حوثیوں نے ایئر بیس پر حملہ کرکے امن عمل مسترد کردیا

ریاض۔۔۔ یمنی کابینہ نے کہا ہے کہ حوثیوں نے ”العند“ ایئر بیس پر حملہ کرکے امن عمل مسترد اور ایرانی ایجنڈا نافذ کردیا۔ کابینہ نے جمعرات کو اعلامیہ جاری کرکے توجہ دلائی کہ حوثی الحدیدہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہے ہیں اقوام متحدہ کی زیر سرپرستی ہونے والے سویڈن معاہدے پر عملدرآمد سے دامن چھڑانے کا چکر چلائے ہوئے ہیں اور جمعرات کو لحج میں یمن کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر حملہ کردیا ہے یہ عالمی برادری کو کھلا چیلنج ہے۔ حوثیوں نے یہ حملہ کرکے عالمی برادری کو پیغام دیا ہے کہ انہیں امن مشن قبول نہیں اور وہ اپنے حمایتی ایرانیوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔ یمنی کابینہ نے بیان جاری کرکے کہا کہ اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری کی خاموشی باغی ملیشیاﺅں کے ساتھ نرم روی ، واجب النفاذ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کے سلسلے میں غیر سنجیدگی نے ہی حوثیوں کو جارحانہ انداز اور وحشیانہ طریقے اپنانے اور علاقائی سلامتی کو خطرات لاحق کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔ یمنی کابینہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئینی حکومت ایک بار پھر عالمی برادری کو اس کی ذمہ داری یاد دلانا چاہتی ہے ۔ عالمی برادری کو طے کرنا ہوگا کہ امن عمل میں رکاوٹ کون پیدا کر رہا ہے۔ دوسری جانب یمن میں سعودی سفیر محمد آل جابر نے کہا کہ سویڈن معاہدوں پر عملدرآمد میں حوثی باغیوں کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول کوئی حیرت ناک بات نہیں وہ 70 سے زیادہ معاہدے توڑ چکے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری باغیوں کی انارکی ختم کرانے ، یمن کے ریاستی ادارے بحال کرانے اور یمنی عوام کو حوثیوں کے چنگل سے آزاد کرانے کیلئے ٹھوس موقف اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد حملے نے ثابت کردیا کہ ایران خطے ہی میں دنیا بھر میں دہشت گرد ملیشیاﺅں کو جدید ٹیکنالوجی مسلسل فراہم کررہا ہے یہ ایران کی جانب سے دہشت گرد جماعتوں کی استعداد بڑھانے کے حوالے سے خطرناک علامت ہے۔ 

شیئر: