وزارت عظمیٰ كےلئے مودی بمقابله یوگی

***سید اجمل حسین ۔ دهلی***
اگر2015 حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے 2014کی بے مثال کامیابی کی خوشگوار یادوں کے ساتھ نمودار ہوا تھا تو 2019حزب اختلاف کانگریس کی 2018میں 4 ریاستوں میں حکومت سازی کرنے میں کامیابی کے رپورٹ کارڈ کے ساتھ طلوع ہوا ہے۔ ان ریاستوں میں کانگریس کی سوائے چھتیس گڑھ کے باقی اسمبلیوں میں محض سب سے بڑی واحد پارٹی ہونے کے باعث حکومت سازی میں کامیابی کو 2019میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں بھی کامیابی کی ضمانت نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یوں کہنے کو تو سیاسی ماہرین نے لوک سبھا انتخابات سے عین قبل ہونے والے5 اسمبلی انتخابات کو عام انتخابات کا سیمی فائنل قرار دیا تھالیکن نامساعد حالات اور حکومت وقت مخالف لہر کے باوجود بی جے پی کو اقتدار سے میلوں دور روکنے میں کانگریس کی ناکامی اس امر کا ثبوت ہے کہ ووٹرز ابھی تک’’مودی سحر ‘‘ میں جکڑے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پارٹی صدر امیت شاہ اس قدر پر اعتمادنظر آرہے ہیں کہ جہاں عام طور پر انتخابات کے موقع پر واضح تصویر نظر نہ آنے کے باعث ہر پارٹی سربراہ جیتنے کی صرف امید ظاہر کرتا ہے وہیں امیت شاہ نے لوک سبھا انتخابات 300سیٹوں کے ساتھ جیتنے کا دعویٰ کر کے اس خیال کو اور تقویت بخشی ہے کہ ملک کا ایک مخصوص طبقہ مودی کے جادو سے آزاد نہیں ہوا ہے۔ امیت شاہ نے یہ بات شمال مشرقی ریاستوں بشمول مغربی بنگال سے 50سیٹیں جیتنے کے دعوے کے ساتھ کہی ہے۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی لیڈراِن و کارکن نسبتاً بہتر فرقہ وارانہ ہم آہنگی والے خطہ کے ووٹروں کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس زبردست اعتماد کے باوجود کانگریس اور دیگر علاقائی پارٹیوں کی طرح خود بی جے پی بھی ان اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہے کہ نہیں معلوم یہ2019کیا گل کھلائے گا۔ جہاں ایک جانب کانگریس نے بہار ،آندھرا پردیش، مہاراشٹر،تمل ناڈو اور کرناٹک میں علاقائی پارٹیوں سے اور اترپردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی  نے قبل از انتخابات اتحاد کر کے بی جے پی کی دل کی دھڑکنیں بڑھادیں وہیں دوسری جانب بی جے پی کے اندر رسہ کشی ،وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے یوگی بمقابلہ مودی شوشہ چھوڑنے ، اور سب سے بڑھ کر سابق پارٹی صدر اور حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کی روشنی میں مرکزی وزیر نتن گڈکری اور مودی لہر گھر گھر پہنچانے میں نہایت اہم کردار ادا کرنے والے یوگ ماہر بابا رام دیو نے حوصلہ شکن بیان دے کر اس میں خوف و گھبراہٹ کی لہر دوڑا دی۔ واضح ہو کہ اگر گڈکری نے اشاروں اشاروں میں مودی،شاہ جوڑی کے طریقہ کار و طرز تکلم پر انگشت نمائی کی تورام دیو نے یہ کہہ کرکہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ملک کا آئندہ وزیر اعظم کون ہوگا؟ اپنے معتقدین کو کنفیوز کر دیا کہ جب مودی کے سب سے بڑے بھگت مودی کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں تو انہیں کیا کرنا چاہئے۔ گڈکری کا بیان اور رام دیو کا سر بدل لینا بر سر اقتدار پارٹی کو بے چینی اور خوف و اندیشوں میں مبتلا کرنے کو کافی  ہے۔یہی نہیں بلکہ این ڈی اے میں شامل پارٹیوں نے بھی بی جے پی قیادت کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں ۔تیلگو دیشم نے اگر این ڈی اے سے ناتہ توڑ کر کانگریس سے پینگیں بڑھانے کے ساتھ حالیہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں اس کے ساتھ اتحاد کرکے علیحدگی کو حتمی شکل دے دی تو شیو سینا نے عام انتخابات کے لیے بی جے پی سے اتحاد نہ کرنے کا اعلان کر کے بی جے پی کو لرزہ بر اندام کر دیا۔ایسے حالات میں مودی اور شاہ کی جوڑی کو ان تمام محاذوں کو سر کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر ہی اٹھ رہی بغاوت کی چنگاری کو آگ کی شکل میں بدلنے سے روکنے کے جتن کرنا ہوں گے ورنہ یہی آگ عام انتخابات سے پہلے ہی پارٹی کے امکانات کو ،جو 33اشیاء پر سے جی ایس ٹی شرحیں کم کرنے اور 2 اشیاء پرسے بالکل ختم کردینے سے روشن ہوتے نظر آرہے تھے ،بھسم کر سکتی ہے۔
 

شیئر: