کویت : عوامی سوسائٹی کے تحت’’میرا قائد‘‘ پروگرام کا انعقاد

***محمد عرفان شفیق۔ کویت***
پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کے زیر اہتمام بانیٔ پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت کی نسبت سے پروگرام بعنوان’’ میرا قائد‘‘ منعقد کیا گیاجس میں نامور صحافی اور تجزیہ نگار ایثار رانا، معروف و متحرک شخصیت پروفیسر سلیم ہاشمی (صدر اردو قومی زبان تحریک) اور سابق بیوروکریٹ و معروف تجزیہ نگار اور اسکالر اوریا مقبول جان نے نہایت پر مغز اور مدلل خطاب کیا۔ نامور محقق اورپی ٹی وی کراچی قومی نغمات کے صدر ابصار احمد کی قائداعظم پر نغمات کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جسے بہت سراہا گیا۔ پروگرام کا آغاز قرآن حکیم کی تلاوت سے ہوا جس کی سعادت پروفیسر عبدالغفور نے حاصل کی۔ نعت رسولﷺ عبدالرؤف نے پیش کی جسکے بعد پاکستان و کویت کے قومی ترانے بجائے گئے۔ سیکریٹری جنرل محمد حنیف قریشی اور ترجمان میاں وسیم نے اسٹیج سیکریٹری کے فرائض احسن انداز میں انجام دیئے۔ کوریوگرافی کی ترتیب و تنظیم شاہد منہاس نے ادا کی۔ پروگرام میں علامہ" اقبال اور عشق رسول ﷺ " اور "علامہ اقبال اور ختم نبوت"  پر لکھنے والے طلبہ کو منیب اقبال ایڈوکیٹ (لخت جگر جگرِاقبال) کے دستخط سے تعریفی اسناد عطا کی گئیں اور نگران اساتذہ کو تحائف پیش کیے گئے۔پاکستان انگلش اسکول حولی کے طلبہ(Arab Natives)نے "تیرا احسان ہے احسان" نغمے کے ساتھ خوبصورت ٹیبلو پیش کیا جسکو بے حد سراہا گیا اور پذیرائی کی سند دی گئی۔ پاکستان اسکول اینڈ کالج جلیب الشیوخ کے طالبعلم حماد ندیم نے قائد کے عنوان پر خطاب کیا۔ عوامی چلڈرن سوسائٹی کے عاصم عظیم نے خوبصورت خطاب کیا جسکو بے حد داد تحسین دی گئی۔ سوالات و جوابات کے سلسلے نے حاضرین کو قائداعظم کی شخصیت ، افکار اور کردار سے آگاہی دی۔کویتی مہمان عبداللہ الکندری نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ساتھ اپنی محبت اور حب الوطنی کا اظہار کیا جسکو سامعین نے بے حد سراہا۔ ایثار رانا کے درد بھرے لہجے اور الفاظ نے حاضرین کے دلوں میں دردِ پاکستان بھر دیا۔ پروفیسر سلیم ہاشمی نے قائداعظم کے پاکستان کے تکمیل قوم پاکستان کے لیے اردو زبان کی سرکاری ترویج کی اہمیت پر زور دیا۔ اوریا مقبول جان نے قائد کی فکر کی گہرائی اور وسعت کو آپکے خطابات کا خلاصہ کرتے ہوئے اسلام سے قیاس کی نسبت دی تاکہ ملت پاکستان کا فروغ اسی نہج پر کیا جا سکے۔پورا ہال ملی نغمے سے گونجنے لگا جب رضوان بھٹی نے اسٹیج پر آکر" یہ تیراپاکستان ہے، یہ میرا پاکستان ہے" کا نغمہ شروع کیا۔پاکستان عوامی سوسائٹی کے صدر جعفر صمدانی نے تمام حاضرین اور طلبہ اور مقررین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان عوامی سوسائٹی کویت اپنا بلند معیار قائم رکھتے ہوئے ملی قومی حمیت کے تقاضے نبھاتی رہے گی اور دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کو پاکستان اور پاکستان کے عظیم مقاصد سے جوڑنے کا فریضہ سر انجام دیتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے اعلیٰ اصول، مالی شفافیت سے بے داغ کردار پاکستان کے لیے مالی قربانی اور اقربا پروری سے دوری سے عبارت ہیں۔ کیا آج کے سیاسی قائدین یہ سنہرے اصولوں پر کاربند ہیں؟ اگر نہیں تو ایسے قائدین کا چناؤکیوں کرتے ہیں؟ آپ لوگ کیوں نہیں اپنے اندر کے باکردار اصولوں کو بیدار کرکے میرا قائد کہنے میں حق بجانب ہوں۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کویت کے صدر حاجی عبدالرشید کھوکھر نے دعائے خیر کی۔ پروگرام کے آخر میں پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کی جانب سے پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔

شیئر: