سعودی عرب فلسطینی کاز کا دائمی وفادار

ڈاکٹر ابراہیم بن محمود النحاس۔ الریاض
وفاداری سعودی عرب اور اسکے قائدین کا نشان امتیاز ہے۔ عربوں اور مسلمانوںکے مسائل سے وفاداری سعودی عرب کا شیوہ ہے۔ سعودی قائدین مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کے خدمت گار اور پاسبان ہیں۔ سعودی عرب اور اسکے قائدین اس پر نہ کسی سے شکر چاہتے ہیں اور نہ ہی تحسین۔ انکا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا او راس کی خوشنودی کا حصول ہے۔ اسلام اور اسکے پیرو کاروں کی گتھیاں سلجھانا مملکت کی غیر متزلزل پالیسیا ں ہیں۔ مسلم مسائل میں مسئلہ فلسطین کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ عالمی برادری کے تمام فریقوں کے ساتھ انتھک رابطے اور فلسطینیوں کی بلا انقطاع اقتصادی ، مالی اور مادی مدد اس پالیسی کا عملی اظہار ہیں۔ 
فلسطین کی مدد کرنے والوں میں سعودی عرب ہمیشہ سرفہرست رہا ہے۔ آج بھی ہے اور کل بھی رہیگا۔ ایسا اسلامی اقدار پر ایمان و یقین کا نتیجہ ہے۔ سعودی عرب اقوام متحدہ کے ماتحت ایجنسی (اونروا) کی سرپرستی اسی جذبے سے کررہا ہے۔ یہ ایجنسی مشرق قریب میں فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد اور انہیں روزگار دلانے کیلئے قائم کی گئی ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے ماتحت خود مختار ایجنسی ہے۔ اسکی جانب سے فلسطینیوں کی مدد پر سعودی عرب سے ممنونیت اور قدرو منزلت کا اظہار فلسطینی عوام کیلئے اس بات کا کھلا پیغام ہے کہ سعودی عرب ان سے نہ تو کبھی دستبردار ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ وہ مسئلہ فلسطین کے دشمنوں کی لن ترانیوں ، گمراہ کن دعوﺅں اور مسئلہ فلسطین سے اپنی سیاست کی دکانیں چمکانے والے صحافیوں اور سیاستدانوں کی پروا نہیں کرتا۔
اونروا نے 29نومبر 2018ءکو اپنی ویب سائٹ میں تحریر کیا ہے کہ شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات اور ایجنسی کے کمشنر بیر کرینبول نے 50ملین ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ یہ معاہدہ اونروا کو اپنی خدمات جاری رکھنے میں معاون بنے گا۔ یہ اونروا سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی گہری دلچسپی کا آئینہ دار ہے۔ سعودی عرب کے اس عطیے کے باعث اونروا کا بجٹ خسارہ بھی کم ہوگا۔ اونروا نے 711اسکول فلسطینی بچوں کےلئے کھول دیئے ہیں جہاں غرب ارد ن، مشرقی القدس، غزہ پٹی، اردن، لبنان اور شام سے5لاکھ26ہزارفلسطینی طلباءو طالبات فیض یاب ہونگے۔ اونروا نے 140ہیلتھ سینٹرز بھی فلسطینیوں کو صحت خدمات فراہم کرنے کیلئے کھول رکھے ہیں۔ ان سے 30لاکھ فلسطینی صحت خدمات حاصل کررہے ہیں۔ سعودی عرب، اونروا کو 160ملین ڈالر سے زیادہ کے عطیات اس سال دے چکا ہے۔ سعودی عرب اونروا کا مستقل شریک عمل ہے۔ 
اونروا نے 30نومبر 2018 ءکو اپنی ویب سائٹ میں یہ بھی بتایا کہ سعودی ترقیاتی فنڈ نے غزہ پٹی ، غرب اردن اور اردن میں فلسطینی عوام کو تعلیمی، صحت اور دیگر خدمات فراہم کرنے کیلئے 63ملین ڈالر کا عطیہ پیش کیا ہے۔ اونروا کے کمشنرنے اس حوالے سے اپنے ٹویٹ میں تحریر کیا کہ” میں سعودی عوام و حکومت کا انتہائی ممنون ہوں ۔ ہمیں مملکت سے برسہا برس سے مسلسل مدد مل رہی ہے۔ سعودی ترقیاتی فنڈ فلسطینی عوام کی مدد میں ہمارا ساتھ دے رہا ہے“۔ اونروا نے یہ بھی تحریر کیا کہ” سعودی عرب پابندی سے اونروا کو عطیات دینے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ وہ اس سے قبل 735ملین ڈالر کا عطیہ دے چکا ہے۔2018 ءمیں مملکت کی مدد کی بدولت ہی فلسطینی پناہ گزینوں کو اہم خدمات پیش کرنا ممکن ہوسکا“۔
اونروا کے کمشنر نے فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کے حوالے سے جو کچھ تحریر کیا وہ سعودی قائدین کی جانب سے فلسطینی عوام کیلئے لامحدود تعاون کے جذبات کے اظہار سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔ فلسطینی عوام بھی ہر موقع پر اسکا اعتراف کرتے رہتے ہیں۔ یکم دسمبر 2018ءکو تنظیم آزادی فلسطین کی مجلس عاملہ کے رکن اور پناہ گزینوں کے امو رکے ادارے کے سربراہ احمد ابو ھولی نے کہا کہ سعودی عرب نے اونروا کی جو مدد کی ہے وہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان کی زیر قیادت مسئلہ فلسطین اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی تائید و حمایت کا عملی اظہار ہے۔ 
سعودی عرب حرمین شریفین کی خدمت کے باب میں جو کچھ کررہا ہے، اسکا عملی ثبوت ضیوف الرحمن کو پیش کی جانے والی خدمات ہیں۔ انکا اعتراف ہر زائر کو ہے۔ اسی طرح سعودی عرب عربوں اور مسلمانوں کے حقوق کے دفاع میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔ عالمی برادری اسکی شاہد ہے۔ مملکت کی یہی غیر متزلزل پالیسی ہے۔ آنے والا مورخ اس حوالے سے سعودی عرب کی خدمات کا ذکر زریں حروف میں کریگا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: