یوگی سے بیزاری کیوں؟

***ظفر قطب ،لکھنؤ***
جہاں تک سوال وزیر اعلیٰ یوپی اور ڈپٹی وزیر اعلیٰ کیشوپرساد موریہ کا ہے تو دونوں کے سلسلے میں پہلے عوام کو کوئی تجربہ نہیں تھا کیونکہ دونوں کو کبھی اتنے بڑے عہدہ پر کام کرنے کا موقع نہیں ملا تھا اسی لیے دونوں نے اپنے حساب سے کام کرنا شروع کیا۔ ابتدا میں تو عوام وزیر اعلیٰ سے کافی متاثر ہوئے لیکن آہستہ آہستہ ریاست میں پھیلتی بدنظمی ،پولیس کی من مانی اور اس کا ناکارہ پن نمایاں ہوتا گیا اس سے اترپردیش کی شبیہ پورے ملک میں خراب ہوگئی۔نظم ونسق کے نام سے کوئی چیز نہیں بچی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ افسران کی الگ راہ تھی تو ان کے ماتحتوں کا راستہ دوسرا ہوگیا۔ طلبا ،کسان کچھ اور سوچنے لگے کیونکہ ان کی بہبود کے لیے نئی حکومت کے پاس کچھ نہیں تھا ۔ عورتیں اور لڑکیاں غیر محفوظ ہوتی گئیں، بے روزگاری عام ہوگئی، اس کی بناپر وزیرا علیٰ اور ان کے دونوں معاونین کی پوزیشن انتہائی خراب ہوگئی۔ ایک نوبت تو یہ آئی کہ عوام مایوس ہوتے گئے اور انہیں اندازہ ہوگیا کہ اب ان کے لیے اس حکومت میں کچھ ہونے والا نہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بلند شہر تشدد میں انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی موت پر اب سابق افسران کا غصہ یوگی حکومت پر پھوٹ پڑا ہے۔ 83 سابق افسران نے ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ خط لکھنے والے افسران 3 سے 4 سال قبل اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی توجہ صرف اور صرف گئو کشی کی طرف ہے، نظم و نسق پر کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں خود وزیر اعلیٰ نے اسے فرقہ وارانہ ایجنڈے کے تحت پھیلایا گیا تشدد مانا تھا اور اس حوالہ سے تفصیلی گفتگو بھی ہوئی لیکن اب سارا فوکس گئو کشی اور اس کے ملزمان کی جانب مبذول ہو گئی ہے، لہٰذا اس واقعہ کی صحیح طرح سے جانچ نہیں ہو پا رہی ہے۔دریں اثنا، بلند شہر پولس گئو کشی کے معاملہ میں سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ پولس نے اہم ملزم بجرنگ دل کے رہنما یوگیش راج کی ایف آئی آر میں درج مسلمانوں کو رہا کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن اسی الزام میں مزید 3 مسلمانوں کو گئو کشی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ تینوں ایک گروہ کا حصہ ہیں جو گایوں کو پہلے گولی مارتا تھا پھر کاٹ کر گوشت کو آپس میں تقسیم کر لیا کرتا تھا۔ حالانکہ پولس کی یہ کہانی علاقائی لوگوں کے لئے قابل یقین نہیں ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گائے کو گولی نہیں ماری جاتی اور اگر یہ معاملہ جنگلی جانوروں کے شکار کا ہے تو پھر پولس کو اس حقیقت کا انکشاف کرنا چاہیے کہ ہندووادیوں نے جن باقیات کو لے کر ہنگامہ آرائی اور تشدد کا کھیل کھیلا وہ کسی گائے کی نہیں بلکہ کسی جنگلی جانور کی ہیں۔
ملک کی 3 ہندی بیلٹ ریاستوں میں شکست کے بعد گھبرائی بی جے پی کیلئے اب ایک ایسی ریاست سے بری خبر آ رہی ہے جہاں سے 2014 میں اس کے لیے اقتدار کا راستہ ہموار ہوا تھا۔ ہم بات کر رہے ہیں اتر پردیش کی۔ ایک نیوز چینل نے دسمبر کے تیسرے ہفتہ میں اترپردیش میں حکومت اور وزیر اعلیٰ کی مقبولیت کے ساتھ ہی اہم ایشوز پر لوگوں کے درمیان سروے کیا ہے۔ اس سروے کے نتائج سامنے آنے سے بی جے پی خیمہ میں افرا تفری کا ماحول ہے۔سروے کے مطابق اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کے خلاف اقتدار مخالف لہر میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے اور ان کی مقبولیت میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ بی جے پی کے لیے فکر کی بات یہ ہے کہ ستمبر ماہ میں جہاں 43 فیصد لوگ یوگی کو وزیر اعلیٰ کی شکل میں دوبارہ دیکھنا چاہتے تھے وہیں اب صرف 38 فیصد لوگ ایسی خواہش رکھتے ہیں۔لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں میں مصروف بی جے پی کے لیے اتر پردیش میں پارٹی کے خلاف ناراضی اور عدم اطمینان کا گراف اونچا ہونا سر درد سے کم نہیں۔ بی جے پی کے لیے پریشان کرنے والی خبر یہ بھی ہے کہ ستمبر سے اب تک سماجوادی پارٹی لیڈر اکھلیش یادو کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر میں جہاں صرف 29 فیصد لوگ اکھلیش کو وزیر اعلیٰ کی شکل میں دیکھنا چاہتے تھے وہیں دسمبر کے تیسرے ہفتہ میں 37 فیصد لوگوں کی پسند اکھلیش ہیں۔انڈیا ٹوڈے کے لیے ایکسس مائی انڈیا کے ذریعہ کیے گئے اس سروے میں یوگی حکومت کی مقبولیت گرنے کی بھی بات کہی گئی ہے۔ سروے کے مطابق یو پی کے 44 فیصد لوگ یوگی کی قیادت والی بی جے پی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہیں اتر پردیش کے لوگوںکیلئے بے روزگاری اور مہنگائی سب سے بڑا ایشو ہے۔ ریاست کے 32 فیصد لوگ بے روزگاری کو اور 21 فیصد لوگ مہنگائی کو سب سے بڑا ایشو مانتے ہیں۔ وہیں 17 فیصد کسانوں کی حالت اور 15 فیصد بدعنوانی سے پریشان ہیں۔اس کے علاوہ نہ صرف یوگی کی گھٹتی مقبولیت اور بی جے پی حکومت کی کارکردگی سے عوام میں ناراضی ہی نہیں بڑھی ہے بلکہ ان کی خواہش ہے کہ بی جے پی کے خلاف ایس پی-بی ایس پی اور کانگریس کو مل کر سامنے آنا چاہیے۔ سروے میں شامل 47 فیصد لوگوں کی رائے ہے کہ اگر ایس پی-بی ایس پی-کانگریس ایک ساتھ آ گئے تو بی جے پی کے لیے اتر پردیش کے دروازے بند ہو سکتے ہیں۔ اس سروے میں حالانکہ سیٹوں یا ووٹ شیئر کا کوئی اندازہ نہیں لگایا گیا ہے لیکن الگ الگ پیمانوں پر لوگوں کی رائے سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ سیاسی ہوا کس طرف ہے۔لوک سبھا انتخابات کافی نزدیک ہیں اور بی جے پی کے لیے تازہ سروے میں ایک اور فکر انگیز بات موجود ہے۔ سروے کا اندازہ ہے کہ گزشتہ تی3 مہینوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کو دوبارہ موقع دینے والوں کی تعداد میں 27 فیصد کمی آئی ہے۔
 

شیئر: