مستقبل مصنوعی ذہانت کا ہے؟

بیجنگ۔۔۔ مصنوعی ذہانت اور اسکی مدد سے تیار ہونے والی چیزیں اور مختلف سازو سامان کی تیاری اب تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے ۔ صورتحال کی وجہ سے دنیابھر میں یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ شروع ہونےوالا نیا سال آپ سے آپ کا روزگار چھین لے گا اور آپ بےروزگار ہوجائیں گے کیونکہ اب سارے کام مصنوعی ذہانت کے طفیل ہی کئے جارہے ہیں۔ ممتاز چینی سائنسدان کائی فو لی کا کہناہے کہ اس انتہائی تشویشناک امکانی صورت کے باوجود یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت جتنی بھی بڑھ جائے، اسکے طفیل دنیا کی ہر ملازمت اور روزگار کا خاتمہ نہیں ہوسکتا اسلئے مستقبل میں روزگار کی صورتحال جو ہوگی اس پر ابھی سے غور کرنا چاہئے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ آئندہ 15برس میں 50فیصد ملازمتیں مصنوعی ذہانت کی نذر ہوجائیں گی جس کے بعد ویسی ہی صورت پیدا ہوگی جس کا سامنا صنعتی انقلاب کے بعد کاشتکاروں اور زراعت پیشہ لوگوں کو کرنا پڑا تھا۔ لوگوں کو احساس ہوگیا ہے کہ انکی ملازمتیں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔ بہتر یہی ہوگاکہ آج کا انسان روزگار کے روایتی مواقع سے گریز کرتے ہوئے کچھ نئے مواقع تلاش کرے تاکہ وہ بےروزگاری کے عذاب سے محفو ظ رہے اور یہی اسکے بقا کی صورت ہے۔
 
 

شیئر: