رتبے کی اونچائی

سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار” الریاض“ کا اداریہ 
کسی بھی ملک کو عالمی برادری میں مقام بلند حاصل کرنا آسان نہیں۔ عالمی برادری سے اپنا احترام اور اپنی عزت کرانے کیلئے بین الاقوامی سیاسی اور اقتصادی رجحانات اپنانا ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی عمل میں موثر شریک فریق بننے کیلئے بین الاقوامی بننا پڑتا ہے۔ مختلف الفکر اور مختلف الرای سیاست، اہداف اور رجحانات رکھنے والے عالمی فریقوں سے اپنے آپ کو منوانے کیلئے اعتبار کا رشتہ استوار کرنا پڑتا ہے۔ 
ہم ہمیشہ عالمی برادری میں سعودی عرب کے مقام و مرتبے کی بات کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ سعودی عرب کی قیادت منصوبہ بند شکل میں اقتصادی اور سیاسی راستہ او ر متوازن فکر و عمل کو اپنی پہچان بنائے ہوئے ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ عرب ممالک اور جی 20میں موثر شرکت سے ہمارے خیال کو تقویت پہنچی ہے۔ سعودی ولی عہد نے عرب ممالک کا دورہ کرکے یہ واضح پیغام دیا کہ سعودی عرب مشترکہ عرب جدوجہد اور عربوں کیساتھ اپنے رشتے مضبوط و مستحکم رکھنے کے سلسلے میں سنجیدہ ہے۔ عربوں کی ترقی و خوشحالی مملکت کا مشن ہے۔ مملکت عرب اتحاد و اتفاق سے بال برابر بھی منحرف نہیں۔ عربوں کا پراگندہ شیرازہ جمع کرنا اسکا مشن تھا ، ہے اور رہیگا۔ ولی عہد نے جی 20میں شرکت کرکے مملکت کے عالمی کردار کو اجاگرکیا۔ اس سے سعودی عرب کے سیاسی اور اقتصادی اثر و رسوخ اور عالمی معیشت میں مملکت کے غیر متزلزل کردار کو تقویت پہنچی۔ 2020 میں جی 20کی میزبانی اور جی 20کی سہ ملکی کمیٹی میں مملکت کی شمولیت سعودی عرب پر عالمی اعتماد اور اسکے عالمی کردار کا اعتراف ہے۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: