مفلوج مریض ٹھیک ہوگئے!

لوزویل۔۔۔ یہ کہاوت بالکل درست معلوم ہوتی ہے کہ کائنات کا بنیادی عنصر وقت ہے اور جب وقت بدلتا ہے تو بہت ساری چیزیں تبدیل ہوکر رہ جاتی ہیں جن میں سے کچھ اچھی ہوتی ہیں اور کچھ کو اچھا نہیں سمجھا جاتا مگر یہاں کے لوگ اس بات پر بیحد خوش ہیں کہ 2018ء2ایسے مریضوں کو نئی زندگی دیکر گیا ہے جو مفلوج ہوگئے تھے اور جنہوں نے خو د کو دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل بنانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ ان دو افراد میں 23سالہ کیلی تھامس اور 35سالہ جیف مارکس ہیں جو کمر سے نیچے تک مفلوج ہوچکے تھے ۔ چلنا پھرنا دو بھر ہوچکا تھا۔ حد یہ کہ وہ کھڑے بھی نہیں ہوسکتے تھے مگر اب ریڑھ کی ہڈی میں ایک خاص قسم کی ڈیوائس نصب کئے جانے کے بعد یہ توقع کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ جلد ہی عام لوگوں کی طرح اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ دونوں فالج زدہ افراد یونیورسٹی آف لوزویل کے میڈیکل ریسرچ سینٹر میں آئے تھے جہاں انکے تفضیلی معائنے کے بعد کامیاب آپریشن ہوا اور اب ان دونوں کو چلنے پھرنے کی تربیت دی جارہی ہے۔ جیف مارکس کا کہنا ہے کہ اب وہ انڈے وغیرہ بنانے کیلئے چند منٹ کھڑے بھی ہوسکتے ہیں اور بیٹھ کر ناشتہ بھی کرسکتے ہیں۔
 
 

شیئر: