شمال و جنوب کے امتزاج سے انوکھا شعری مزاج عطا کرنیوالے، علامہ حیرت بدایونی

ابو حمید۔حیدرآباد دکن
دکن کاادبی پس منظر ہمیشہ شاندارہی رہا ہے جس سے پورے ملک نے کل بھی استفادہ کیا تھا اور آج بھی کر رہا ہے۔ حیدرآباد دکن میں امجد حیدرآبادی کے بعد جس عظیم شخصیت کا نام ہمیشہ سرِفہرست رہا وہ علامہ حیرت بدایونی ہیں جنہوں نے شمال اور جنوب کے حسین ادبی امتزاج کے ذریعے ایک انوکھا شعری مزاج عطا کیا جس میں علامہ نے روایتی انداز شاعری کو باقی رکھنے کے باوجود اس میں جدید سوچ و فکر کو جگہ دی تھی۔
ڈائریکٹر سیکریٹری تلنگانہ اردو اکیڈمی، پروفیسر ایس اے شکور نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ نے اور ان کے شاگردوں کی کثیر تعداد نے دکن میں ادب کا جو بلند ترین معیار قائم کیا ، وہ قابلِ توصیف و تعریف ہے۔ وہ انجمنِ قلم کاران دکن حیدرآباد کی جانب سے بنجارہ ہلز کے تہذیبی مرکز " لامکان" میں منعقدہ ایک تقریب سے صدارتی خطاب کر رہے تھے۔ یاد رفتگان سلسلے میں دکن میں استاد الاساتذہ علامہ حیرت بدایونی کی ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے مہمان خصوصی آئی پی یس، سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس آندھراپردیش، ایس اے ہدیٰ نے کہا کہ بدایونی ہونے کے باوجود علامہ کا حیدرآباد پر اور حیدرآبادیت پر فخر کرنا اور بارہا اس کا تحریری اور تقریری اظہار اور اعتراف  ان کی ادبی عظمت کی دلیل ہے۔ 
اس خصوصی ادبی اجلاس کے ایک اور مہمان خصوصی سابق صدر نشین نظام ٹرسٹ شاہد حسین زبیری نے علامہ حیرت بدایونی کے ساتھ گزرے لمحات کو یاد کیا اور کہا کہ بچوں سے ان کی محبت وہ تمام کتابیں ہیں جو آج ایک عظیم ادبی سرمایہ ہیں اور جن پر تحقیقی کام ہوناچاہئے۔ 
ممتاز ماہر نشریات شاعر اور ادیب صدرنشین انجمنِ قلم کارانِ دکن، اسلم فرشوری نے حاضرین کا استقبال کرتے ہے کہا کہ سلسلہ یادِ رفتگان کے ذریعے ہم ادب کے فروغ و ترویج کے سلسلے میں دکن میں حیدرآبادیوں کی کاوشوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں آپ کا تعاون لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد علامہ حیرت بدایونی کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کل ہند سطح پر سیمینار اور مشاعرہ منعقد کریں گے ۔
مہمان اعزازی ،حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی پروفیسر رفیعہ سلیم نے کہاکہ وہ علامہ حیرت بدایونی کی ادبی خدمات پر جلد ہی تحقیقی مقالہ شروع کروانے والی ہیں۔ممتازاور معروف شاعر یوسف روش اور ولی محمد زاہدہریانوی نے علامہ حیرت بدایونی کی شاعرانہ عظمت کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ممتاز ادیبہ و افسانہ نگار شبینہ فرشوری نے علامہ کی مزاح نگاری جبکہ علامہ کے شاگردِ عزیز طالب رزاقی کے صاحبزادے ڈاکٹر ناقد رزاقی نے علامہ حیرت بدایونی کے ساتھ گزاری بچپن کی یادوں کو تازہ کیا۔ ادبی اجلاس کے بعد طرحی مشاعرہ منعقد ہوا جس میں علامہ حیرت بدایونی  کا مصرع طرح تھا۔
اسلم فرشوری کی نظامت میں منعقدہ اس مشاعرہ کی صدارت سابق ڈین جامعہ ہمدرد، دہلی پروفیسر انور معظم نے کی۔ حصہ لینے والے شعرائے کرام میںسمیع اللہ سمیع، زعیم زومرہ، اطیب اعجاز ، عارف نعیم ، لطیف الدین لطیف، گویند اکشے و دیگر شعراء شامل تھے ۔ علامہ حیرت بدایونی کی صاحبزادی اور عالمی شہرت یافتہ ادیبہ پدم شری ڈاکٹر جیلانی بانو نے خصوصیت سے اس پروگرام میں ناسازیٔ طبع کے  باوجود شرکت کی۔ آخر میں تہذیبی و ثقافتی مرکز " لامکان"  کے ڈائریکٹر فرحان اشہر نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اس طرح رات دیر گئے یادرفتگان سلسلے کا یہ یادگار ادبی اجلاس اور مشاعرہ اختتام کو پہنچا۔
 

شیئر: