیث ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ "جس شخص نے میت کی زیارت کی تو اس کی روح اس کے جسم میں واپس کر دی جاتی ہے اور وہ سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دیتی ہے اور وہ زائر کی آمد سے انسیت محسوس کرتی ہے" علامہ الحثلان نے بتایا کہ یہ حدیث من گھڑت ہے۔ اگر یہ صحیح ہوتی تو صحابہ کرام  رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حلقو ں میں مشہور ہوتی اور پھر ان کے بعد تابعین ا س پر عمل کرتے ۔ مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ علامہ الحثلان نے یہ بھی کہا کہ جو میت بھی دفنا دی جاتی ہے وہ وقت گزرنے پر مٹی کا حصہ بن جاتی ہے۔ اب سے 100یا 1000برس قبل مرنے والوں کی نعشیں اب کہاں ہیں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انبیاء کرام علیھم السلام اور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے صدیق او رشہداء کا جسم زمین نہیں کھاتی ان کے سوا سب کی نعشیں مٹی بن جاتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض لوگ ہرہفتے اور کبھی ہفتے میں دو بار قبرستان جانے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے وہ اپنے متوفی باپ یا ماں کا حق ادا کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ متوفی والدین کو نہ آپ کی آمد کا علم ہوتا ہے اور نہ وہ آپ کی موجودگی کو محسوس کرتے ہیں۔ آپ کو آنے جانے کی زحمت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ اولاد والدین کیلئے دعائیں کرے، آپ کی دعائیں انہیں پہنچتی ہیں۔ صدقہ  ، حج ، عمرہ ، وقف اور دیگر اچھے کاموں کا اہتمام کریں۔ یہ سب کچھ ان تک پہنچتا ہے۔  

شیئر: