آگ قابو میں ہو تو زندگی، بپھرجائے تو موت

عنبرین فیض احمد ۔ ینبع

    ہوا، پانی اور آگ یہ 3 ایسی چیزیں ہیں جو انسانی زندگی میں بہت تباہی و بربادی لاتی ہیں پھر بھی انسان ان کے بغیر زندہ نہیںرہ سکتا ۔ ہمیں یوں کہنا چاہئے کہ انسان کا ان عناصر کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ حیات انسانی کا انحصار جن عناصر پر ہے وہ آگ ، مٹی، ہوا اور پانی ہیں لیکن ان چاروں عناصر میں پانی کی اہمیت اس لئے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ انسانی جسم کے اندر پانی 70فیصد پایا جاتا ہے۔ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن کا وہ انتہائی اہم مرکب ہے جو اللہ رب العزت کی تخلیق کردہ اس وسیع و عریض کائنات میں ہر ذی روح کی زندگی کا سب سے بڑا سبب بنا ہوا ہے۔
    ہوا سے انسان کو آکسیجن حاصل ہوتی ہے اس کے بغیر ہم سانس بھی نہیں لے سکتے اور پانی کے بغیر بھی زندہ نہیں رہ سکتے اور نہ ہی ہمارے نزدیک آگ کی اہمیت وضرورت کم ہوسکتی ہے۔ یہ تینوں قدرت کی ایسی قوتیں ہیںجو انسان کے لئے انتہائی ضروری بھی ہیں اور جن کے ذریعے دنیا میں بے پناہ تباہی بھی آتی ہے۔ ہوااگر مست ہوجائے ،اپنی رفتار تیز کردے تو دنیا میں تباہی پھیل جائے گی ۔ ہوا کا طوفان جب سمندر میں داخل ہوتا ہے توبربادی لاتا ہے جسے سائیکلون جیسے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ۔ کبھی یہ ٹورنیڈو کی شکل میں زندگی کا خاتمہ کرتا ہے ۔
     پانی انسان کا دوست بھی ہے اور دشمن بھی ۔ پانی کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔ انسان نے بہت ترقی کی ۔ سائنس نے بھی ترقی کے میدان میں اپنے جھنڈے گاڑے ۔ نت نئی ایجادات کیں اور ان ایجادات نے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈالدیا مگر اس پانی اور آگ کے سامنے انسان بے بس نظر آتا ہے۔نہر، دریا اور سمندر کسی کے دوست نہیں ہوتے لیکن انسان اس کے باوجود ان سے کھیلنے سے باز نہیں آتا۔ اس سلسلے میں ایک مشہور محاورہ ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہئے ۔ بعض اوقات ڈوبتے ہوئے انسان کو ہلکا سا سہارا مل جاتا ہے تو وہ ڈوبنے سے بچ جاتا ہے اور اکثر اوقات معمولی سی مقدار میں پانی بھی انسان کیلئے موت کا بہانہ بن جاتا ہے۔
    یہ ہم سب کو معلوم ہے کہ آگ اور پانی کا کھیل خطرناک ثابت ہوتا ہے لیکن پھر بھی بچے ، بوڑھے اور جوان سب ہی آگ سے کھیلتے ہیں۔آگ قابو میں ہو تو زندگی ہے اور بپھر جائے تو موت کا سبب بنتی ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک بھر میں مختلف مواقع پر آتش بازی کا مظاہرہ کیاجاتا ہے اور اس دوران اکثر ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیںجن میں چھوٹے بچے ماچس او رپٹاخوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں اور والدین کی لاپروائی کسی سانحے کا موجب بنتی ہے۔ اگرچہ حکومت نے آتشبازی پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے لیکن پھر بھی اکا دکا واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ آگ اور پانی پر قابو پانا انتہائی مشکل کام ہے ۔آگ لگنے کے کئی واقعات حال ہی میں ہماری نظروں سے گزرے ہیں جن میں کئی ہلاکتیں ہوئیں جبکہ موسم گرما میں بپھرے ہوئے دریا اور نہریں کئی بچوں اور بڑوں کو نگل جاتی ہیں۔ ایسے کئی ناخوشگوار واقعات شہ سرخیوں کے ساتھ ہر سال ٹی وی چینل او راخبارات کی زینت بنتے ہیں ۔ اس موسم میں کئی دوست دریاﺅں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہونا چاہئے کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت تو ہے او راس کے بغیر کوئی جاندار زندہ بھی نہیں رہ سکتا مگر ساتھ ہی پانی ،انسان، حیوان اور فصلوں کا دشمن بھی ہے۔ ضرورت سے زیادہ پانی انسان کی زندگی میں تباہی مچا دیتا ہے ۔ اسی طرح بپھرا ہوا پانی مال مویشی اور کئی جانیں تک بہا کر لیجاتا ہے۔
    حال ہی میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شمال کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے نتیجے میںمتعدد افراد ہلاک ہوگئے۔ آگ کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ لوگوں کو ہنگامی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی اور محفوظ پناہ گاہوں پر جانا پڑا۔ آگ کے شعلے اور اس کی لپٹیں اس قدر تیزی سے پھیل رہی تھیں کہ بعض لوگ اپنی کاریںچھوڑ کر اپنی جان بچانے کیلئے نکل کھڑے ہوئے۔پانی، آگ اور ہوا وہ قوتیں ہیں جن سے ہمیشہ انسان کو خوف ہی محسوس کرنا چاہئے ۔ اکثر امریکہ کے ساحلی علاقوں میں ہوا سے تباہی کا منظر دیکھنے میں آتا ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔طوفان سے ہزاروں مکانات تہس نہس ہوجاتے ہیں اور انسان کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔
    ٹھیک اسی طرح آگ کے بغیر انسان کا کوئی کام نہیں ہوسکتا یعنی انسان اس کے بغیر رہ نہیں سکتا۔ قدیم زمانے میں جب دنیا نے اتنی ترقی نہیں کی تھی اس وقت بھی لوگ پتھروں کو رگڑ کر آگ جلایا کرتے تھے اور اپنی ضروریات پوری کرتے تھے۔ آگ کی ضرورت اس وقت ہوتی تھی جب انسان سردی کی لہر میں پھنس جاتا اور اس کو گرمی اور حرارت کی ضرورت ہوتی تھی۔ آگ کی ضرورت اس وقت انسان کوزیادہ محسوس ہوتی ہے جب اسے کھانا پکانا ہوتا ہے مگر یہی اگر بے قابو ہوجائے تو جنگل کی آگ کی طرح پھیل کرمکانوں کو جلا کر راکھ کردیتی ہے پھر انسان کا اس سے بچ نکلنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی لئے پانی، ہوا اور آگ سے ہمیشہ ہی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ ان تینوں قوتوں سے انسان کو بہت فائدہ ہے مگر نقصان بھی کم نہیں۔ پانی کا بندوبست ہمیشہ کرکے رکھنا چاہئے کیونکہ اگر پانی ختم ہوجائے تو انسان پیاسا مر جاتا ہے ۔ ڈیم بھی اسی لئے بنائے جاتے ہیں تاکہ پانی کا ذخیرہ کیا جاسکے جس طرح سانس لئے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح بغیر پانی کے بھی انسان زندگی نہیں گزار سکتا۔
    آج ہم جیسے جیسے ترقی کررہے ہیں لوگ ایک دوسرے کی ترقی دیکھ کر حسد کی آگ میں جل کر راکھ ہورہے ہیں اور اپنی حسد کی آگ سے دوسروں کو جلانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے تباہی دونو ںجانب آتی ہے۔ہمارا معاشرہ اس وقت جن برائیوں کا شکار ہے ان میں حسد سب سے زیادہ خطرناک ہے جس سے بچنا چاہئے کیونکہ حسد ہی معاشرے میں بغض ، عداوت اور نفرت کے بیج بوتا ہے۔ یہ ایسی برائی ہے جس سے انسان دل ہی دل میں گھٹ کر مختلف ذہنی و جسمانی امراض میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ حاسد کی سزا کا عمل اس دنیا میں ہی شروع ہوجاتا ہے۔ ہمیں حاسد کے شر سے بھی پناہ مانگنی چاہئے ۔

 

شیئر: