برطانیہ میں نرسوں کی قلت

لندن.... برطانوی محکمہ صحت پر کئی برسوں سے مسلسل طرح طرح کی تنقیدیں ہورہی ہیں۔ کبھی کبھار اسپتالوں کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے تو کبھی میڈیکل اسٹاف کی قلت کا۔ جن اسپتالوں میں کچھ کام ہو تا بھی ہے تو وہاں ڈاکٹروں اور میڈیکل عملے کے دیگر ارکان کی عدم توجہی اور لاپروائی کی شکایت عام ہوتی ہے۔کئی اسپتالوں میں ڈاکٹروں سے وقت حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ وقت مل جائے تو ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتا۔ ان تمام مسائل کے موجود رہنے کے دوران اب تازہ ترین انکشاف یہ ہے کہ ملک میں نرسوں کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت کا کہناہے کہ اس کے یہاں تقریباً42ہزار نرسوں کی قلت ہے۔ باقاعدہ نرسنگ کرنے کیلئے عملہ بمشکل تیار ہوتا ہے اور یہ جگہ رضا کاروں کے ذریعے پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر رضاکار خاطر خواہ تعداد میں اسپتالوں اورمحکمہ صحت سے رجوع نہیں کررہے جس کا اثر اسپتالوں کی کارکردگی اور مریضوں کی صحت پر پڑرہا ہے۔اس وقت بھی نرسنگ کا جو تھوڑا بہت کام ہورہا ہے وہ بہت محدود ہے جو رضاکار پہلے آتے تھے ان میں کام کا جذبہ بھی ہوتا تھا۔ لوگوں کی خدمت کا شوق بھی اور وہ بنیادی طور پر انتہائی رحمدل ہوتے تھے مگر آج وہ کیفیت نہیں۔ مرد نرس بالعموم کم دستیاب ہوتے ہیں۔
 
 

شیئر: