#وزیراعظم_کا_دورہ_ترکی

وزیراعظم عمران خان دو روزہ سرکاری دورے پر مختصر وفد کے ہمراہ ترکی پہنچ گئے ہیں۔ ترکی پہنچنے پر کونیا کے گورنر نے ان کا استقبال کیا۔ ٹویٹر صارفین کا اس دورے سے متعلق کیا خیال ہے آئیے دیکھتے ہیں۔
عارف اللہ نے ٹویٹ کیا : ‏وزیراعظم عمران خان ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر وفد کے ہمراہ، دو روزہ سرکاری دورے پر ترکی پہنچنے گئے ہیں۔ کونیا پہنچنے پر گورنر کونیا جنید توپرک، ڈپٹی میئر کونیا، ترکی میں پاکستان کے سفیر اور پاکستانی سفارتخانے کے سینیئر حکام نے وزیر اعظم عمران خان کا پر تپاک استقبال کیا۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا : ‏وزیراعظم ، وزیر خارجہ ، دو وزرا اور ایک مشیر ترکی دورے پر پہنچے جہاں گورنر اور ڈپٹی مئیر نے استقبال کیا ۔ پاکستان تو پاکستان بیرونی دنیا بھی جان چکی کہ کتنی با اختیار حکومت اور وزیراعظم ہے۔
بلال ناصر نے لکھا : ‏وزیراعظم عمران خان ترک صدرطیب اردوان کی دعوت پراعلی سطحی وفدکےہمراہ دو روزہ دورہ ترکی پرروانہ ہوگئے۔ وزیراعظم اپنےدورہ ترکی میں ترک صدرسے ملاقات کےعلاوہ ترک تاجروں اور ترکی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سےخطاب کریں گےاور دونوں ملکوں کےدرمیان دوطرفہ تعلقات و تجارت کی اہمیت پر زور دیں گے۔
راجہ شجاعت کا کہنا ہے : ‏وزیراعظم عمران خان کا دورہ ترکی نہ صرف پاکستان کیلئے معاشی لحاظ سے بہترین ثابت ہوگا بلکہ پاک ترکی تعلقات میں بھی مضبوطی آئے گی، مسلم ممالک سے بہترین تعلقات قائم کرنے کا کریڈٹ شاہ محمود قریشی کو دینا چاہئے جو ہر مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ اکھٹا کر رہے ہیں۔
محمد یاسر کا کہنا ہے : ‏ترکی پہنچنے پر عمران خان کا جیسا استقبال ہوا ویسا ہی استقبال ہونا تھا کیونکہ جب طیب اردگان نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی تھی تب نیازی نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا اور ویسے بھی طیب اردگان جمہوریت پسند لیڈر ہے۔ مہرے اسے پسند نہیں۔
منور ستی نے ٹویٹ کیا : ‏عمران خان مختصر وفد کے ہمراہ دورہ ترکی پر روانہ ! نوازشریف اور آصف زرداری نے جن صحافیوں اور اینکرز کو مفت کی سیر اور فائیو سٹار ہوٹلوں کا چسکا ڈال دیا تھا وہ آج رات کو ٹیلی ویژن پر گلے پھاڑ پھاڑ کر تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامی کے فتوے جاری کریں گے ۔
ثناء صائم راؤ نے لکھا : ‏وزیراعظم عمران خان آج ترکی کا 2 روزہ دورہ کریں گے۔ عمران خان کی ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ، خطے اور عالمی صورتحال پربات چیت ہوگی۔ عمران خان بزنس فورم سے بھی خطاب کرینگے۔ ہم امید کرتے ہیں دو عظیم لیڈر مل کر مسلم امہ کو بحران سےنکالنے کے لیے بھرپور کردار ادا کرینگے ان شاءاللہ۔

شیئر: