طبیخ و طعام کا سب اہتمام آگ سے ہے

 
 تسنیم امجد۔ریاض
    جہاں آگ ایک خطرناک شے ہے وہاں اس کے فا ئدوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔انسانی ترقی میں اس کا سو فیصد حصہ رہا ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹنے سے وا ضح ہوتا ہے کہ تقریباََ 1.7ملین برس قبل انسان نے اس پر قابو پانا سیکھ لیا تھا ۔شاید وہی زمانہ جس میں ”چقماق“ پتھروں کو رگڑ کر آگ پیدا کی جاتی تھی جس کا ذکر کہا نیوں میں ہم نے پڑ ھاہے ۔یہ کہنا بجا ہو گاکہ انسانی تر قی کا زیادہ تر دارو مدار آگ پر رہا ہے۔انسان نے سب سے پہلے اپنے شکار کو اس سے محفوظ کرنا شروع کیا ۔موسموں کی سختی سے پہلے ہی وہ اپنے لئے خوراک محفوظ کرتا جس کے لئے آگ ہی اس کی ممدہوتی تھی ۔گوشت کو خشک کر کے ان مو سموں کے لئے رکھنے کا شعور بھی اسے آ گ نے دیا جن میں جانوروں کا شکار ممکن نہیں تھا ۔اوزار بنا ئے گئے یعنی دھا توں کا استعمال بھی اسی سے ممکن ہوا ۔جنگلوں کی صفائی کے لئے اس کی مدد درکار ہوتی ہے ۔اسے جلانے کے بعد جنگل کی زمین پر نا یاب قسم کی جڑی بو ٹیاں اگتی ہیں کیونکہ غیر ضروری گھاس پھوس کا جل جانا مفید رہتا ہے ۔آگ کی مدد سے ہی جنگلوں میں راستہ بھولنے والے اپنا پتہ جان پاتے ہیں یعنی بھٹکنے وا لوں کی تلاش آ سان ہو جاتی ہے ۔ہاں اس آگ کا ایک منفی پہلو بھی ہے۔جنگل کی آگ کا استعمال محاوروں میں تو سنا ہو گا ، اکثر عام بول چال میں استعمال ہو تے ہیں کیونکہ اس آگ پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے ایسے ہی جیسے کسی خبر پر ،مشہور شا عر احمد فراز کا شعر ہے:
 ہوا نہ دو کہ یہ جنگل کی آ گ ہے یا رو
عجب نہیں ہے اگر پھیل جائے شہروں میں
    ایک اور منفی پہلو یہ ہے کہ اس کے دھوئیں سے ہی اموات ہوتی ہیں ۔اکثر جب گھروں یا بڑی بڑی عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات ہوتے ہیں تو جلنے کی بجائے دھوئیں سے دم گھٹنے کی خبریں سنی جاتی ہیں ۔اکثر گھروں میں پلاسٹک کی اشیاءبھی اس کے نقصان میں اضافہ کرتی ہیں ۔اسی لئے کو ئلوں کی انگیٹھی بند کمرے میں جلا کر سونے سے منع کیا جاتا ہے ۔
    دھنک کے صفحے پر دی گئی تصویر سے ہمیں اپنے نصاب میں سے ”مر زا فر حت اللہ بیگ“کا ایک اقتباس یاد آیا جسے ہماری ٹیچر اس دلچسپ انداز میں پڑ ھتی تھیں کہ آج تک یاد ہے کہ ” بیٹا جاڑے کا کیا کہنا ! سبحان اللہ !مہاوٹ برس رہے ہیں،دا لانوں کے پردے پڑے ہیں۔انگیٹھیاں سلگ رہی ہیں،لحافوں میں دبکے بیٹھے ہیں،چائے بن رہی ہے ،خود پی رہے ہیں ،دوسروں کو پلا رہے ہیں ۔صبح ہوئی اور چنے والا آ یا ،گرما گرم چنے لئے ،پہلے پھو لے پھو لے چنے کھا ئے پھر کڑ کڑ ٹھڈیاں کھا ئیں۔حلوہ پو ریاں ا ڑ رہی ہیں۔کابل سے طرح طرح کے میوے آ رہے ہیں۔حلوہ سو ہن بن رہا ہے ۔گا جر کی تیاری ہو رہی ہے ۔با جرے کا ملیدہ بن رہا ہے ۔رس کی کھیر پک رہی ہے۔ ادھر کھا یا ،ادھر ہضم ۔خون ہے کہ چلوﺅں بڑھ رہا ہے ۔چہرے سرخ ہو رہے ہیں ۔“
اسے بھی پڑھئے:دوہستیوں کے لئے عمر بھر کی اذیت و کرب کا سامان، طلاق
    ذرا سو چئے ،کھانے پینے اور طبیخ و طعام کا سب اہتمام آگ کی بدولت ہی تو ہے ۔سوئی گیس اور بجلی کے چو لھے اپنی جگہ لیکن آگ کا مقابلہ یہ نہیں کر سکتیں ۔اسی ہفتے ایک بار بی کیو پا رٹی میں جانے کا اتفاق ہوا ۔وہاں بڑی بڑی انگیٹھیوں میں کوئلے دہک رہے تھے ۔ہر طرف مر غی و گوشت کی بو ٹیاں بھننے کی خوشبو اشتہا کو بڑ ھا رہی تھیں ۔خواتین و حضرات کی الگ الگ بیٹھک میں کو ئلوں پر اور گیس کی انگیٹھیوں پر بھننے والے گوشت کا فرق زور و شور سے بیان کیا جا رہا تھا ۔پلڑا کو ئلوں کا بھا ری تھا ۔ویسے آ جکل تو شہرِ ریاض سردی کی لہر کی زد میں ہے اور آگ تاپنے کے منا ظر عام دیکھے جا رہے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ جا ڑے اور آگ کا چو لی دامن کا ساتھ ہے ۔ہم کوئلوں سے چلنے والے انجنوں کو کیسے بھول سکتے ہیں۔دور سے ہی چھک چھک کرتی آ واز اور اوپر سے دھواں چھو ڑتا انجن بھی بہت بھلا لگتا تھا ۔فیکٹر یوں میں ایندھن کا جلنا بھی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے ۔پٹا خوں کی بہار کیسے بھولی جا سکتی ہے ۔آتش بازی کے نت نئے انداز اسی نے سکھائے ۔دنیا کی دو رنگی تو مشہور ہے ۔تبدیلی ہی ایک ایسی چیز ہے جو مستقل ہے جسے تغیر نہیں جبکہ با قی تمام اشیاءتغیرات کے شکنجے میں ہیں ۔آگ کا ذکر چلا تو اس آگ کا بھی حوالہ ضروری ہے جو دلوں میں لگتی ہے یا لگائی جاتی ہے ۔بظاہر نظر نہ آنے والی اس آگ کو شا عروں نے اپنے اشعار کی زینت بنایا:
آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے
بجھتے بجھتے ایک زمانہ لگتا ہے
     نفرتوں کی آگ اور عشق کی آگ بھی ایسے ہے کہ :
دل کی خا مو شی پر مت جا
راکھ کے نیچے آگ دبی ہے
    یہ وہ آگ ہے جس کے جلنے کا احساس صرف اسی کو ہوتا ہے جو اس سے متاثرہو ۔کبھی کبھی یہ سسکیوں اور آ ہوں پر منتج ہوتی ہے اور کبھی کبھی جدائیوں و دوریوں کا سبب بنتی ہے ۔مخا لفتوں کا سلسلہ نسل در نسل چلتا ہے ۔کورٹ، کچہریوں کے چکرلگواتا ہے ۔اس کی تو نگری تب بھی بے تحا شا ہو تی ہے ۔ایسی آگ لگنے اور لگانے والے کو سراب میں رکھتی ہے۔ دو نوں جانب زنگ لگ جاتا ہے ۔جلاپے سے شخصیتیں مسخ ہو جاتی ہیںلیکن حقیقت پسندی سے پھر بھی کوئی کام نہیں لیتا ۔اکثر زبان سے آگ کو ہوا دی جاتی ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتی۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ”زبان کا ز خم تلوار کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے“،اس سے لگائی آگ سے انسان تلملا کر رہ جاتا ہے ۔حال ہی کی بات ہے کہ کچھ لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔اچانک ایک کی آ واز آئی کہ میری بات شاید سمجھ نہیں پا رہے ہو ،ٹوپی اتاروں کیا ؟اس طرح ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا ۔بڑی مشکل سے معاملہ سنبھلا۔ہم مسلمانوں کو اندازگفتگو بہتر رکھنے کی تاکید فرمائی گئی ہے ۔
 

شیئر: