افتخار چوہدری کو سمن جاری کرنا مناسب نہیں،چیف جسٹس

  اسلام آباد ... سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کے خلاف بیرون ملک اثاثوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت میں ریمارکس دیئے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو کیس میں سمن جاری کرنا مناسب نہیں لگتا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی جوڈیشل کونسل نے ریفرنس پر سماعت کی۔ جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان نے بتایا کہ کچھ گواہان ملک سے باہر ہیں ۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آپ بتا دیں کتنے گواہان پیش کرنے ہیں۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلانا ہے یا نہیں۔حامد خان نے موقف اختیار کیا کہ آپ گواہان کو پیش ہونے کا آرڈر کردیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بالکل آرڈر نہیں کریں گے۔آپ لانا چاہیں تو لے آئیں، وہ آکر اپنا بیان قلمبند کرائیں۔چیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے افتخار محمد چوہدری کا بیان حلفی دیا ہے۔ وہ نامور قانون دان ہیں۔ انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ذاتی طور پر بیان قلمبند کرائے بغیر بیان حلفی کو کوئی اہمیت نہیں۔جس دن بیان حلفی کی تصدیق ہوئی اس دن افتخار محمد چوہدری ملک میں نہیں تھے۔

شیئر: