افغان مذاكرات امن كےلئے حوصله افزا عمل

***سجاد وریاه***
 جنرل ضیاء الحق صدر ِپاکستان اور آرمی چیف بھی تھے، وہ اُس وقت پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک تھے،انہوں نے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل اختر عبدالرحمان کو ایک میٹنگ کے دوران آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں سوویت یونین کا نقشہ منگوانے کو کہا اور اپنے ارادے کا اظہار کیا کہ روس کو دریائے آمو کے اُس پار دھکیل دیا جائے گا۔جنرل ضیاء الحق نے کہا کہ میں یہ جنگ افغانستان میں لڑنے کا ارادہ کر چکا ہوں۔آئی ایس آئی چیف کو اس کے متعلق منصوبہ بندی کرنے کا حکم دیا۔ آئی ایس آئی چیف حیرت کا پہاڑ بنے نظر آئے ،جنرل اختر عبدالرحمان نے کہا کہ صدر صاحب سوویت یونین سُپر پاور ہے اس کی حالت ایک بد مست ہاتھی کی سی ہے جو اپنے سامنے آنے والی ہر چیز کو روندنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور طاقت کا گُھمنڈ اس قدر کہ دنیا بھر کی آواز سُننے کے لیے تیا ر نہیںجبکہ ہماری حیثیت اس سُپر پاور کے سامنے ایک مسکین چیونٹی کی طرح ہے۔جس کو یہ بد مست ہاتھی اپنے جہازی سائز پاوٗں کے نیچے مسلنے کی طاقت بھی رکھتا ہے اور ارادہ بھی رکھتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے کہا کہ اگر چیونٹی اس ہاتھی کی سُونڈ میں گُھسنے میں کامیاب ہو گئی تو ہا تھی کو اُلٹا کے رکھ دے گی۔تاریخ نے دیکھا کہ پاکستان نے امریکہ ،افغانستان کی مدد سے اس ہاتھی کو دُم سے پکڑ کر ایسے گُھمایا کہ چکرا کے رہ گیا ۔آئی ایس آئی نے دُم کے بل گھومتے ہاتھی کو ایسا زور دار جھٹکا دیا کہ دریائے آمو کے اُس پار جا گرا۔تاریخ گواہ ہے کہ سوویت یونین اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکا ،ٹکڑوں میں بٹ گیا اس کی کو کھ سے کئی ریاستوں نے جنم لیا ۔پاکستان کی افواج اور ایجنسیوں نے کمال عقل مندی اور منصوبہ بندی سے دُشمن کو اپنے صحن میں گُھسنے سے پہلے ہی پاش پاش کر دیا۔اللہ پاک غریقِ رحمت کرے جنرل حمید گُل کو۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہو ئے کہا ،آپ سُنتے ہیں کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے روس کو افغانستان میں شکست دے دی،ایک وقت آئے گا کہ آپ سُنیں گے کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو افغانستان میں شکست دے دی۔ آج اُس مجاہد ِحق کے الفاظ کو حقیقت میں ڈھلتا دیکھ رہا ہوں تو جی بھر آیا کہ جنرل صاحب آج ہوتے تو فخرکا انداز ہی الگ ہوتا۔یہ باتیں اس لیے یاد آئیں کہ امریکہ اب مذاکرات کے لئے دنیا بھر میں اپنے دوستوں سے تعاون مانگ رہا ہے۔
امریکہ نے دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھانے اور اسلحے کا کاروبار کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی چھتری تلے ظلم و بربریت کے وہ پہاڑ توڑے ہیں کہ انسانیت شرما جائے۔ویت نام میں عبرتناک شکست کے بعد امریکہ نے اپنی جارحیت کا رُخ مسلمان ممالک کی طرف کیے رکھا۔  ان کے وسائل کو لوٹنا ہی اصل مقصد تھا جس پر ہاتھ صاف کیے جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ امریکہ کی باندی بنی ہوئی ہے۔ اب ایک بار پھر پچھلے کئی سالوں سے امریکہ کی توجہ کا رُخ افغانستان کی طرف ہے،جہاں اس وقت کی سُپر پاور سوویت یونین نے افغانستان کے ذریعے گرم پانیوں تک رسائی کا قصد کیا تھالیکن امریکہ کی مسلسل جارحیت نے پہاڑوں کے رنگ تو بد ل دیے ہیں لیکن افغان طالبان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ان خاک پوشوں نے اس عالمی دہشت گرد سُپر پاور کے غرور کو چٹان زدہ علاقوں میں پاش پاش کردیا ہے۔میرا ’’گمان‘‘ ہے کہ امریکہ کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک حکمت ِعملی کے تحت کامیا ب کروایا گیا تھا۔ پہلے ایک حربہ استعمال کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے دھمکی آمیز بیانات دلوائے گئے اور مخالف ممالک کی امداد بند کی گئی ،اس دھمکی آمیز ماحول میں پاکستان پر دباوٗ بڑھانے کی کوشش کی گئی ،لیکن پاکستان کی افواج کو سلام کہ انہوں نے امریکی منصوبہ بندی کا توڑ کر لیا اور اپنے علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اور دہشت گردوں کا صفایا کردیا۔امریکہ کی شاطرانہ چال جو ’’کہیں پہ نگاہیں،کہیں پہ نشانہ‘‘ کا منصوبہ لیے ہوئے تھی کو ناکام بنا دیا۔اس کے بعد آرمی چیف نے دوست ممالک اور ہمسایہ ممالک کو اعتماد میں لیا اور اپنے اقدامات اور امریکہ کے عزائم سے آگاہ کیا ۔جس سے پاکستان کو عالمی محاذ پر کامیاب حمایت ملی اور اس دوران پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت بن چکی تھی جس نے تمام معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔
جب پاکستان نے امریکہ کی دھمکیوں سے مرعوب ہوئے بغیر اپنے تعلقات کو دوسرے ممالک کے ساتھ استوار کرلیا جس سے پاکستان عالمی سطح پر اپنی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو باہمی انداز میں دیکھنا چاہتا ہے تو امریکہ میں بھی یہ احساس پیدا ہوا کہ پاکستان کے بغیر افغان جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ دھمکی آمیز رویہ اب کارگر نہیں ہو گا ۔ٹرمپ کارڈ ناکام ہو چکا ہے ،اس لیے اب دوسری حکمت عملی استعمال کی جائے گی۔ اب امریکہ کو جنگ سے نکالا جائے گا۔ اس طرح امریکہ ایک مستقل ناکامی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو نے سے پہلے ہی اپنی شکست کو سیاسی قیادت کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے پینٹا گون کی عزت کو بچانے کی کوشش میں لگا ہے۔پاکستان سے بھی اس عمل کی تکمیل کے لیے مدد کی درخواست کی گئی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان سے مدد طلب کی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو افغانستان میں امن بحال کرانے کے عمل میں بھر پور تعاون کرنا چاہئے۔پاکستان حکومت بھی اور عسکری قیادت بھی چاہتی ہے کہ افغانستان میں عمل بحال ہو کیونکہ اس سے پاکستان کا امن بھی مشروط ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک بار پھر آئی ایس آئی نے کامیاب حکمت ِ عملی سے گھر میںداخل ہوتی آگ کا رُخ واپس امریکی مقبوضہ علاقے افغانستان کی طرف موڑے رکھا ۔اپنی سرحد پر باڑ لگانا شروع کر دی جو تقریبا 2200 کلومیٹر ہے جس پر تقریبا 700کلومیٹر پر باڑ لگانے کا عمل مکمل ہو چکا ہے ،اس طرح ہند اور امریکہ کو بارڈر کا غلط استعمال کرنے سے باز رکھا جا سکے گا ۔امریکہ کے عزائم کی ناکامی نے امریکہ کو افغانستان میں مذاکرات کا عمل شروع کرنے پر مجبور کر دیا ،جو اس خطے کے امن کیلئے بہت حوصلہ افزا عمل ہے ،جس میں پاکستان کو بھر پور تعاون کرنا چاہیے۔ اگر کچھ ممکنہ طور پر عارضی رکاوٹیں بھی آئیں تو بھی اس عمل کو جاری رہنا چاہیے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  متحرک اور با مقصد سفارتکاری کا مشن شروع کیے ہوئے ہیں جو قابل تحسین ہے اور پاکستان افواج کو خراج تحسین کہ انہوں نے کمال مہارت اور جرأت مند پالیسی سے ایک اور سُپر پاور کو گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔
 

شیئر: