چندسنہرے مناظر اور ان کی تعبیر

***عبد المالک مجاہد۔ریاض***
قارئین کرام! میں آپ کوچند سنہرے مناظر دکھانا چاہتا ہوں۔ ان میں سے پہلے منظر کو کم وبیش15 صدیاں گزرنے کو ہیں۔دنیا کے سب سے مقدس شہرمکہ مکرمہ میں ، بیت اللہ شریف کے مشرقی جانب صفا مروہ کی پہاڑیوں سے قدرے ہٹ کر ایک متوسط سے گھر میں سردار ابوطالب چارپائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔ ان کی عمر کافی زیادہ ہوچکی ہے، وہ خاصے بیمار ہیں، بیماری خطرناک حالت کوپہنچ چکی ہے۔ دیکھنے والے اندازہ کررہے ہیں کہ ابوطالب زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہیں گے۔ مکہ میں مشرکین مکہ اور مسلمانوں کی باہمی کشمکش بھی بہت زیادہ شدت اختیار کرچکی ہے۔ مارپیٹ، گالی گلوچ، کاروباری خسائر، بیٹیوں کو طلاق ، مکمل بائیکاٹ ، شعب ابی طالب ، رکاوٹیں سارے ہی حربے آزمائے جاچکے ہیں مگر اسلام ہے کہ بتدریج بڑھتا ہی چلا جارہاہے۔ جو کوئی کلمہ پڑھ لیتا ہے اس کے پیچھے پلٹنے کی کوئی صورت ہی نہیں۔وہ ہر طرح کا دباؤ برداشت کرتا ہے، مکہ چھوڑکر کہیں اور چلا جاتا ہے مگر کیا مجال ہے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص بھی مرتد ہوا ہو۔مکہ مکرمہ کے معروف سردار عتبہ بن ربیعہ ،شیبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام ، امیہ بن خلف ، ابوسفیان بن حرب، یہ سب ایک جگہ ٹولی بنائے بیٹھے ہیں ۔ وہ آپس میںباتیں کررہے ہیں۔ ایک بولا: 
حد ہو گئی! اب تو حمزہ بن عبدالمطلب اورعمر بن خطاب جیسے با اثر لوگ بھی مسلمان ہوگئے ہیں۔ اب تو مسلمانوں کی طاقت بڑھتی ہی چلی جارہی ہے، اس کا حل کیا ہے؟ ۔
دوسرا بولا:ہمیں سردار ابو طالب کے پاس جانا چاہیے۔ ان سے مطالبہ کریں کہ وہ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں۔ اس سے باز پرس کریں ۔ بات تو تمہاری ٹھیک ہے ، سب نے تائید کی۔تو پھر چلو! تاخیر کس بات کی ہے۔ ابھی چلتے ہیں۔ پورا وفد سردار ابوطالب کے گھر کی طرف چل پڑا۔ یہاں سے ابوطالب کا گھر کوئی 15،20  منٹ کی مسافت پر ہوگا۔ وہ بیمار چارپائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔ 
سردار ابوطالب نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو اپنی کروٹ بدل کر چہرہ ان کی طرف کر لیا۔ وفد میں سے ایک تیمار داری کرنے کے بعد کہنے لگا: سردار ابوطالب!ہم آپ سے ایک نہایت ضروری بات کرنے آئے ہیں۔سردار نے کہا: کہو میں سن رہاہوں۔ کہا:
سردار ابو طالب!آپ کا ہمارے درمیان جو مقام ومرتبہ ہے اسے آپ بخوبی جانتے ہیں، اب آپ جس حالت سے گزر رہے ہیں وہ بھی آپ کے سامنے ہے، ہمیں اندیشہ ہے کہ آپ کے آخری ایام ہیں،آپ کے بھتیجے اور ہمارے درمیان جو معاملہ چل رہا ہے ، اس سے بھی آپ واقف ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ انہیں بلائیں، وہ ہم سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سمجھوتہ کرلیں، وہ ہمیں کچھ نہ کہیں اور ہم انہیں کچھ نہ کہیں، وہ ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دیں اور ہم انہیں ان کے دین پر چھوڑ دیں۔
ابوطالب نے یہ گفتگو سننے کے بعد ایک آدمی کو بلایا۔ اس سے کہنے لگے: جلدی سے جاؤ اور محمد (ﷺ) کو بلاکر لاؤ۔ رسول اللہﷺ  کو چچا کا پیغام ملا تو فوراً ان کے گھر کی طرف چل دیے۔ گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ مکہ کے بڑے بڑے سردارچچا ابوطالب کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ 
سردار ابوطالب نے آپﷺ  کو دیکھا تو یوںگویا ہوئے: میرے بھتیجے! یہ تمہاری قوم کے معززین ہیں،یہ تمہارے ہی لئے جمع ہوئے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ تم سے کچھ لین دین کرکے سمجھوتہ کر لیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی قوم کے سرداران کی طرف دیکھا ۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ گزشتہ 12 سال سے مسلسل کشمکش چل رہی ہے۔ آج وہ اپنا آخری حربہ آزمانے کیلئے آئے ہیں۔ 
قارئین کرام!کبھی مایوسی کا شکار نہ ہونے والے کائنات کے سب سے بہادر انسان حضرت محمد ﷺ نے آنے والے سرداروں کو مخاطب کیا۔ آپ ﷺ بات شروع فرمانے لگے تو کمرے میں بیٹھے ہوئے سرداران قریش ہمہ تن گوش ہوگئے کہ یتیمِ مکہﷺ  کیا فیصلہ کرنے والے ہیں؟ آج یہ اپنے چچا کو کیا جواب دیتے ہیں؟آپ ﷺ نہایت محبت بھرے لہجے میں وفد کو مخاطب کرکے فرمارہے ہیں: 
’’ آپ یہ بتائیں کہ اگر میں آپ کو ایک ایسی بات پیش کروںجس کے اگر آپ قائل ہو جائیںتو آپ لوگ عرب کے بادشاہ بن جائیںاور عجم آپ کے ما تحت ہو جائے تو آپ کی رائے کیا ہوگی؟ ۔‘‘
ابوجہل مجلس میں بیٹھا بڑی توجہ سے آپ ﷺ کی بات سن رہاتھا۔ اس نے کہا: ہاں ہاں بتاؤ تو وہ بات ہے کیا؟ تمہارے باپ کی قسم! ایسی ایک بات کیا ہم تو ایسی 10 باتیں سننے اور ماننے کیلئے تیار ہیں۔آپ(ﷺ) ایک نہیں،10 شرطیں لگائیں ہم مانیںگے۔
سب کی نگاہیں اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے پر جم گئی ہیں کہ وہ کونسی ایک بات، صرف ایک بات، ہمیں بتانے لگے ہیں، جس سے ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ آپﷺ نے بڑے خوبصورت انداز میں فرمایا:
’’ تم لوگ اس بات کااقرار کرلو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود ِبرحق نہیںاور اللہ کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو، سب کو چھوڑ دو گے۔‘‘ اس پر سردارانِ قریش نے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے جھنجھلا کر کہا: تم پر حیرت ہے اے محمد(ﷺ)!کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمام معبودوں کی جگہ بس ایک ہی معبود بنا ڈالو، تمہارا معاملہ واقعی بہت عجیب وغریب ہے۔
ایک دوسری روایت جس کے راوی سیدنا عبداللہ بن عباسؓ ہیں، اس کے الفاظ قدرے زیادہ ہیں کہ جب سردار ابوطالب بیمار ہوئے تو اللہ کے رسول ﷺ  سردار ابوطالب کے سرہانے کے قریب آکر بیٹھ گئے۔شفیق چچا کے گھر مذاکرات کیلئے آنے والے مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔ قریش اپنی بے بسی اور ناکامی کا رونا روتے ہوئے سردار ابوطالب کے گھر سے واپس آرہے ہیں۔ وہ سخت مایوسی کا شکار ہیں۔ سوچ رہے ہیںاور غور فکر کررہے ہیں کہ اس سارے قضیے کا حل کیا ہے؟ مگر ان کے پاس کوئی حل نہیں۔ادھر اللہ کے رسول ﷺ  ہمیشہ پُر امید رہنے والے، ناکامیوں کو شکست دینے والے تھے ۔ چچا کے گھر سے اپنے اندر مزید ہمت ، طاقت لے کر اور مزید پُر عزم ہوکر نکلتے ہیں۔ آپﷺ اب ایک نئے جذبہ سے دعوت کا کام کرنے لگے ہیں۔
قارئین کرام! مجھے ابھی آپ کو ایک اور منظر دکھانا ہے۔ یہ منظر بھی کوئی بہت اچھا اور خوبصورت نہیںمگر یہ تاریخی حقیقت ہے؟ اللہ کے رسول ﷺ  اپنے آباء واجداد کے بنائے ہوئے اللہ کے گھر میں داخل ہونا چاہتے ہیں مگر اس کی چابی بنو عبدالدار کے عثمان بن طلحہ کے پاس ہے؟ وہ جسے چاہتا ہے اندر داخل ہونے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے روک دیتا ہے۔
آیئے مختصراً یہ واقعہ پڑھتے ہیں ، اس کو بیان کرنے والے بھی عثمان بن طلحہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں :
ہم زمانہ جاہلیت میں پیر ا ور جمعرات کو بیت اللہ شریف کا دروازہ کھولا کرتے تھے۔ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ  تشریف لائے۔ آپ ﷺ بیت اللہ شریف میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ عثمان کہتے ہیں: میں نے داخل نہ ہونے دیااور آپﷺ سے سختی و بد تمیزی کی۔
اس کے جواب میں اللہ کے رسول ﷺ  کا رویہ بھی بیان کرتے ہیں: آپ ﷺ نے میرے ساتھ تحمل سے کام لیا اور فرمایا:
’’ عثمان! ایک دن آئے گا جب تم دیکھو گے کہ یہ چابی میرے ہاتھ میں ہوگی،میں جس کو چاہوں گا اسے عطا کروں گا۔ ‘ق
عثمان کہتے ہیں : میں نے آپﷺ سے کہا: کیا اس دن قریش ذلیل وخوار اور ہلاک ہوچکے ہوں گے؟۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: 
’’نہیں! بلکہ وہ تو بہت آباد اور باعزت ہوں گے ۔‘‘
قارئین کرام! وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ آٹھویں ہجری میں مکہ فتح ہوا۔ اللہ کے رسول ﷺ  فاتحانہ انداز میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہیں مگر ذرا غور کیجیے، اس قدر تواضع کے ساتھ کہ آپﷺ کی گردن اللہ کے حضور میں جھکی ہوئی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ  مسجد حرام میں تشریف فرما ہیں۔ سیدنا علیؓ بن ابی طالب کے ہاتھ میں بیت اللہ کی چابی ہے۔ وہ عرض کررہے ہیں کہ حجاج کوپانی پلانے کا اعزاز تو بنو ہاشم کو حاصل ہے۔ اب بیت اللہ کی کلید برادری کا اعزاز بھی ہمارے پاس جمع فرما دیجیے مگر اللہ کے رسول ﷺ  فرمارہے ہیں:
’’ عثمان بن طلحہ کہاں ہیں ؟ انہیں بلاؤ۔‘‘
وہ آئے تو آپ ﷺنے فرمایا: 
’’عثمان! یہ لو اپنی کنجی سنبھالو، آج کا دن نیکی اور وفاداری کا دن ہے۔‘‘
قارئین کرام!فتح مکہ کے فورا ًبعد آپﷺ  حنین کے میدان میں عرب کے2 بڑے قبیلوں بنو ہوازن اور بنو ثقیف کو شکست دیتے ہیں۔ اسلام پورے خطۂ عرب میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ تھوڑا سا غور کیجیے! اللہ کے رسول ﷺ نے کس طرح بے سروسامانی کے عالم میں مکہ کو چھوڑا تھا کہ آپﷺ  سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ کے گھر کی پچھلی طرف سے نکلتے ہیں۔ غار ثور میں 3 روزہ قیام کے بعد کفار کا پیچھا کرنا اور پھر جب آپ ﷺ غار ثور سے عبداللہ بن اریقط کی رہنمائی میں مدینہ طیبہ روانہ ہوتے ہیں تو آپ ﷺ کا رخ مدینہ کی طرف نہیں بلکہ یمن کی طرف تھا۔2 اونٹوں اور4 شخصیات پر مشتمل یہ قافلہ اس طرح شمال کا رخ کرتا ہے کہ پہلے جنوب کی طرف دور تک جاتے ہیں۔ پھر ایسے راستے کا انتخاب ہوتا ہے جہاں پر بہت کم لوگ سفر کرتے تھے۔
آئیے قارئین اس موقعے پر ایک اور سنہرا منظر آپ کو دکھا کر آگے بڑھتے ہیں اور پھر آپ کو بتاتے ہیں کہ ان مناظر کی تعبیر کیا سامنے آتی ہے اور عقیدۂ توحید کی دعوت کا یہ کام کس تیزی کے ساتھ زمین کے کونے کونے تک پھیلتا ہے۔
ہجرت کے مسافروں کا یہ قافلہ جب بنو مدلج کے علاقے قدید سے گزررہا تھا تو اسے بنو مد لج کے بدو سردار سراقہ بن مالک نے روکنے کی ناکام کوشش کی تھی۔لمبے قد کا یہ بدو بہت بڑا شہسوار تھا۔ اسے قریش کے اعلان کی خبر مل چکی تھی کہ جو شخص (معاذ اللہ) رسول اللہﷺ   کو زندہ یا مردہ حالت میں پکڑ کر لائے گا اسے 100 اونٹوں کا انعام ملے گا۔سراقہ انعام کے لالچ میں پیچھا کرنے لگا۔ اس نے فال بھی نکالی جس کا نتیجہ اس کی خواہش کے برعکس نکلا ۔ فال کے مطابق قافلے کے پیچھے جانے میں اسے کوئی فائدہ نہ تھا مگر اسے تو 100 اونٹوں کے انعام کی ہوس نے اندھا کر دیا تھا۔ اس نے فال کو نظر انداز کردیا۔ ادھر اللہ کے رسول ﷺ کی زبان اقدس سے نکلا:ا
’’اے اللہ! تو جیسے چاہے ہمیں اس سے بچالے۔ ‘‘
اِدھر اللہ کے رسول ﷺ کی زبان سے یہ کلمات نکلے، اُدھر سراقہ کے گھوڑے کے اگلے دونوں پاؤں سخت زمین میں دھنس گئے اور وہ لڑکھڑا کر گر پڑا۔ اس نے متعدد مرتبہ آپ ﷺ کاپیچھا کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اب اس کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جو بھی اس قافلے کا پیچھا کرے گا، برباد و ہلاک ہوجائے گا۔ اس کو یقین ہوگیا کہ( حضرت) محمد (ﷺ) غالب ہوکر رہیںگے۔
سراقہ امان کا طلب گار ہوا جو اسے مل گئی ۔ سراقہ نے کہا:میرے لئے پروانۂ امن لکھ دیجیے جو میرے اور آپ ﷺکے درمیان نشانی کے طور پر رہے گا ۔رسول اللہﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ  کے غلام عامر بن فہیرہ کو حکم دیا کہ سراقہ کو امان نامہ لکھ دو۔ سراقہ نے اللہ کے رسولﷺ کو قریش کے عزائم اور100 اونٹوں کے انعام کے بارے میں آگاہ کیا۔ آپﷺ کو زادِراہ اور سازوسامان کی پیش کش کی مگر آپ ﷺ نے کسی بھی قسم کا سامان لینے سے انکار کردیا اور صرف یہ فرمایا:
’’ہمارے بارے میں راز داری سے کام لینا۔‘‘
سراقہ نے یہ امان نامہ سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ اللہ کے رسولﷺ  غزوئہ حنین کے موقع پر جعرانہ میں قیام فرما تھے ۔ انصاری صحابہ کرامؓ  کی ایک جماعت اللہ کے رسول ﷺ  کا پہرہ دے رہی تھی تاکہ اجازت کے بغیر کوئی آگے نہ جاسکے۔بنو مدلج کا یہ بدو سردار تمام رکاوٹوں کو عبور کرتا ہوا آگے بڑھ رہاتھا۔صحابہ کرامؓ اسے روکنے لگے:ارے ، ارے کہاں جاتے ہو، کیا چاہتے ہو؟۔ سراقہ کی یہ شان ہے کہ اس نے وہی ا مان نامہ اپنی جیب سے نکالا۔ اُدھر اللہ کے رسولﷺ  بھی اس کی آواز سن رہے تھے۔ اس نے اپنی دونوں انگلیوں میں اس دستاویز کو بلند کیا اور قدرے اونچی آواز میں کہنے لگا: یا رسول اللہﷺ ! میں ہوں سراقہ بن مالک بن جعشم اور یہ رہی میری دستاویز۔اللہ کے رسول ﷺ نے سراقہ کی طرف دیکھا، آپ ﷺکے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ وہ وقت یاد آگیا جب قدید کے علاقے میں اس بدو نے آپ ﷺ کا پیچھا کیا تھا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: 
’’آج وفا نبھانے ، نیکی اور احسان کرنے کا دن ہے، اسے میرے قریب آنے دو۔‘‘
سراقہ اللہ کے رسولﷺ کے قریب ہوا، آپﷺ  کو سلام کیا اور اسلام قبول کرلیا اور صحابی ہونے کا شرف حاصل کرلیا۔ سراقہ نے اللہ کے رسولﷺ سے ایک سوال کیا:اے اللہ کے رسولﷺ! میں اپنے اونٹوں کیلئے حوضوں میں پانی بھرتا ہوں۔ میرے اونٹوں کے علاوہ دیگر لوگوں کے اونٹ بھی وہاں آجاتے ہیں۔ اگر میں ان کو بھی پانی پلاؤں تو کیا میرے لئے اجر ہے؟ اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ہر جاندار چیز کے ساتھ بھلائی کرنے میں اجر وثواب ہے۔‘‘
مکہ مکرمہ اللہ کے رسول ﷺ  کو نہایت محبوب شہر تھا۔ یہ آپ ﷺ کے آباء واجداد کی بستی تھی اور یہاں پر آپﷺ کے جد امجد سیدنا ابراہیم ؑاور سیدنا اسماعیل ؑکے ہاتھوں سے بنا ہوا بیت اللہ تھا۔یہ وہی عظیم مکہ ہے جسے چھوڑتے وقت آپﷺ نے فرمایا تھا : 
’’اے مکہ! تو کتنا عظیم ہے! اگر تیرے باسی تجھے چھوڑنے پر مجھے مجبور نہ کرتے تو میں کبھی تمہیں نہ چھوڑ تا۔‘ق
اب ذرا دیکھئے کہ چند برس کے بعد عرب کا نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی وفات کے وقت ہجرت کے 11ویںسال10 لاکھ مربع میل پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔
اب تھوڑا سا دیکھتے ہیں کہ مسلمان مجاہدین کس تیزی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ غزوۂ بدر2 ہجری میں ہو ا۔ آپ ﷺکے ساتھ 313صحابی تھے۔ غزوۂ احد3 ہجری میں ہو ا ،آپ ﷺکے ساتھ 700صحابہ کرام تھے۔ غزوہ احد کے اختتام پر رسول اللہ ﷺ کو چیلنج دیا تھا کہ آئندہ سال بدر میں آپﷺ کے ساتھ پھر مقابلہ ہو گاچنانچہ آپﷺ 4 ہجری میں 1500صحابہ کے ساتھ بدرکے میدان میں پہنچ جاتے ہیں۔ صحابہ کرام کے ساتھ مالِ تجارت بھی تھا ۔ بدر کا بازار اس وقت بھی بڑی اہم اور مشہور تھی اور آج بھی ہے۔ مسلمانوں نے مالِ تجارت فروخت کیا۔ ایک درہم کے2 درہم بنائے۔ دشمن کا انتظار کرتے رہے مگر ابو سفیان مکہ سے جب نکلا تو اس کی جنگ کرنے کی نیت نہ تھی ۔ اس نے ایک 2منزلیں طے کرنے کے بعد ہی یہ کہتے ہوئے واپسی کا اعلان کیا کہ جنگ کیلئے خاص موسم ہوتا ہے جو اس وقت مناسب نہیں۔غزوہ ٔخندق میں مسلمانوں کی تعداد 3 ہزار تھی۔ فتح مکہ کے موقع پر10 ہزار جانثار آپﷺ کے ارد گرد تھے۔ غزوہ حنین میں 12ہزار اور غزوہ تبوک میں30 ہزار صحابہ کرامؓ  آپﷺ کے جلو میں تھے۔جب آپﷺ حجۃ الوداع کرتے ہیں تو آپ ﷺکے ساتھ ایک لاکھ 24ہزار صحابہ کرام موجود تھے۔ 
(جاری ہے)
 
 
   
 

شیئر: