”الحدیدة “ .... مشکل امتحان

سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ” عکاظ“ کا اداریہ نذر قارئین ہے
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے یمن کی آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد سے الحدیدة یمنی بحران کے حل کی راہ میں بہت بڑا امتحان بنا ہوا ہے۔ الحدیدة کا امتحان 2015ءسے جاری ہے۔ حوثی باغی ہٹ دھرمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سویڈن معاہدے کی من مانی تشریح کرکے جنگ بندی کے پروگرام کو سمیٹنے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔
یمن کیلئے اقوام متحدہ کے ایلچی حوثیوں کی یہ ہٹ دھرمی دیکھ کر صنعاءسے نکل گئے۔ انہوں نے 2روز تک حوثیوں کو الحدیدة اور اسکی بندرگاہوں سے نکلنے پر آمادہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہیں سمجھانا چاہا کہ وہ الحدیدة اور اسکی بندرگاہوں میں مقامی فورس تعینات کرنے کا موقع دیدیں تاہم حوثی باغیوں کی ہٹ دھرمی کے باعث اس سلسلے میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ مقامی سیکیورٹی فورس سے مراد خود حوثیوں کی سیکیورٹی فورس ہے کیونکہ یمن کی وہ حکومت جو خود کو آئینی اور منتخب حکومت کہنے کی دعویدار ہے وہ حقیقت میں منتخب حکومت نہیں۔ حوثی یہ کہہ کر سویڈن معاہدے سے ہاتھ جھاڑ رہے ہیں۔
عرب اتحاد برائے یمن نے بتایا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی اب تک 368خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں۔ حوثی جنگ بندی کے معاہدے کو کسی بھی طرح ناکام بنانے کے درپے ہیں۔ دوسری جانب یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی نے اقوام متحدہ کے ایلچی برائے یمن کے ریاض پہنچنے سے قبل یہ جتا دیا کہ الحدیدة شہر او راسکی بندرگاہوں سے حوثیوں کا انخلاءضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حوثی سویڈن معاہدے پر عملدرآمد میں آنا کانی کررہے ہیں۔ اب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بہت بڑا چیلنج درپیش ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ انہیں حوثیوں کو سویڈن معاہدے پر عمل درآمد کا پابند بنانا ہے اور اس سلسلے میں حوثیوں کی جانب سے الحدیدة میں اپنی موجودگی کا دورانیہ دراز کرنے والی اسکیم کو ناکام بنانا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: