سالانہ چھٹی سے قبل ملازمت ختم ہونے پر کارکن کو رقم ادا کی جائےگی

 کام کے دوران زخمی ہونےوالے کارکن کو 60 دن چھٹی بمعہ تنخواہ ادا کی جائے گی ، معذور ہونے کی صورت میں آجر کی جانب سے ملنے والا معاوضہ واپس نہیں لیاجاسکتا
ارسلان ہاشمی ۔۔ جدہ
قارئین کرام گزشتہ قسط میں مملکت کے قانون محنت کے بارے میں چند نکات بیان کئے تھے جن میں ملازمت کا معاہدہ اور آجر و اجیر کے فرائض و واجبات ۔ اسی حوالے سے قانون محنت کی دیگر اہم نکات کی جانب بڑھتے ہیں جن کا روز مرہ کی زندگی میں سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس قسط میں جو نکات بیان کئے جارہے ہیں ان میں سب سے اہم نکتہ کارکن کی چھٹیوں کا ہے ۔ قانون کے مطابق سالانہ چھٹی ہر کارکن کا حق ہے تاہم وزارت محنت نے قانون میں وضاحت کی ہے ۔ وہ کارکن جنہیں ایک ہی کمپنی یا ادارے میں کام کرتے ہوئے مسلسل 5 برس سے کم ہوئے ہوں انہیں سالانہ 21 دن کی چھٹی بمعہ تنخواہ ادا کی جانی چاہئے جبکہ وہ کارکن جنہیں کام کرتے ہوئے 5 برس سے زائد عرصہ گزر چکاہو انہیں ہر برس 30 دن کی چھٹی ملتی ہے ۔ سالانہ چھٹی ہر کارکن کا حق ہے جسے کسی بھی صورت ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ کارکن چھٹی کے بدلے اضافی معاوضے کا مطالبہ نہیں کرسکتا تاہم اگر آجر اس بات میں راضی ہے تو یہ اتفاق باہمی ہو گا اس کاقانون سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ۔ سالانہ چھٹی کو موخر کرنے کی صورت میں آجر کا راضی ہونا لازمی ہے یعنی آجر کی مرضی کے بغیر سالانہ چھٹی کے دن دوسرے برس کے لئے موخر نہیں کئے جاسکتے ۔ اگر سالانہ چھٹی لینے سے قبل ملازمت ختم ہو جاتی ہے اس صورت میں چھٹی کے دنوں کا حساب کر کے اس کے بدلے معاوضہ لینا کارکن کا حق ہے ۔ اگر کارکن اضافی چھٹی کے دنو ںمیں اضافہ کرنے کا خواہش مند ہے تو اسے آجر کی رضامندی حاصل کرنا ہو گی ۔ اضافی چھٹیوں میں تنخواہ ادا نہیں کی جائے گی ۔ قانون کے مطابق اضافی چھٹیاں اگر 20 دن سے زائد ہو نگی تو ان ایام کے دوران ورک ایگریمنٹ" سیز" تصورکیا جائے گا یعنی ان دنوں کو کارکن کی مدت ملازمت میں حساب نہیں کیاجائے گا ۔
 سالانہ چھٹیوں کے دوران کارکن کسی دوسری جگہ ملازمت نہیں کرسکتا ۔ 
سالانہ چھٹیوں کے علاوہ مملکت کے قانون کے مطابق عید الفطر کی 4 چھٹیاں جن کا آغاز 29 رمضان المبارک سے کیاجاتا ہے جبکہ عیدالاضحی کے لئے 4 چھٹیاں مقرر کی گئی ہیں جن کا آغاز یوم عرفہ کے دن سے ہو تا ہے ۔ سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر ایک چھٹی دی جاتی ہے اگر قومی دن ہفتہ وار تعطیل کے دن آجائے تو اس سے ایک دن قبل یاایک دن بعد نیشنل ڈے کی چھٹی دینا لازمی ہے ۔ وہ ادارے جہاں شفٹو ں میں کام ہوتا ہے انکے کارکن یہ چھٹی اپنے ادارے کی انتظامیہ کے مطابق بعد میں کسی بھی دن لے سکتے ہیں ۔ یوم الوطنی کی چھٹی بھی ہر کارکن کا حق ہے ۔ 
کام کا دورانیہ ۔ ۔ وزارت محنت وسماجی بہبود آبادی نے قانون محنت میں کارکنوں کے لئے ورکنگ آور مقرر کئے ہیں جو یومیہ 8 گھنٹے ہیں اورہفتہ میں 48 گھنٹے ہوتے ہیں ۔ رمضان المبارک میں کام کا دورانیہ کم کرکے یومیہ 6 اور ہفتہ وار 36 گھنٹے مقرر ہیں ۔ قانون کے مطابق بعض کارکنوں کے یومیہ گھنٹوں میں ایک گھنٹے کا اضافہ کر کے انہیں9 گھنٹے اور رمضان المبارک میں 6 سے 7 گھنٹے کیاجاسکتا ہے ۔ جبکہ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز اور صفائی کے کارکنوں کے لئے ورکنگ آووز 12 گھنٹے ہوتے ہیں جو رمضان المبارک میں 10 گھنٹے کر دیئے جاتے ہیں ۔ کام کے دورانیہ میں نماز اور کھانے کے وقفے کو شامل نہیں کیاجاتا ۔ قانون کے مطابق بچے کی ولادت کے موقع پر کارکن کو 3 دن کی چھٹی بمعہ تنخواہ دی جاتی ہے ۔ شادی کے موقع پر 5 دن کی چھٹی کارکن کا حق ہے ۔ بیوی کے وفات پر 5 دن کی چھٹی دی جاتی ہے ۔ اگر کارکن اپنی صلاحیت میں اضافے کےلئے کوئی تعلیمی یا فنی کورس وغیر ہ کرتا ہے اور اس کا علم آجر کو ہے تو وہ اسکی مرضی سے امتحان کے موقع پر چھٹی لے سکتا ہے تاہم اگر آجر چھٹی نہ دے تو وہ امتحان کی ادائیگی کےلئے اپنی سالانہ چھٹیوں میں سے چھٹی لینے کا حق رکھتا ہے ۔ اگر کارکن دروغ گوئی کرکے امتحان کی غرض سے چھٹی لیتا ہے اور ثابت ہو جاتا ہے کہ اس نے کوئی امتحان نہیں دیا تو آجر کا حق ہے کہ وہ چھٹی کی تنخواہ کاٹے ۔ خاتون کارکن کےلئے ولادت کی چھٹیاں بمعہ تنخواہ 10 ہفتے مقرر ہیں تاہم یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ چھٹیاں کب لیتی ہے ولادت سے قبل 4 ہفتے اور 6ہفتے بعد میں ۔ مزید ایک ماہ چھٹی بغیر تنخواہ کے خاتون کارکن حاصل کر نے کا حق رکھتی ہے ۔اگر نومولود جسمانی طور پر بیمار ہے یا بچہ معذور ہے تو اس صورت میں اسے بمعہ تنخواہ ایک ماہ کی چھٹی مزید دی جائے گی اس میں بغیر تنخواہ کے مزید ایک ماہ کا اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ خاتون کارکن کے شوہر کی وفات کے موقع پر اسے ”ایام عدت“ کی چھٹی بمعہ تنخواہ دی جائے گی جوکہ 4 ماہ دس دن ہو تی ہے اس دوران اگر خاتون کے ہاں ولادت بھی ہوئی ہو تو وہ اس کی چھٹیاں بھی حاصل کرسکتی ہے ۔ غیر مسلم خواتین کے شوہر کی وفات کے موقع پر اسے 15دن کی چھٹی دی جاتی ہے ۔ 
بیماری کی چھٹیاں ۔۔ بیماری کی صورت میں بمعہ پوری تنخواہ ایک ماہ کی چھٹی کارکن کا حق ہے ۔ ایک ماہ بعد اگر بیماری کے لئے مزید چھٹیاں درکار ہوں تو 60 دن تک مجموعی تنخواہ کی تین چوتھائی 3/4 کارکن کو ملے گا جبکہ ایک برس کے دوران ہی اگر مزید بیماری کی چھٹی درکار ہو تو بغیر تنخواہ کے 30دن کی چھٹی لی جاسکتی ہے تاہم اس کےلئے چھٹیوں کا حساب اس روز سے کیاجائے گا جب سے کارکن نے بیماری کی چھٹیاں لی تھیں ۔ کام کے دوران زخمی ہونے کی صورت میں 60 دن چھٹی بمعہ تنخواہ دی جائے گی اگر صحت یابی مکمل نہ ہو تو اس صورت جب تک ڈاکٹر کام کی اجازت نہ دیں کارکن کو تنخواہ کا 75 فیصد ادا کیاجائے گا ۔کام کے دوران زخمی ہونے والا کارکن ایک برس بعد بھی صحت یاب نہ ہو سکے تو اس صورت میں ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق معاہدہ ملازمت ختم ہو جائے گا اور آجر سابقہ اداکی گئی تنخواہ کی واپسی کامطالبہ نہیں کرسکتاتاہم اس صور ت میں آجر کے ذمہ ہے کہ وہ معذور ہونے والے کارکن کو تمام حقوق و واجبات ادا کرے جو قانون نے اس کے ذمہ عائد کئے ہیں ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: