اینٹی بایوٹک دوائیں اب بے اثر ہوتی جارہی ہیں، محققین

 لندن-  - -  طبی محققین کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا میں ادویہ کے خلاف مزاحمت پیدا ہوجانے کی وجہ سے اینٹی بائیوٹکس بے اثر ہوتی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے صرف یورپ ہی میں سالانہ اموات کی تعداد 30 ہزار تک پہنچ چکی ہے جو بہت تشویشناک ہے۔ بیماریوں کی روک تھام کیلئے کام کرنے والے یورپی ادار ے ای سی ڈی سی نے اپنی ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس دوائیں اب جرثوموں پر کارگر ثابت نہیں ہو پار ہیں۔تحقیق کے مطابق 2007 سے اب تک بیکٹیریا کی ساخت میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ 10برسوں میںبیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا ہوگئی ہے۔ صرف 2007میں یورپ میں 30ہزار افراد اس وجہ سے لقمہ اجل بن گئے تھے۔ ان افراد کی اموات پر تحقیقاتی کمیٹی نے ہوش ربا انکشافات کیے ہیں۔طبی سائنس میں مزاحمت کار نئے بیکٹیریا کو ’سپر بگ‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ اگر ترقی یافتہ ممالک نے اس جانب موثر توجہ نہ دی تو جان لیوا جراثیم 2050 تک کروڑں افراد کی جان لے لیں گے ۔
مزید پڑھیں:- - - - -آرکٹک کے دورہ افتادعلاقے میں آباد قطبی مہم جو

شیئر: