چارہ گر ہو اور پھر دل نہ ملے::کوئی بھی ایسا تو بالکل نہ ملے

 بچپن سے ہی شاعری کا شوق رہا، عالیہ فراز
ثناءبشیر ۔الخبر
              
    عالیہ فراز کا تعلق منطقہ شرقیہ کے شہر الخبر سے ہے۔وہ گزشتہ7 سال سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ ان کے خاوند آئی ٹی ڈپارٹمنٹ سے منسلک ہیں۔ عالیہ فراز گھریلو خاتون کے طور پر گھر کی ذمے داریاں نبھا رہی ہیں۔ عالیہ فراز کا تعلق ان شعرائے کرام میں ہوتا ہے جو معاشرتی برائیوں کو نہ صرف پسند نہیں کرتے بلکے ان کو اجاگر کرنے کے لئے قلم کا سہارا بھی لیتے ہیں ۔
    اردو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جیسے ایک پینٹر اپنی پینٹنگز کے ذریعے اور ایک ادیب اپنی کتابوں کے ذریعے اپنی بات کہتا ہے اور تصویر میں چھپے رنگوں کی زبان جب کسی انسان کو سمجھ آتی ہے تو اس کے جذبات و احساسات اجاگر ضرور ہوتے ہیں، اسی طرح ادیب کی تحریر اور بات کی گہرائی سمجھنے والے بھی لازمی طور پر متاثر ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے اندر چھپے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کے لئے شاعری کو چنا اور اپنی غزلوں اور نظموں کے ذریعے معاشرے میں پھیلے احساس محرومی اور دیگر برائیوں کو اجاگر کرنے کی ادنیٰ سی کوشش کی تاکہ بطور انسان جو میں دیکھتی اور محسوس کرتی ہوں اس کو دوسروں تک پہنچاﺅں کیونکہ مختلف افراد ملکر ہی معاشرے کو سدھارنے اور اس کی تعمیر نو کاسبب بنتے ہیں۔
    عالیہ فراز نے کہا کہ انہیں پاکستانی سیاست سے کوئی خاص دلچسپی نہیں مگر حالات پر نظر ضرور رکھتی ہیں کیونکہ پاکستان میری دھرتی ہے اور میری پہچان ہے ۔اس لئے اس کے بگڑتے حالات اور لوگوں کی مجبوری کو دیکھ کر دل میں اپنے ہم وطنوں کے لئے درد ضرور محسوس کرتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر پاکستان میں ہر شخص اپنی ذمہ داری سمجھ لے اور پھر اس ذمہ داری کو بخوبی احسن انداز میں انجام دے اور لوگوں کے مابین باہمی محبت اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دے تو یقینا معاشرے کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو بہتر بنانا حکومتوں کا کام اپنی جگہ مگر بحیثیت قوم ہمیں ایک دوسرے کی عزت اور احترام کو سمجھنا ہوگا تاکہ ہم ایک دوسرے کو انصاف دے سکیں۔ اسی سے معاشرہ بہتر ہوگا اور مزید ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔
    عالیہ فراز نے اپنی شاعری کے حوالے سے بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی شاعری کا شوق رہا ۔اسکول ،کالج کے دور میں بھی شعرو شاعری کے مقابلوں میں بھرپور حصہ لیتی رہی اور پھر شادی سے قبل باقاعدہ شاعری شروع کر دی ۔شادی کے بعد کچھ عرصہ شاعری سے دور رہی مگر ایک سال قبل دوبارہ قلم اٹھایا اور اپنے احساسات کو قلم کی مدد سے کاغذ پر اتار رہی ہوں ۔میرے شوہر کو شاعری سے خاص لگاﺅ نہیں مگر ان کی جانب سے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں بہت جلد اپنی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ شائع کرواﺅں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوسکیں اور میں بھی ادب کے اس سمندر میں ایک قطرے کی مانند اپنا حصہ ڈال سکوں ۔اردو نیوز کو عالیہ فراز کی جانب سے چند نظمیں اور غزلیں فراہم کی گئی ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس قدر معاشرتی حالات اور محبت کے جذبے پر دسترس رکھتی ہیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
چارہ گر ہو اورپھر دل نہ ملے
 کوئی بھی ایسا توبالکل نہ ملے
کیسے ہیں یہ زندگی کے مسئلے
ڈھونڈنے سے بھی کوئی حل نہ ملے
اپنے ہاتھوں شہر ہے سارا لُٹا
کون ہے ایسا جو گھائل نہ ملے
ہم فرشتے تو نہیں ، کی ہے خطا
کوئی انساں بھی مکمل نہ ملے
قتل ہوتے ہیں یہاں ہر روزہی
 کیسے ہے ممکن کہ مقتل نہ ملے
    
اسی طرح درجنوں نظمیں اور غزلیں ہیں جو محبت کا پرچار بھی کرتی نظر آتی ہیں اور معاشرتی برائیوں کو اجاگر کرتی ہوئی انسانی ضمیر کو بیدار کرتی ہیں۔
     عالیہ فراز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں جس طرح ادب شناس لوگ موجود ہیں اس سے ادب کو فروغ دینے والوں کو بھی پذیرائی ملتی ہے اور وہ مزید لکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ سعودی عرب ہمارا دوست ملک ہے اس مقدس سرزمین کے ساتھ ہمارا گہرا لگاﺅ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اسے اپنا گھر سمجھتے ہیں۔میں سعودی عرب میں موجود تمام ادبی تنظیموں کو مبارکباد بھی دیتی ہوں کہ وہ اپنے طور پر ادب کو پھیلانے میں بڑا اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہمیں اپنے شعرائے کرام کا تخلیق کردہ ادب اپنی نوجوان نسل کو منتقل کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ وہ بھی ادب کے اس سمندر سے اپنی پیاس بجھا سکیں اور معاشرے میں اچھا کردار بھی ادا کر سکیں۔
 

شیئر: