افغانستان سے فوجی انخلا کے منصوبے کی تیاری

واشنگٹن.... امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج افغانستان سے کچھ ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کے منصوبے کا مسودہ تیار کررہی ہے تاہم فوجی دستوں میں کی جانے والی اس کمی سے بڑے مشنز متاثر نہیں ہوں گے۔ مسودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر ترتیب دیا جارہا ہے جس میں امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ کے خاتمے کےلئے تجاویز طلب کی تھیں۔امریکی اخبار نے رپورٹ میں کہا کہ پینٹاگون نے بھی نصف فوجی دستوں کو واپس بلوانے کی تجویز دی ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پینٹاگون کو افغانستان میں موجود 14 ہزار فوجی دستوں کی آدھی تعداد کے انخلا کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی تھی ۔رپورٹ کے مطابق فوجی مشیروں نے صدر ٹرمپ کو اس بات پر راضی کرلیاہے کہ فوج کی کم تعداد کا سست روی سے انخلا ہی موجودہ صورتحال میں بہتر ہے اس کے باوجود حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا صدر کسی بھی وقت مکمل انخلا کا حکم دے سکتے ہیں۔ وائٹ ہاوس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صدر نے افغانستان کے حوالے سے ہر اس شخص کا موقف سنا ہے جس کا وہ سن سکتے تھے انہوں نے شکایت کی کہ کئی مشیر چاہتے ہیں کہ ان جنگوں کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ سابق سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے انخلا کے منصوبے پر اختلاف رائے کے سبب استعفیٰ دے دیا تھا ۔

شیئر: