دھرنا ختم نہ کراتے تو حکومت چلی جاتی،عمران

  اسلام آباد... وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر دھرنے ختم نہ کراتے تو ہماری حکومتیں ختم ہو جاتیں۔ جمعرات کو پارلیمانی پارٹی کے طویل اجلاس کے دوران وزیراعظم نے بعض ممبران کی مذہبی جماعتوں سے متعلق بیان بازی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے اور مظاہروں کو مصالحتی انداز میں ہی حل کیا جا سکتا ہے۔دھرنے میں پیسے دے کر لوگوں کو لایا گیا ۔ اگر دھرنا ختم نہ ہوتا تو حکومتیں ختم ہو سکتی تھیں۔ عمران خان نے اراکین کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں منظم ہو کر چلیں۔ اپوزیشن کی ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ کوئی بھی رکن قومی اسمبلی وزیر دفاع پرویز خٹک کی اجازت کے بغیر ایوان میں تقریر نہیں کرے گا۔ وزیراعظم نے اپنے دورہ چین کے متعلق کامیابی کی تفصیلات بتائیں تو کئی ممبران نے پوچھا کہ چین سے سعودی طرز کی کس قدر نقد رقم ملے گی۔ وزیراعظم نے انہیں ٹوک دیا اور کہا کہ چین نے پاکستان کو نقد مالی مدد کا اعلان کرنے سے روک دیا ہے۔ وزیر اعظم نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ چین نے پاکستان کی تاریخی مدد کی لیکن یہ کتنی ہے ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ اس سے چین کے دیگر پارٹنرز تحفظات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت میں آ کر حیران کن گھپلوں کا انکشاف ہوا۔ میڈیا میں آنے والی کرپشن کی کہانیاں تو بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن پر آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے۔ ابھی بڑی مچھلیاں باقی ہیں۔ وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کو بتایا کہ وہ2 ماہ تک ایوان میں نہیں آئیں گے۔ عمران خان نے پی ٹی آئی کے ممبران قومی اسمبلی و سینیٹ پر ایوان میں بلا اجازت بولنے یا تقریر کرنے پر پابندی عائد کر دی ۔ ممبران کو چین سے ہونے والے مالیاتی معاہدوں کی تفصیلات پوچھنے سے منع کردیا۔

شیئر: