زلفی بخاری کے نام کھلا خط

جاوید اقبال
میری یہ تحریر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے امور سمندر پار پاکستانی ذوالفقار بخاری کے نام ہے کہ اب وہ پردیس کے اپنے ہموطنوں کے مسائل سے نبردآزما ہوں گے۔
’’جناب ذوالفقار بخاری! او پی ایف کے بورڈ آف گورنرز کا 148 واں اجلاس اسلام آباد میں قائم تنظیم کے مرکزی دفتر میں اختتام پذیر ہوا۔ اس طویل نشست میں کیے گئے فیصلوں پر نظر ڈالنے کا اتفاق ہوا۔ یہ وہی فیصلے ہیں جو گزشتہ تقریباً 3 دہائیوں سے ہوتے رہے ہیں۔ 1979ء میں قائم کی گئی اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن کا بنیادی مقصد کرہ ارض پر مقیم اور خصوصاً خلیجی ممالک میں بسلسلہ روزگار آئے پردیسوں کے حقوق کا تحفظ تھا لیکن ایسا ہوتا نہیں رہا۔ میں اس طرفہ تماشے کا عینی شاہد ہوں جو او پی ایف کے حکومتی عہدیداران اپنے بیرون ملک اور خصوصاً سعودی عرب کے دوروں میں منعقد کرتے رہے۔ 1973ء میں جب اوپیک نے مغرب کو جانے والے اپنے تیل کے سوتے بند کیے تو نیویارک اور لندن کی صنعتوں پر موت کا سکوت چھا گیا۔ تب خلیجی ممالک پر یہ منکشف ہوا کہ ترقی یافتہ ممالک کی اقتصاد کی روح تیل کے طوطے میں تھی۔ سیال سونے کے نرخ بڑھے اور خلیج عرب کے اطراف تعمیر کے سلسلے کا آغاز ہوا۔ تب 70ء کی دہائی کے وسط میں پاکستانی مزدور رختِ سفر باندھے ان صحرائوں میں آن اُترے۔ ہر سُو تعمیراتی منصوبے شروع ہوئے اور صحرائی رات کی تاریکیاں جگمگاہٹ میں ڈھل گئیں۔ افق پر سارسوں کی طرح مشینیں سر اٹھانے لگیں، دن اور ات کا شور جب سکوت میں اُترتا تو ایک حسین عمارت وجود میں آچکی ہوتی۔
جناب ذواالفقار بخاری! دوسری عالم جنگ میں خس و خاشاک کیے گئے جاپان اور جرمنی نے بھی اُٹھتے وقت اتنی تیزی سے اپنی تجسیم نہیں کی تھی۔ سرعت سے خلیجی صحرا موتیوں میں تبدیل ہوا اور اس کرشمہ تعمیر کی تشکیل کرنے والا کوئی اور نہیں صرف اور صرف پاکستانی تھا۔ اس وقت کسی اور قوم کی یہاں موجودگی نہیں تھی۔ صحرا کے ذروں کو درخشندگی بخشنے والوں میں نہ کوئی ہندوستانی تھا اور بنگلہ دیشی، نہ کوئی لبنانی سنگ و خشت سے الجھتا تھا اور نہ کوئی مصری 50درجے سے اوپر کے درجہ حرارت میں دھوپ میں پتھر اٹھائے منزلوں پر منزلیں بلند کرتا تھا۔ صرف پاکستانی مزدور تھا جو مملکت سعودی عرب حرمین شریقین کا محافظ سمجھ کر اس کی دل و جان سے تعمیر کررہا تھا۔ اپنے مبارک گمان میں وہ یوں اپنے لیے بخشش کا سامان کررہا تھا!لیکن جناب ذوالفقار بخاری! بات ختم نہیں ہوئی! اس تحریر کا اگلا حصہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جب اختتام مہینے پر اسے مشاہرہ ملتا ہے تو ڈیرے پر جانے سے پہلے وہ قریب تر ترسیل زر کرنے والی کسی کمپنی سے وطن عزیز میں اپنے پیاروں کو رقم ارسال کردیتا ہے۔ اپنے لیے صرف اتنا پس انداز کرتا ہے جس سے اس کا مہینے کا خور و نوش ہوسکے۔ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو اس کے احباب منتظر ہوجاتے ہیں اور انہیں گھر بیٹھے باقاعدگی سے نان و نفقہ اوردیگر لوازمات کیلئے رقم ارسال کی جاتی ہے۔ ان کا ارسال کیا گیا زرمبادلہ بڑی خاموشی سے حکومتی ذخائر میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ 10، 15، 20، 40 برس تک یہ مشین اپنے ملک کے اقتصادی اشاریوں کو بلند رکھتی رہی ہے اور پھر اب اختتام کار پر اپنے وطن کو واپس لوٹ رہی ہے۔ جہاں نئے مسائل، نئے عذاب اس کے منتظر ہیں۔جناب ذوالفقار بخاری! آپ دہری شہریت رکھتے ہیں۔ آپ برطانوی بھی ہیں۔ 60ء کی دہائی کے آغاز میں جب منگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہوا تو صدر محمد ایوب خان کی حکومت نے ہزاروں کی تعداد میں میرپور، ڈڈیال اور ڈیم کی تعمیر سے متاثر ہونے والے دوسرے علاقوں سے آزاد کشمیر کے شہریوں کو سفری دستاویزات جاری کر کے انہیں لندن کے لئے بحری جہازوں پر سفر کرادیا۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچتے ہی جاں گسل مشقت کی اور برطانوی ٹیکسٹائل کی صنعت میں جان ڈالی۔ یہ برطانوی حکومت کی ضرورت بن گئے۔ چنانچہ ہر تاریک وطن کو 5 برس کے قیام کے بعد وہاں کی شہریت دے دی گئی۔ پاکستان ان کا دوسرا وطن بن گیا۔ امریکہ کو نقل مکانی کرنے والے پاکستانیوں کا حال بھی مختلف نہیں۔ عمر رسیدہ پاکستانی اپنے آبائی دیہات کا سوچ کر دل گرفتہ ہوتے ہیں نوجوان نسل مائیکل جیکسن کی شیدائی ہے۔ آبائو اجداد کے آبائی مقام سے اسے کوئی سروکار نہیں!
تو جناب ذوالفقار بخاری! آپ یہ حقیقت جان لیں کہ آج کرہِ ارض پر اگر کوئی مقام ایسا ہے جہاں کے صد فی صد پاکستانیوں کے لئے صرف ایک ہی مادرِ وطن ہے تو وہ خلیج عرب کا پھیلا دامن ہے۔ سودی عرب، قطر، امارات، بحرین اور کویت میں مقیم ہمارے تارکین وطن کے لئے پہلا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان! دوسری جگہوں پر مقیم ہمارے ساتھیوں کیلئے پاکستان کی حیثیت ثانوی ہے۔ او پی ایف کے حالیہ اجلاس میں اور آپ کے بیان میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے امور پر زیادہ توجہ دی جائے گی! زندہ باد! لیکن میری آپ سے دست بستہ التجا ہے کہ آپ عمران خان صاحب کو اس بات پر مائل کریں کہ وہ سینیٹ، قومی اسمبلی اور ہر صوبائی اسمبلی میں ان بے صدا پردیسیوں کیلئے 5 ، 5 نشستیں مختص کردیں۔ ٹرمپ ہمیں سالانہ 2 ارب ڈالر دے کر سرعام ہمیں دھمکیاں اور گالیاں دیتا پھرتا ہے اور 20 ارب ڈالر دینے والے یہ غریب الوطن سرجھکائے اپنے وطن عزیز کے ہوائی اڈوں پر اترتے ہیں، امیگریشن اور کسٹم والوں کی گھرکیاں برداشت کرتے ہیں اور باہر آتے ہیں تو روح فرسا خبر منتظر ہوتی ہے کہ ان کی اراضی، گھر پر ناجائز قبضہ! جھگڑا!! سر پٹھول! پولیس! کچہری!
جناب سید ذوالفقار بخاری! ہمیں ہمارا پاکستان دے دیں!!
 

شیئر: