پرامن بقائے باہم کو راسخ کرنے کا مشن

سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ”عکاظ“ کا اداریہ نذر قارئین ہے
  سعودی عرب میانہ روی اور اعتدال پسندی کے فروغ کیلئے کوشاں تھا، ہے اور رہیگا۔ سعودی عرب کی تاریخ ہے کہ وہ مکالمے اور اغیار کی رائے قبول کرنے کے تصور کا مسلسل پرچار کررہا ہے۔ مکالمہ بین المذاہب کا سعودی مشن اسی طرح اندرون ملک قومی مکالمہ مرکز اور ویانا میں عالمی مکالمہ مرکز کا قیام اس کا روشن ثبوت ہیں۔ 
اتوار کو ریاض میں امن منصوبے کا افتتاح اسی زریں سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اسکا مقصد دنیا بھر میں پائے جانے والے مختلف تمدنوں کے درمیان ربط و ضبط اور ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ امن منصوبے کی بدولت پرامن بقائے باہم کے مشترکہ تصورات اجاگر ہونگے۔ سعودی معاشرے اور دیگر معاشروں کے درمیان ربط و ضبط کے پل تعمیر ہونگے۔ یہ سب کچھ سعودی وژن 2030 میں پہلے سے موجود ہے جس میں پرامن بقائے باہم اور دنیا بھر کے معاشروں کےساتھ تعلق داری کی تاکید کی گئی ہے۔
امن منصوبے کی بنیاد 2015ءمیں ڈالی گئی تھی۔ اس سے مختلف ثقافتی مسائل سے نمٹنے کیلئے مکالمے اور یکجہتی پیدا کر نے کا سلسلہ جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔ بعض ثقافتی مسائل دنیا بھر کے سامنے سعودی مساعی کی حقیقی تصویر کے درمیان حائل ہیں۔ امن منصوبہ سعودیوں اور دنیا بھر کی اقوام کے درمیان مثبت مفاہمت اور کھلے مکالمے کا بامقصد اور مفید فورم ہے۔ یہ اقوام و ممالک کے درمیان مشترکہ انسانی و ثقافتی اقدار کی نشاندہی کا معتبر ذریعہ ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر: