اسد شفیق کی سنچری ، دیر آید درست آید

ابوظبی: 2سال بعد ٹیسٹ سنچری بنانے والے پاکستانی بیٹسمین اور نائب کپتان اسد شفیق کا کہنا ہے کہ کوئی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے اور کیا کہتا ہے مجھے اس کی پروا نہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ کے تیسرے دن مشکل صورتحال میں 104 رنز بنانے والے اسد شفیق کا کہنا تھا کہ اس سال یہ ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری ہے جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان اور مصباح الحق کے جانے کے بعد ان پر اور اظہر علی کے کندھوں پر جو ذمہ داری پڑی ہے، اسے وہ نبھانے کی کوشش کرتے ہیں اور خوشی ہے کہ کئی اننگز کے بعد ان کی سابق کپتان کے ساتھ ڈبل سنچری کی شراکت ہوئی۔دائیں ہاتھ کے مڈل آرڈر بیٹسمین کا کہنا تھا کہ اظہر کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعد میں آنے والے بیٹسمین زیادہ رنز نہ بنا سکے اور نیوزی لینڈ کے خلاف بڑی برتری حاصل نہ ہو سکی ۔ نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز ابوظبی میں چوتھی اننگز کھیلنا ہرگز آسان نہیں ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں اسد شفیق نے کہا یونس بھائی اور مصباح بھائی جیسا تو کوئی نہیں البتہ بابر اعظم اور حارث سہیل کو آپ سراہ سکتے ہیں کیونکہ وہ مسلسل رنز کر رہے ہیں۔ اسد شفیق کا کہنا تھا کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،کون میرے بارے میں کیا کہتا ہے یا کیا سوچتا ہے کیونکہ میرا کام اپنے ملک کی نمائندگی کرنا اور بہتر کارکردگی دکھانا ہے۔ و میں کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ 2010ءمیں ابوظبی میں جنوبی افریقہ کیخلاف پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے اسد شفیق 66 واں ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔
 کھیلوں کی مزید خبریں اور تجزیئے پڑھنے کیلئے واٹس ایپ گروپ"اردو نیوزاسپورٹس"جوائن کریں

شیئر: