پاکستان ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم کا "شعیب اختر"کہلانے والا شیرعلی آفریدی

لندن:معذورکھلاڑیوں کا ”شعیب اختر“ کہلانے والے شیر علی آفریدی کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی وہ سوچتے ہیں کہ اگر ان کی ٹانگ ٹھیک ہوتی تو شاید انہیں اتنی شہرت نہ ملتی جو انہیں اس حیثیت سے ملی ۔پاکستان کی ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نے مزید کہا کہ اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ معذور ہوتے ہوئے بھی مجھے کرکٹ کے کھیل میں اتنی شہرت اورعزت ملی۔ شیرعلی آفریدی کا تعلق قبائلی ضلع خیبر سے ہے۔ بچپن میں ایک حادثے میں ان کی بائیں ٹانگ ضائع ہو گئی تھی تاہم وہ مصنوعی ٹانگ لگا کر نہ صرف عام افراد کی طرح کرکٹ کھیلتے ہیں بلکہ فاسٹ بولنگ بھی کرتے ہیں۔شیر علی ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم کے رکن کی حیثیت سے کئی ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ وہ ڈس ایبلڈ کھلاڑیوں میں دنیا کے سب سے تیز رفتار بولر ہیں اور اسی وجہ سے انھیں”معذوروں کا شعیب اختر“بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں معذور کھلاڑیوں کی قومی کرکٹ ٹیم موجود ہے لیکن ان کھلاڑیوں کو سرکاری طورپر باقاعدہ کوئی سرپرستی حاصل نہیں جس پر توجہ کی اشد ضرورت ہے۔شیر علی کا کہنا تھا کہ جس طرح میں ملک میں عام کھلاڑیوں کو اہمیت دی جاتی ہے اور ان کو مختلف مراعات ملتی ہیں اس طرح معذور کھلاڑیوں پرتوجہ نہیں دی جاتی حالانکہ ہم بھی پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں ۔اس لئے اگر معذور کھلاڑیوں کے لئے حکومت یا بڑے ادارے روزگار کے مواقع پیدا نہیں کرینگے تو وہ کیسے آگے آئیں گے۔
کھیلوں کی مزید خبریں اور تبصرے پڑھنے کیلئے واٹس ایپ گروپ میں"اردو نیوز اسپورٹس"جوائن کریں

شیئر: