ماضی کی تنقید

شاید ماضی میں اسی طرح کی تنقید پی ٹی آئی سربراہ نے کی تھی جس پر آج انہیں حکومت میں رہتے ہوئے اب اپوزیشن کی تیکھی اورکڑوی کسیلی باتیں برداشت کرنا ہونگی
زبیر پٹیل۔ جدہ
کسی سیانے کا کہناہے کہ نرم دل لوگ بے وقوف نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ لوگ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ نظر انداز کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ایک خوبصورت دل ہوتا ہے۔
بات نرم دلی کی ہورہی تھی تو نرم اور سادہ دل ہمارے وزیراعظم بھی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں ایک اچھی بات کہی۔ اگر انکی اس بات پر غور کیا جائے تو قابل قدر بات ہے مگر ہمارے سیاستدانوں کو تو ہر بات میں اپنا مطلب نکالنے کی عادت سی بن گئی ہے۔ یہ لوگ اپنے مطلب کی بات بہت آسانی سے مان لیتے ہیں اور جہاں انکی مرضی کےخلاف کوئی بات آئے تو یہ اسکے ”پرخچے“ اڑانا شروع کردیتے ہیں۔جو سراسر غلط ہے۔اپوزیشن کو برداشت کا بھی مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ہر بات پرغلط تبصرہ اچھی عادت نہیں۔
گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے مرغیوں اور انڈوں کے حوالے سے جو بات کہی اور اس حوالے سے جو کچھ کہا ،اسکا مطلب یہ تھا کہ ہمارے یہاں اگر کوئی ایشیائی فرد کارآمد بات کہہ دے تو اسے مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر یہی بات جب کوئی گورا کہے تو قابل تعریف اور رشک کی نظروں سے اسے دیکھا جاتا ہے اور اسکی تعریف میں زمین آسمان ایک کردیئے جاتے ہیں۔ شاید اسی لئے ہمارے سیاستدانوں کو ”دوغلا“ کہا جاتا ہے۔دبئی میں جائداد کے حوالے سے عمران خان کی ہمشیرہ پر بھی تنقید کے تیر برسانے میں بھی پیچھے نہ رہے۔ شاید ماضی میں اسی طرح کی تنقید پی ٹی آئی سربراہ نے کی تھی جس پر آج انہیں حکومت میں رہتے ہوئے اب اپوزیشن کی تیکھی اورکڑوی کسیلی باتیں برداشت کرنا ہونگی۔ پاک و ہند میں اپوز یشن دو دھاری تلوار کی طرح ہوتی ہے جس سے کٹنے کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 
 

شیئر:

متعلقہ خبریں