پی ٹی آئی میں بے چینی کی لہر

***سید شکیل احمد***
  بلا شبہ یہ با ت درست ہے کہ عمر ان خان کی ٹیم میں نا تجر بہ کا ری پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے عوام بھی ششدر ہیں کہ وہ یہ نہیں جا ن پارہے ہیںکہ حکومت کی پالیسی کیا ہے کیونکہ آئے دن حکومت کی پالیسیو ں میں رد وبدل ہو تا رہتا ہے چنا نچہ وثو ق سے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی رائے متعین نہیں کی جا سکتی ۔ صرف ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ پی ٹی آئی اپنے حزب اختلا ف کے زما نے میںجس طر ح مسلم لیگ ن کے پیچھے پڑی تھی سو اب بھی اسی میں استخکام پایا جا تا ہے اب تو پی ٹی آئی کو اقتدار کی سیڑھیا ں چرھانے میں سہو لت کا ر بننے والی جما عت پی پی بھی اس کے نشانے پر آگئی ہے چنا نچہ گزشتہ دنو ں سندھ میں پی پی کی حکومت کا اقتدار پلٹ جانے کے بارے میں خوب ڈونڈی پیٹی گئی مگر کیا ہو ا کہ چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے سند ھ میں گورنر راج کے قیا م کے بارے میں جب یہ ریمارکس آئے کہ عدالت 2 سکینڈ میں گورنر راج ختم کر دے گی ، اس کے بعدسندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بچ گئی۔
وزیر اطلاعات فواد چودھری جوان دنو ں فارورڈ بلاک کی بات کر رہے تھے انہوں نے بھی اپنی پارٹی کے ورثے کے مطا بق یوٹرن لیا اور فرمایا کہ ان کا مقصد سند ھ کی حکومت کو گرانا نہیں تھا نہ فارورڈ بلاک بلکہ وزیراعلی سندھ کو تبدیل کر دیا جائے۔ وزیر اعلی سندھ اسمبلی کے منتخب کردہ وزیراعلی ہے اور ان کو اپنی اسمبلی کا مینڈیٹ حاصل ہے۔ زیادہ سے زیادہ ان سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں ۔ پاکستان کی سیاسی بد قسمتی یہی ہے کہ منتخب حکومتوں کو اسی طرح توڑا جاتا ہے یا ان کے خلاف اسی طرح کی سازشیں ہوتی رہی ہیں۔کیا خود پی ٹی آئی اس جیسے گھنا و¿ نے کھیل کو اپنے اندر قبول کر لے گی یہ بات ناممکن ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماو¿ں کو یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ ان کو بھاری مینڈیٹ نہیں ملا۔ ایک سادہ اکثریت کی بنیاد پر اس کی وفاق میں حکومت قائم ہے اور ایسی کوشش ان کے مخالفین کی طرف سے بھی کی جاسکتی ہے۔ پچھلے دنوں پھر مینگل کا نام بھی سامنے آتا رہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں سندھ حکومت گرانے کے جواب میں یہ کوشش کر رہی ہیں کہ اخترمینگل کی قیادت میں وفاقی حکومت قائم کر دی جائے۔ ایک طرف پیپلزپارٹی ہے دوسری طرف نواز شریف ہیں۔ ان کے متحد ہوجانے سے حزب اختلاف میں اکثریت کا عنصر بڑھ سکتا ہے اور اس حد تک قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ تحریک انصاف کی حلیف جماعتیں بھی اب تحریک انصاف سے غیر مطمئن ہو چکی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے ساتھ جو وعدے کیے گئے تھے وہ صحیح طور پر پورے نہیں کیے جا رہے ہیں۔ اس میں خاص طور پر بی این پی کے بارے میں بھی یہ گمان ہے کہ وہ بہت زیادہ غیر مطمئن ہے جبکہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون کا اگر اتحاد ہو جاتا ہے اور ان کو مولانا فضل الرحمن کی حمایت بھی یقینی طور پر حاصل ہوجائے گی تو یہ اتحاد وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض عناصر کا اشارہ ہے کہ ایسی ہلچل رازداری کے ساتھ چل رہی ہے کیونکہ تحریک انصاف کی ایک بڑی حلیف جماعت بی این پی کے اخترمینگل مطمئن نہیں ہیں۔ حالات اس امر کی نشاندہی کررہے ہیں کہ اگر پی پی کو چھیڑا گیا تو وہ سندھ کارڈ استعمال کریں گے کیونکہ بلاول بھٹو نے اپنی تقاریر اور بیانات میں جا رحانہ انداز میں کہا کہ جس صوبے سے سب سے زیادہ قدرتی گیس نکلتی ہے اسی صوبے کے عوام کو اس سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس طرح کے بیان دینے کا مقصد یہ تھا کہ یہ باور کرانا ہے کہ اگر ہم سے پنجہ آزمائی کی گئی تو سندھ کارڈ کا کھل کر استعمال ہو گا۔
    خود پی ٹی آئی میں بے چینی کی کا فی لہر پائی جا تی ہے۔ اب تو پی ٹی آئی کے رہنما ءکھلے عام بے اطمینا نی کا اظہا ر کر نے لگے ہیں۔ پی ٹی آئی کے منتخب نمائند و ں اور خاص طورپر وہ رہنما ءجو حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں وہ پی ٹی آئی کے غیر منتخب لیڈروں کی حکومتی امو ر میں مداخلت سے سخت نا لا ں ہیں ، خاص طو پر جہا نگیر ترین کی مداخلت سے عاجز ہو چکے ہیں ، اب تو وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جس شخص کو عدالت عظمیٰ جیسے عظیم ادارے نے کر پٹ قرار دید یا ہو اور ساری زندگی کیلئے نا اہل قرار قراردے دیا ہو اس کا ایک امین وصادق لیڈر اور حکمر ان کے ہمہ وقت آگے پیچھے منڈلائے رہنا کسی طور منا سب نہیں اور حکومتی امو ر میں اس کی مداخلت اخلا قیا ت کے بھی بر عکس ہے ۔ایک جہا نگیر ترین کا معاملہ نہیں ہے بلکہ غیر منتخب افراد پر مشتمل جو مشیر و ں کی بھرتی کر رکھی ہے ان کی مد اخلت سے بھی عاجز ہیں ۔
گڈگورنس کی یہ حالت ہے کہ پہلے ایک قد م اٹھا یا جا تا ہے پھر اس کی تردید کر دی جا تی ہے اور وہ اقدام واپس لے لیا جاتا ہے ، جس کی ایک مثال فرخ نسیم کی تقرری ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ فرخ سلیم حکومت کے ترجمان نہیں۔ جبکہ 3 ماہ پہلے فواد چوہدری نے ہی ایک ٹوئٹ میں فرخ سلیم کی تقرری کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ جلد نوٹی فکیشن جاری کر دیا جائے گا۔اب ٹویٹ کیا ہے کہ فرخ سلیم حکومت کے ترجمان نہیں وہ کوئی بھی رائے دینے میں آزاد ہیں۔ وزیراطلاعات کی اس وضاحت سے پہلے فرخ سلیم کی جانب سے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی گئی تھی۔گزشتہ روز فرخ سلیم نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہیں ہوسکا۔ حکومت کی حکمت عملی کام نہیں کر رہی، ہم بیماری کا علاج نہیں کر رہے۔ علامات دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی طرح ئی ایف آئی اے حکام نے بعض دیگر ممالک کے شہریوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی شہریوں کے پاکستان میں داخلے کے بارے میں بھی قواعد و ضوابط جاری کر دیئے۔ سوشل میڈیا پر شور اٹھنے کے بعد اسرائیل کا نام فوری طور پر ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حکومت کے ناقدین کے مطابق اسرائیلی طیارے کی مبینہ طور پر پاکستان آمد کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے اسرائیل سے اپنی قربت اور اس سے تعلقات استوار کرنے کی بے چینی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت نے اس ضمن میں پاکستانی عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا ہے کہ اس کا ردعمل دیکھ سکے لیکن ایف آئی اے حکام اسے غلطی قرار دیتے ہیں۔ 
 

شیئر: