کرپشن کا طوفان،اسٹیٹ بینک کی پراسرار خاموشی؟

  کراچی (صلاح الدین حیدر )عدا لت عظمیٰ سے لے کر پارلیمان کے ایوا ن بالا تک کرپشن اور منی لانڈرنگ کا شور مچا ہوا ہے، پر حیرت ہے کہ یہی دونوں بدعنوانیوں کو روکنے والے ادارے، اسٹیٹ بینک اور انکم ٹیکس کا محکمہ، جسے اب فیڈرل بیورو آف ریونیو کہتے ہیں، نے پُراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔نیب تحقیقاتی ادارے کے سابق افسر نے بالآخر بھانڈا پھوڑ ہی دیا۔ اسٹےٹ بینک کیوں چپ ہے جب تقریباً روزانہ ہی اربوں روپے بے نامی اکاونٹس سے ملک سے باہر جارہے ہیں۔ دبئی، لندن اور نہ جانے کون کون ے شہروں میں پاکستانی عوام کی محنت کی کمائی دولت منتقل کی جارہی ہے؟ اُنہوں نے سوال اٹھا ڈالا اور پھر خود ہی جواب دیا کہ ایف بی آر ان بدمعاشوں سے ملا ہوا ہے۔ آج تک اس نے کتنے شیطانوں کو گرفتار کیا۔ کتنے کے ریکارڈ کی کھوج لگائی؟ سوال میں ہی جواب موجود تھا۔ادھر منی لانڈرنگ کی شکایت سے تنگ آکر چیف جسٹس نے آج آصف زرداری کے ساتھی اور اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کو پیشی کے دوران پوچھ ہی لیا کہ آپ کے دوسرے بےٹے کہاں ہیں۔ کیسے ملک سے باہر گئے۔ پہلے بیٹے جو عدالت میں موجود تھے۔ان سے سوالات کا آغاز کیا۔جب چوں و چرا سے کام لیا تو چیف جسٹس نے ڈانٹ پلادی کہ چلیں پھر آپ کو جیل بھیج دیتے ہیں۔ یہ سنتے ہی نمر مجید کانپنے لگے اور قریب تھا کہ وہ زمین پر گر پڑےں، لوگوں نے اُنہیں سہارا دے کر پانی پلایا۔ کیوں، کیا جیل اتنی خراب ہے، تو پھر جیل جانے کا کام کیوں کرتے ہیں؟ چیف جسٹس مُصر تھے کہ تشفی بخش جواب مل سکے، بالآخر نمر مجید نے سب کچھ اُگل دیا۔ بات صاف ہوگئی۔ کیس اب 17 نومبر کو سنا جائے گا۔چیف جسٹس نے انور مجید اور تمام بینکوں کے سربراہان کو آئندہ پیشی پر 17 نومبر کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم صادر فرمادیا۔ پاکستان میں پہلے تو غریب لوگوں کے بینک اکاونٹس میں اربوں روپے نکلتے تھے۔جب اُن کی انکوائری کی گئی تو وہ پیسے بینک سے ہی غائب تھے۔ جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ کسی نے آج تک یہ نہیں پوچھا کہ حضور بینک میں کسی غریب آدمی کے اکاونٹس میں اتنی بڑی رقم موجود تھی جس سے وہ انکاری بلکہ حےرت زدہ تھا، تو بینک منیجر سے پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی۔ کتنے بینک منیجر گرفتار ہوئے۔ان کا آخر کیا کہنا تھا۔ اسٹےٹ بینک جو کہ تمام بینکوں کی مانیٹرنگ کرتا ہے، اُن پر نظر رکھتا ہے کہ رقم میں خوردبرد نہ ہوسکے، وہ اب تک چپ کیوں ہے۔ کیا انتظامات کیے اُس نے کہ آخر یہ پیسے کس کے ہیں۔ کون ہے جو اپنی ناجائز دولت چھپانے کے لئے غریبوں کا سہارا لے کر رقم بیرونی ملکوں میں راتوں رات منتقل کردیتا ہے۔ کیا اقدامات کئے گئے؟اب سینیٹ میں اور پھر ایک پریس کانفرنس میں حکمراں پارٹی کے سینیٹر جاوید اور وزیراعظم کے مشیر برائے کرپشن کے کیسز کو پکڑنے پر مامورہیں، نے بتایا کہ 11 ارب کی خطیر رقم ملک سے باہر حالیہ دنوں میں گئی ہے، شہزاد اکبر جو کہ حال ہی میں لندن کا دورہ کرکے واپس آئے ہیں، پُرامید تھے۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد قوم کو خوش خبری ملے گی۔ 7 ارب کی رقم جو پاکستان سے منی لانڈرنگ کرنے والوں نے منتقل کئے تھے، کا سرا مل گیا ہے۔ر قانونی اقدامات کے بعد یہ پیسہ ملک میں واپس آجائے گا۔
 

شیئر: