رام مندر کی تعمیر ،عوام لاتعلق

***سید اجمل حسین ۔دہلی***
6دسمبر آئی بھی اور چلی بھی گئی لیکن ہر سال کی طرح یہ 6دسمبر بھی بس حکمراں جماعت کو رام مندر تعمیر کرنے کا الٹی میٹم دینے اور عوامی جذبات سے آگاہ کرنے کی حد تک محدود رہا۔ہونا یہ چاہیے تھا کہ رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کرنے، حکمراں پارٹی کو اس کے لیے اس کا وعدہ یاد دلانے اور مظاہرہ کرنے کے لیے دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں جمع ہو نے والوں کو صرف بر سر اقتدار لوگوں کو ہی ان کا وعدہ نہیں یاد دلانا چاہئے تھا  بلکہ ان شخصیات کا جنہوں نے6دسمبر1992کو شتر بے مہار جیسے لوگوں پر مشتمل بھیڑ کو اکسا کر بابری مسجد منہدم کراکے تاریخ میں اپنا نام درج کرایا تھا ، شکریہ ادا کر کے انہیں ایک بار پھر اس مقصد کی تکمیل کے لیے منظر عام پر آنے اور اپنے ادھورے تاریخی کارنامہ میں ’’چار چاند‘‘ لگانے کے لیے میدان عمل میں کود پڑنے کے لیے مجبور کرنا چاہیے تھا ۔ جب وہ شخصیات بابری مسجد ڈھانے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کو سیاسی افق پر زور شور کے ساتھ نمودا رکر سکتی ہیں اور پارلیمنٹ میں اس کے عدم وجود کو 100سے زائد سیٹوں سے مبدل کر سکتی ہیں تو 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں اسے سب سے بڑی واحد پارٹی کا درجہ دلا کر اقتدار میں واپسی کے امکانات روشن کرنے کے لیے رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیادرکھنے کا کارنامہ بھی انجام دے سکتی ہیں ۔ بس ضرورت اس بات کی تھی کہ رام مندر کی تعمیر کرنے والے ان شخصیات کا دامن تھامیں لیکن ایسا کر کے کوئی بھی بی جے پی لیڈر اپنی موجودہ قیادت کی ناراضی مول لے کر ٹکٹ سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہونا نہیں چاہے گا۔ جن لیڈروں نے بابری مسجد گرانے اور اس کے لیے راہیں ہموار کرنے کے ساتھ پارٹی کی ایوان اقتدار تک رسائی کی راہ ہموار کی تھی وہ سر د خانہ میں ڈالے جا چکے ہیں ۔ نئی قیادت پرانی اور بوڑھی قیادت کی گود میں بیٹھ کر حکومت سازی کرنے کے حق میں نہیں تھی۔اسی لیے انہیں طاق میں گڈے کی طرح سجاکر بٹھا دیا گیا جہاں سے بس وہ ٹکر ٹکر دیکھ تو سکتے ہیں کسی کام میں اڑنگا نہیں ڈال سکتے۔ ویسے بھی اگر ہندوتوا کے حامی چاہیں بھی تو وہ سومناتھ سے اجودھیا تک رتھ یاترا نکالنے والی اس دور کی نہایت طاقتور و بااختیار شخصیات کی خدمات حاصل نہیں کر سکیں گے کیونکہ یہ شخصیات نئی پود کا شاہ بلوط میںبدلتا دیکھ کر یقیناً چوکنا ہو گئی ہوں گی اور اب ہر گز نہیں چاہیں گی کہ ایک بار پھر رتھ یاترا جیساسفر کر کے وہ شاہ بلوط بننے والی قیادت کو اور اتنا مضبوط کردیں کہ جس طرح اشوک سنگھل اوراٹل بہاری باجپئی کی موت بی جے پی اور ہندو تو حامیوں کے لیے کہنی کی چوٹ ثابت ہوئی۔ انکو بھی ان کی موت کے بعد ایسے ہی نہ فراموش کر دیا جائے جبکہ اشوک سنگھل خاص طور پر بعد از مرگ کسی اعزاز کے مستحق تھے لیکن نئی قیادت ان میں سے کسی کو اعزاز بخش کر اپنی طرف سے عوام کی توجہ نہیں بھٹکانا چاہتی تھی۔ یہ اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، اشوک سنگھل اور کلیان سنگھ ہی تھے جن کی بدولت 1996میں بی جے پی اس وقت اپنے اصل مقصد میں کامیاب ہو گئی جب نہ صرف وہ سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھر چکی تھی بلکہ13روز کی حکومت بنا کر ایک تاریخ بھی رچی تھی۔1998میں پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آئی ۔اس حکومت میں لال کشن اڈوانی وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم رہ چکے تھے لیکن اس کے بعد جیسے جیسے نریندر مودی کا پارٹی میں اثر و رسوخ بڑھتا گیا اڈوانی حاشیہ پر جاتے رہے ۔ نوبت بہ اینجاہ رسید کہ آج وہ سوائے ٹکر ٹکر دیکھنے کے کچھ نہیں کر سکتے۔اوما بھارتی بھی جن کی شناخت ہی رام جنم بھومی تحریک سے ہوئی تھی اور ان چند لیڈروں میں شامل تھیں جنہوں نے بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کو زور زور سے اشتعال انگیز نعرے لگا کر مسجد ڈھادینے پر اکسایا تھا اور انہیں اس کا صلہ یہ ملا کہ مدھیہ پردیش میں کوئی عمل دخل نہیں ہے کیونکہ اگر ان کا عمل دخل ہوا تو بی جے پی قیادت عدم ارتکاز کا شکار ہو سکتی ہے اس لیے وہ بھی بتدریج سرد خانہ میں پہنچائی جا رہی ہیں ۔ شاید انہوں نے بھی اپنا مستقبل بھانپ لیا ہے اسی لیے انہوں نے 2019کے لوک سبھا انتخابات لڑنے سے انکار کر دیا۔اشوک سنگھل جنہیں رام مندر تحریک کا معمار کہا جاتا تھا اور اس تحریک کے سب سے نمایاں چہرہ تھے راکھ ہو گئے لیکن بی جے پی، ہندو پریشد اور آر ایس ایس نے ان کا کبھی نام تک نہیں لیا حالانکہ1980میں اجودھیا تحریک کو انہوں نے ہی زندہ کیا تھا۔انہوں1984میں رام جانکی رتھ یاترا شروع کی تھی۔بابری مسجد گرانے کے 23سال بعد تک زندہ رہے لیکن جوں جوں وقت گزرتا رہا وہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل بنتے گئے۔ یہاں تک کہ 2015میں چل بسے اور آج انہیں کوئی یاد تک نہیںکر رہا۔اب انہی لیڈروں کا حشر دیکھ کرساکشی مہاراج، سبرامنیم سوامی، گری راج سنگھ اور انل وج جیسے لوگوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اب تو خود عوام بھی رام مندر بابری مسجد جیسے معاملہ کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے۔کہیںایسا نہ ہو کہ جس معاملہ کو ابھی تک موضوع بنا کر یہ لیڈر سیاسی دنگل جیتتے رہے کہیں میدان سے باہر نہ پھینک دیے جائیں۔
 

شیئر: