پلی بارگین قانون یورپ میں بھی ہے،ڈی جی نیب

لاہور... احتساب بیورو لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم نے کہا ہے کہ پلی بارگین کا قانون یورپ اور امریکہ میں بھی ہے لیکن یہاں اسے متنازعہ بنا دیا گیا ۔پلی بارگین جوڈیشل آڈر ہے جو چیئرمین نیب نہیں بلکہ جج کرتے ہیں ۔ڈیڑھ سال کے عرصے میں 6ارب62کروڑ روپے لٹیروں سے واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائے ۔ 5ارب 33کروڑ کے پلاٹس،زمینیں اور عمارتیں لوگوں کو واپس کرائی گئیں ۔نیب میں گرفتار تمام ملزمان کی اہل خانہ سے ملاقات کراتے ہیں ۔ غریب نیب میں جاتا ہے تو جیل ٹھیک ۔ امیر جائے توعقوبت خانے میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔بعض کی تو دو ،دو اورتین ،تین بیویاں ملنے آتی ہیں ۔ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے کہا کہ نیب کا سوفٹ امیج عوام تک نہیں پہنچتا ۔ ہماری تو کوشش ہے کہ معاشرے سے برائیاں کم سے کم ہو جائیں اورسرے سے کرپشن نہ ہو تاکہ ہم لوگوں کو نہ پکڑیں اور باتیں بھی نہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم کے ثبوت کو ڈھونڈنا بہت مشکل ہوتا ہے جو کرپشن کرتے ہیں وہ ثبوت اور شواہد مٹا دیتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس طرح کی کرپشن کر پکڑنے میں پانچ سے چھ سال لگ جاتے ہیں لیکن یہاں ہم اسے ایک سال میں منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

شیئر: