دمام :اردو ٹوسٹماسٹرز کلب کی تقسیمِ اسناد واعزازات

رپورٹ: اُم آدم /تصاویر : تسکین احمد صدیقی
    اردو ٹوسٹماسٹرز کلب کا اجلاس اپنے روایتی نظام سے قدرے مختلف نوعیت کا رہا ۔ جس میں اردو ٹوسٹماسٹرز کلب کی ایریا 52 اور ڈویژن ایف ، ڈسٹرکٹ 97 میں “ پریزیڈنٹ ڈسٹنگوزڈ کلب ایوارڈ “ حاصل کرنے والے پہلے کلب کا اعزاز حاصل کرنے پر جشن بھی منایا گیا ۔اجلاس کا آغاز منتظمِ انجمن فرحان فرید نے اراکینِ کلب و مہمانان کے استقبال سے کیا اور کلب کی صدر قدسیہ ندیم لالی کو اجلاس کے با ضابطہ آغاز کے لئے مدعو کیا۔اردو کلب کی صدر قدسیہ ندیم لالی نے خصوصی طور پر مدعو ، ڈویژن ایف ڈائریکٹر نیاز قیصر ، ایریا 52 ڈائریکٹر ریاض احمد پٹھان ، ڈی ٹی ایم اور ایریا 97 کی کلب کوالٹی مینجر سعدیہ عرفان اور ڈی ٹی ایم عرفان اقبال خان ، سابق صدر اردو کلب سید شیراز مہدی ضیاء و بیگم ثمن طارق، سابق صدر اردو کلب سید منصور شاہ گلکنڈوی، سابق صدر اردو کلب محمد سلیم حسرت ،سابق صدر اردو کلب و سابق ایریا ڈائریکٹر 52 ضیاءالرحمٰن صدیقی و بیگم، ٹوسٹماسٹر محمد حنیف صدیقی و اہل و عیال جو پاکستان سے آئے ہوئے تھے ،محمد سہیل و اہل و عیال، ہند سے آئے ہوئے ارشد صاحب ،محمد سلیم و محمد یاسین ، سرفراز عالم ، محمد اکرم، مہمانان سید نصیر الدین ،محمد ریاض اور معزز اراکینِ کلب و عمائدین شہر کا پرتپاک استقبال کیا۔
    اردو کلب کی شاندار کامیابی پر اراکینِ کلب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان اراکین کے نام لئے گئے جن کے منصوبوں کی تکمیل پر اردو کلب اس کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔ انہوں نے آئندہ ہونے والے ایریا مسابقے میںحصہ لینے والے اراکین کلب کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ایک تمثیلی کہانی پیش کی :
    ٭٭ایک آدمی کسی دانا کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے کامیابی کا راز بتائیے ۔دانا نے اس شخص سے کہا کہ میرے ساتھ ندی کے کنارے چلو ، وہ دونوں مل کر ندی کے کنارے چلے گے ، دانا نے اس شخص سے کہا کہ میرے ساتھ اس ندی میں اتر جاو¿۔وہ شخص تھوڑا سا ہچکچایا لیکن دانا کے ساتھ ندی میں اترتا چلا گیا یہاں تک کہ ندی کا پانی گردن تک آگیا۔ دانانے اس آدمی کو رکنے کا اشارہ کیا۔ اس آدمی کے رکتے ہی دانا شخص نے اس آدمی کو جکڑا اور ندی کے اندر غوطہ دیا اور کچھ دیر اس کو اسی حالت میں ڈبوئے رکھا ، جب اس آدمی کو پانی سے باہر نکالا تو اس نے ایک بہت گہرا اور لمبا سانس لیا اور خود کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگا۔جب وہ قدرے سنبھل گیا تو دانا نے اس شخص سے پوچھا کہ جب تم پانی کے اندر تھے تو تمہاری سب سے بڑی اور شدید خواہش کیا تھی ؟
    وہ شخص بولا مجھے زندہ رہنے کے لئے ہوا چاہئے تھی ، دانا شخص نے کہا کہ تمہیں جتنی شدت سے ہوا درکار تھی وہ تمہیںمل گئی۔کامیابی کا راز بھی بس یہی ہے کہ کسی بھی چیز کو اتنی شدت سے چاہو کہ تمہیں وہ مل جائے۔
    نپولین نے ایک بار کہا تھا کہ کسی کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے آپ کے دل میں بھڑکتی ہوئی آگ ہونی چاہئے جیسے ایک چھوٹی سی آگ ایک بڑے علاقے کو روشنی اور تپش فراہم نہیں کرسکتی اسی طرح کسی کامیابی کی مبہم خواہش سے اس کامیابی کو حاصل نہیں کیا جاسکتا
ہم جب پوری شدت سے کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کی جستجو کرتے ہیں ، محنت کرتے ہیں ریاضت کرتے ہیں اور پھر اسے حاصل کر کے ہی دم لیتے ہیں۔اپنے اندر پختہ ارادہ کریں اور خود کو پہچاننے کی کوشش کریں کہ آپ کو خوشی کیا چیز دیتی ہے پھر اس کا تعاقب کریں اور حاصل کئے بغیر اس کو بالکل نہ چھوڑیں۔جب انسان دل کی گہرائی سے کسی چیز کی طلب کرتا ہے تو دنیا کی ہر چیز اسے آپ سے ملانے میں جت جاتی ہے اور کامیابی مقدر بن جاتی ہے۔
    ناظم اجلاس کے تعارف میں صدر اردو کلب قدسیہ ندیم لالی نے کہا کہ اردو ٹوسٹماسٹرز کلب میں شمولیت کے بعد وہ بھی شعر و ادب سے دلچسپی کے باعث معیاری غزلیں کہنے لگے اور اب عوام الناس میں ان کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے ۔ٹوسٹماسٹر محمد معراج الدین نے پیش نامے کی ترتیب سے ذمہ دارانِ اجلاس کا تعارف کروانے کے ساتھ ان کی ذمہ داریوں کی تصدیق بھی کروائی۔ تعلیمی نشست کے آغاز سے پہلے ناظم اجلاس ٹوسٹماسٹر معراج الدین نے محفل کو گدگدانے کے لئے برجستہ لطیفہ گو کی حیثیت سے ٹوسٹماسٹر سید شیراز مہدی ضیاءکو پکارا اور انہوں نے ایک عمدہ مزاحیہ نظم سنا کر محفل کا رنگ بدل دیا ۔
    تعلیمی نشست میں پہلی تقریر سابق صدر اردو ٹوسٹماسٹرز کلب اور سابق ایریا ڈائریکٹر 52 کی سنہری اعلیٰ منصوبے کی دوسری تقریر تھی اور تقریر کے تجزیہ کار ، ڈی ٹی ایم عرفان اقبال خان رہے۔ دوسری تقریر اردو ٹوسٹماسٹرز کلب کے دوسرے ( سابق صدر ) سید منصور شاہ گلکنڈوی کی تقریر جو سنہری اعلیٰ منصوبہ نمبر 2 رہی۔ ان کی تقریر کی تجزیہ کار ڈی ٹی ایم سعدیہ عرفان خان رہیں۔
    تجزیاتی نشست کے آغاز پرٹوسٹماسٹر پراگ پاٹِل نے اجلاس میں حاضرین کی تعداد دیکھ کر از حد خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ جو ماحول اور ایکتا اردو ٹوسٹماسٹرز کلب میں نظر آتی ہے ،وہ مجھے کسی اور کلب کے اجلاس میں کبھی نظر نہیں آئی اور یہی اردو کلب کی ترقی و کامیابی کا خاصہ ہے۔ تقاریر کے تجزیے کے دور میں ڈی ٹی ایم عرفان خان اور سعدیہ عرفان نے دونوں تقریروں کی پیشکش کو بہت اعلیٰ معیار کی حامل قراد دیا اور خوب سراہتے ہوئے دونوں مقررین کو مبارک باد دی۔ تقسیمِ اسناد کی نشست میں اردو کلب اراکین میں جنہیں اسناد عطا ہوئیں ان میں ٹوسٹماسٹر محمد انس الدین ، ٹوسٹماسٹر فرحان فرید ، ٹوسٹماسٹر غزالہ کامرانی ، ٹوسٹماسٹر آسیہ عثمان ، ٹوسٹماسٹر مظفر احمد ، ٹوسٹماسٹر مسرت خان ، ٹوسٹماسٹر اعجاز لحق ، ٹوسٹماسٹر قدسیہ ندیم لالی شامل تھے ۔ اردو ٹوسٹماسٹرز کلب کے ہر اجلاس میں ب بحیثیت رضاکار جملہ امور انجام دینے پر فرقان فرید خان اور ان کی ہمشیرہ سکینہ فرید خان کو اسناد برائے بہترین کارکردگی خصوصی طور سے پیش کی گئیں۔
     میڈلز کی تقسیم کی نشست میں ٹوسٹماسٹر محمد معراج الدین ( سی ایل ) ٹوسٹماسٹر فرید حسین خان ( سی ایل ) ٹوسٹماسٹر سید منصور شاہ ( اعلیٰ منصوبہ سنہری ) ٹوسٹماسٹر ضیاءالرحمٰن صدیقی ( اعلی منصوبہ کانسی و اعلیٰ منصوبہ سنہری ) کی کامیابی پر پیش کئے گئے ۔
    اردو کلب کی صدر قدسیہ ندیم لالی نے اراکینِ اردو کلب اور حاضرینِ محفل کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور اجلاس کو برخاست کرنے کا اعلان کیا۔ سرپرائز نشست کے لئے سابق صدر اردو کلب ٹوسٹماسٹر محمد سلیم حسرت اسٹیج پر آئے اوراردو کلب کی صدر ٹوسٹماسٹر قدسیہ ندیم لالی ، جنہیں جولائی تا جنوری کی میعادکیلئے صدر منتخب ہونے کے بعد ”سالارِ کلب “ کا خطاب دیا گیا تھا، اور تمام مجلس عاملہ کے اراکین ( نائب صدر تعلیم ، ٹوسٹماسٹر محمد معراج الدین ، نائب صدر رکنیت ٹوسٹماسٹر سید آصف پاشا ، نائب صدر رابطہ عامہ ، ٹوسٹماسٹر تسکین احمد صدیقی ، معتمد ، ٹوسٹماسٹر محمد رانا ، خازن ، ٹوسٹماسٹر فرید حسین خان ، منتظمِ انجمن ، ٹوسٹماسٹر فرحان فرید خان کو اردو ٹوسٹماسٹرز کلب کی ایریا 52 اور ڈویژن ایف ، ڈسٹرکٹ97 میں پریزیڈنٹ ڈسٹنگوزڈ کلب ایوارڈ “ حاصل کرنے پر پر تپاک مبارک باد پیش کی۔ محمد سلیم حسرت نے بتایا کہ آج اس خوشی کے موقع پر ،محفل موسیقی ہے جس میں سر و تال سے شغف رکھنے والے اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے ۔
    یہ بلا شبہ اردو ٹوسٹماسٹرز کلب کا اعجاز ہے کہ کم وقت میں بھی ایک عمدہ پروگرام بپا کیا جاسکتا ہے ۔اس موقع پر سرفراز عالم اور محمد اکرام نے دلفریب اور سدا بہار فلمی نغمے سنا کر حاضرین سے خوب داد حاصل کی۔ اردو کلب کے دو نئے اراکین ، ٹوسٹماسٹر محمد عثمان اور ٹوسٹماسٹر آسیہ عثمان نے مختصرا پنجابی مزاحیہ ڈرامہ پیش کیا اور حاضرین سے داد حاصل کی۔کمسن طالب علم عبداللہ عثمان نے خوب اعتماد کے ساتھ تمثیلی کہانی پیش کی اور وریشہ عثمان نے اپنے نصاب کی نظم سنا کر محفل سے خوب داد پائی۔ اجتبیٰ صدیقی جو نویں جماعت کے طالب علم ہیں اپنی تحریر کی ہوئی خوبصورت نظم سنا کر حاضرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور ایک بہترین پیغام دیا کہ اردو زبان سے ا±نسیت و محبت کرنے والوں کی تعداد کبھی نہ رکنے والی ہے۔ ٹوسٹماسٹر سید منصور شاہ گلکنڈوی اور ٹوسٹماسٹر سید آصف پاشا نے ایک مزاحیہ اسٹیج ڈرامہ پیش کیا۔ حاضرین محفل حیدرآباد آبادی و ممبئی لب و لہجے کے مکالمات سے از حد محظوظ ہوتے رہے ۔ یہ ڈرامہ اداکاری کا بہت ہی عمدہ اور منجھا ہوا شہکار محسوس ہوا۔
ٹوسٹماسٹر غزالہ کامرانی نے خوبصورت گیت سنا کر محفل کو مسحور کر دیا اور شائقینِ موسیقی نے دل کھول کر داد دی۔ٹوسٹماسٹر ضیاءالرحمٰن صدیقی اور ثمن طارق نے خوبصورت دوگانہ پیش کیا جس سے محفل میں جلترنگ سے بج اٹھے ۔ اردو ٹوسٹماسٹرز کلب کے بنیادی رہنما اصولوں و ضابطہ تعلیم میں ، فنِ تقریر و فنِ قیادت کی تربیت مضمر ہے لیکن اردو ٹوسٹماسٹرز کلب میں ضمنی طور پر اراکینِ کلب کی پوشیدہ صلاحیتوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جس سے اردو ٹوسٹماسٹرز کلب ایک خاندان کے طور پر پروان چڑھ رہا ہے ۔ اردو ٹوسٹماسٹرز کلب کے ستر فی صد اراکین شاعر اور بیس فی صد موسیقی سے شغف رکھتے ہیں۔ پانچ فی صد نثری ادب کی طرف راغب ہیں ۔ تین فی صد اس سوچ میں مبتلا ہیں کہ وہ کون سا شعبہ اپنائیں ؟ اور دو فی صد اب بھی خود کو بہترین سامع کے طور پر انتظامی امور میں دلچسپی پر نازاں ہیںگویا اردو ٹوسٹماسٹرز کلب، خداداد صلاحیتوں سے لبریز اراکین کا مسکن ہے ۔
    اجلاس میں مہمانان کی تعدادتوقع سے زیادہ رہی جو اردو ٹوسٹماسٹرز کلب کی مقبولیت کا بین ثبوت ہے ، اجلاس گاہ میں ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا کہ کلب کی کامیابی غیر معمولی اعزاز ہے ، جو اردو کلب کی7 سال قبل ابتداءسے اب تک ہر سال مقدر بنتی رہی ہے۔اس کامیابی اور انتہائی خوشی کے موقع پر سابق صدور ٹوسٹماسٹر محمد سلیم حسرت اور ٹوسٹماسٹر ضیاءالرحمٰن صدیقی کی جانب سے اہتمام کیا گیا تھا۔ رضاکارانہ امور میں محترمہ مبینہ صدیقی نے خدمات پیش کیں۔
 

شیئر: