Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا نیا امریکی بہانہ

***سجاد وریاہ ***
امریکہ نے مختلف ممالک میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں اور اقلیتوں سے نامناسب سلوک کی بنیاد پر ایک رپورٹ جاری کی تھی،اس رپورٹ میں ایک لسٹ کو ترتیب دیا گیا ہے جس کو بلیک لسٹ کا نام دیا گیا ہے،جس میں چند اہم ممالک کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا۔ ان میں چین ،ایران ،اریٹریا،میانمار ،سوڈان،تاجکستان اور ترکمانستان کے علاوہ پاکستان بھی شامل تھا تاہم اسلام آباد کی جانب سے شدید ردعمل کے اظہار کے بعد پاکستان کو اس لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ امریکی بلیک لسٹ کے مطابق ان ملکوں پر الزام یہ ہے کہ وہاں باقاعدہ منظم طریقے سے مذہبی آزادی کے خلاف کام ہو رہا ہے۔ ایک دوسری لسٹ بھی جاری کی گئی ہے جس کو واچ لسٹ کا نام دیا گیا ہے اس میں ان ممالک کو شامل کیا گیا ہے جن کی اب نگرانی کی جائے گی کہ وہاں مذہبی آزادیوں کا معیار کیا ہے؟۔ان میں روس،ازبکستان اور کوموروس شامل ہیں۔ بلیک لسٹ جاری میں ڈالنے کا امریکہ کا مقصد مذہبی حوالوں اور اقلیتوں کے لیے اصلاحات کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈالنا تھا۔امریکہ نے ایک سال قبل خبردار کرتے ہو ئے پاکستان کا نام واچ لسٹ میں شا مل کیا تھا ۔گزشتہ سال رپورٹ جاری کی گئی جس کے مطابق پاکستان ،مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔مذہبی آزادی پر امریکہ کے سفیر سیموئیل برون بیک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہند میں بھی بعض مذاہب کو آزادی حاصل نہیں ہے لیکن ہم اس کا نام واچ لسٹ میں نہیں ڈال رہے۔
امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے لیے امریکہ کے کردار کا ایک اظہار ہے۔یہ رپورٹ امریکی اورعالمی اقدار کے تحفظ کے لیے امریکی سفارتکاروں کی محنت کا ثبوت ہے۔یہ رپورٹ 200 ممالک میںحکومتوں ،دہشتگرد گروپوں اور انفرادی شخصیات کی جانب سے مذہبی آزادی کو پامال کرنے اور اس کے حل کا احاطہ کرتی ہے۔اسی سال 25 اور 26 جولائی کو امریکا میںمذہبی آزادی پر وزراء کی پر سطح پر پہلی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔کانفرنس میں مذہبی تنظیموں،ہم خیال حکومتوں ،عالمی تنظیموں اور سِول سوسائٹی کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔اسی کانفرنس میں پاکستان کا نام واچ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔
دو روز قبل امریکہ نے اقلیتوں سے نارروا سلوک کا الزام لگا کر پاکستان کو تشویش ناک ممالک کی لسٹ میں شامل کر لیا تھا تاہم 24 گھنٹے بعد ہی اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس فیصلے کا واحد مقصد امریکہ کی جانب سے پاکستان پر دباؤ بڑھانا تھا ۔ امریکہ اسلام آباد پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن حربہ آزما رہا ہے اور روز نت نئے طریقے بھی ڈھونڈتا رہتا ہے۔ 
میں سمجھتا ہوں اس رپورٹ کے اجرا کے2 پہلو ہو سکتے تھے،ایک تو یہ کہ کیا واقعی ہمیں اپنی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے؟یا یہ بھی امریکہ کی سازش تھی؟دوسرا پہلو یہ بھی ہو سکتا تھا کہ امریکا کی ٹھیکید اری صرف پاکستان ،چین اور ایران پر ہی کیوں نافذ ہوئی ؟ان دونوں حوالوں سے اگرتجزیہ کیا جائے تو کیا پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کو تمام مذاہب کی آزادی کا گہوارہ بنانا ہو گا،جس کے لیے حکومتی اور بین المذاہب تعاون کی بنیاد پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔اسلام کے منشور کے مطابق اسلامی ریاست اقلیتوں کے تحفظ کی ضامن ہو تی ہے۔کسی بھی طرح کے جتھوں کو اجازت نہیں ہو نی چاہئے کہ وہ کسی بھی مذہب کے حقوق کی پامالی کر سکیں۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا امریکی کی رپورٹ دیانتدارانہ اور غیر متعصبانہ ہے ؟کیا اس کے پیچھے سیاسی محرکات نہیں ہیں؟کیا امریکہ واقعی دنیا بھر کے مذاہب کا احترام کرتا ہے اور سب کی مذہبی آزادی کا احترام کرتا ہے اور چاہتا ہے؟میں سمجھتا ہوں یہ تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہو گا ۔امریکہ ایک متعصب اور متنازعہ رپورٹ جاری کرتا ہے پھر اس رپورٹ کا بہا نہ بنا کر مخالف ممالک پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے اور ان سے سیاسی معاملات میں ڈیل کی جاتی ہے۔ سیاسی مطالبات منوائے جاتے ہیں اور امریکی مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ سیاسی اور مالی مفادات کا تحفظ منوایا جاتا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ نے ان ممالک کے نام اپنی لسٹ میں شامل کیا تھا جو کسی نہ کسی حوالے سے امریکہ کے مخالف ہیں، ان میں شمالی کوریا ، چین، ایران سے امریکہ کی دشمنی کوئی پوشیدہ نہیں۔ پاکستان بھی امریکہ کی اندھا دھند تابع داری سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے، اس لیے اس پر دبائو بڑھانے کے لئے امریکہ کا پرانا ہتھکنڈا ،کبھی انسانی حقوق کبھی مذہبی حقوق استعمال کیا جاتا ہے۔امریکہ کی بدنیتی اس سے بھی ظاہر ہے کہ ہند میں مذہبی آزادی کی پامالی پاکستان سے بھی زیادہ ہے لیکن ہند کو واچ لسٹ میں بھی شامل کرنا گوارہ نہیں کیا گیا۔ہند میں مسلمانوں کو گائوماتا رکھشا کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور جان سے بھی مار دیا جاتا ہے لیکن ہند کو واچ لسٹ میں بھی نہیں ڈالا گیا۔ہند اس وقت امریکا کا وفادار بنا ہے اور امریکا اس کو پاکستان اور چین کے خلااف استعمال کرنا چاہتا ہے۔یہ پوچھناتھا کہ افغانستان میں بھی مذہبی آزادی کا بھر پور اظہار ہو رہا ہے ؟جہاں امریکا کے زیر سایہ حکومت چل رہی ہے۔کیا امریکا نے افغانستان میں اقلیتوں کے حقو ق اور مذہبی آزادی کیلئے کوئی اصلاحات کیں؟کیا امریکہ کو شام ،اعراق،لیبیا اور کشمیر سمیت کہیں بھی کوئی مذہبی آزادی نظر آئی؟مذہبی آزادی تو بعد کی بات ہے کیا امریکہ کو شام، عراق اور کشمیر میں انسانی حقوق کی کوئی فکر ہوئی ؟ امریکہ پھر بھی کس بے شرمی سے مذہبی حقوق کی بات کرتا ہے ۔میں پوچھنا چاہتا ہوںکہ انسانی حقوق پہلے ہیں یا مذہبی حقوق ؟ کوئی زندہ بچے گا تو مذہبی آزادی کو انجوائے کر سکے گا۔امریکہ سے پوچھنا تو بنتا ہے کہ پاکستان پچھلے ایک سال سے واچ لسٹ میں شامل تھا ا س سے پہلے تو پاکستان میں مذہبی آزادی کا ’راج‘ تھا ؟کیونکہ اس وقت پاکستان امریکہ کے مفادات کا محافظ تھا ،تو سب ٹھیک تھا۔اب پاکستان چونکہ امریکہ کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا تو پاکستان میں مذہبی حقوق یاد آگئے۔جب پاکستان میں طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں نے اقلیتوں سمیت اکثریت کی عبادت گاہوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا ،تب امریکا کو پاکستان کے مسلمانوں اور اقلیتوں کے حقوق کیوں یاد نہیں آئے؟اب جبکہ پاکستان نے ان دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے اور پاکستان کو پُر امن ملک بنا دیا ہے،امریکہ کو پاکستان میں مذہبی آزادی اور اقلیتیں یاد آگئی ہیں۔ان تمام سوالوں کے پیشِ نظر امریکہ کی بد دیانتی کا اظہار ہو تا ہے ۔اس رپورٹ کو بہانا بنا کر سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتا تھا۔امریکہ کی اس طرح کی بددیانتی نے عالمی ادارے ’اقوامِ متحدہ‘ کی ساکھ کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔اقوام متحدہ بھی امریکہ کا دُم چھلا بن کے رہ گیا ہے، اقوام متحدہ کو کشمیر نظر نہیں آتا ۔جہاں تک تعلق ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کیلئے اصلاحات ضرور کرنا چاہئے لیکن کسی امریکی دھمکی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت بالکل نہیں۔
 

شیئر: