ادویہ کے استعمال میں سنجیدگی

لندن ۔۔۔ درد سے آرام اور مسکن دواﺅں کا استعمال وقت کے ساتھ کچھ اتنا آسان لیکن نقصان دہ ہوگیا ہے کہ اسکے مختلف پہلوﺅں پر غورکیا جائے تو انسان کانپ کر رہ جائے۔آج کے دور میں لوگوں نے مصروفیت کو ڈاکٹروں سے وقت پر رجوع نہ کرنے کا بہانہ بنایا ہے اور اگربدن اور ہاتھ میں تکلیف ہورہی ہو یا سر میں درد ہورہا ہو اسی قسم کی کیفیات کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جائے یعنی بخار کی صورتحال پیدا ہوجائے تو لوگ اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ڈاکٹرو ںاور ماہرین طب کا کہناہے کہ اکثر لوگ ڈاکٹرو ں کو دکھائے بغیر اور ان سے مشورہ نہ لیکر خود دوا فروشوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور بغیر نسخے کے کاﺅنٹر پر جاکر اسپرین یا بروفین جیسی ادویہ طلب کرتے ہیں ۔ اب سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس قسم کی ادویہ استعمال کرنے سے انسان کی قوت مدافعت اور بھی کمزور ہوجاتی ہے اور پھر چاق و چوبند اور توانا بننے کیلئے لی جانے والی تما م ادویہ بیکار ثابت ہوتی ہیں۔ سائنسدانوں کاکہناہے کہ یہ نتیجہ چوہوں پر لیباریٹری کے اندر تجربات میں سامنے آیا ہے۔ تجربے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایسی مسکن ادویہ کھانے سے جسم کے اندر ایسے خامرے پیدا ہوتے ہیں جو اچانک موت کا سبب بننے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ 
 

شیئر:

متعلقہ خبریں