سہیلی نے کہا ”تو اسے پسند اور وہ تجھے پسند ہے “

محب اللہ قاسمی۔ نئی دہلی

    ہنستی کھیلتی چلبلی سی نیک اور خوبصورت بانو اس گاو¿ں کی پڑھی لکھی لڑکی ہے جہاں کبھی مرد بھی بہت کم پڑھے لکھے ملتے تھے۔ ایک تو گاو¿ں کی غربت دوسری پڑھائی سے بے توجہی ،جس کے سبب لوگ اتنا نہیں پڑھ لکھ پارہے تھے مگر خاص بات یہ تھی کہ بانوکے والد پڑھے لکھے سرکاری ملازم تھے اور بھائی بھی پڑھا لکھا تھا۔ اس طرح اس کا گھرانہ ایک حد تک تعلیم یافتہ تھا۔ بانواپنی سہیلیوں کو دین کی باتیں پڑھ کر سناتی اور انہیں پڑھنے کے لئے آمادہ کرتی اورلڑکیاں ان کی باتیں بغور سنتیں۔
    ایک دن بانو اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ کچھ لڑکیاں آئیں اور کہنے لگیںکہ ارے چل ،منگلو چاچا کے گھر کچھ مہمان آئے ہیں۔ سنا ہے شبنم کو دیکھنے لڑکے والے آئے ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ لڑکا بھی آیا ہے۔ایک لڑکی اسی درمیان بول پڑی ، ہائے ! لڑکا بھی آیا ہے۔ کیا وہ بھی لڑکی کودیکھے گا؟
    ہاں اس کی شرط ہے اور اس سے کچھ پوچھے گابھی؟
    اس پر سلمیٰ نے جواب دیا ہاں ،یہ پہلی بار ہورہا ہے۔تبھی بانو بولی تو اس میں برا کیا ہے؟ اچھا ہے۔ شادی ہو رہی ہے۔ کوئی مذاق تھوڑی ہے۔ اگر وہ لڑکی کو دیکھے گا تو کیا لڑکی لڑکے کو نہیں دیکھے گی؟ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ لیں گے اور جو پوچھنا ہوگا، پوچھ لیں گے۔ چلو ہم لوگ بھی چلتے ہیں نغمہ چاچی کے گھر۔ شبنم نے ہم لوگوں کو بتایا نہیں کہ اسے دیکھنے کے لئے کچھ لوگ آنے والے ہیں ؟ یہ بولتے ہوئے ساری سہیلیاں منگلو چاچا کے گھر پیچھے کے دروازے سے پہنچ گئیں۔
    نغمہ نے جب ان کو دیکھا تو کہنے لگی اچھا ہوا، بانو آ گئی۔ ابھی ہم تیرے گھر بلاوا بھیجنے ہی والے تھے۔جا شبنم کو سنبھال اور اسے کچھ سکھادے۔جانے کیا کچھ بول دے وہاں پر؟
    بانو بولی، چاچی تم اب بالکل فکر نہ کرو، ہم لوگ سب سنبھال لیں گے۔
    جیسے ہی بانو شبنم کے پاس پہنچی،لگی شکایتیں کرنے۔” کیوں ری تو نے مجھے بتایا نہیں کہ لوگ تجھے دیکھنے آنے والے ہیں۔“
    اس سے پہلے کہ شبنم کچھ بولتی بانو نے کہا”چپ رہ اب زیادہ مت بول ورنہ بولنے کے لئے کچھ نہیں رہے گا۔ تجھے تو ابھی بہت کچھ بولنا ہے۔“
    پھرسب نے شبنم کو سنوارا ،بہت کچھ سکھایا اور اسے لے کر مہمان کے کمرے میں آئی۔لڑکا کچھ خاص پڑھا لکھانہیں تھا، پر اس زمانے میںکسی کوپڑھنا آتا ہو ،اردو ،ہندی لکھ لیتا ہو تو اسے پڑھا لکھا سمجھا جاتا تھا۔ لڑکا بھی بس اتناہی پڑھا تھا پر تھا ہوشیار۔
    اس نے شبنم کو دیکھا اور شبنم نے بھی اسے دیکھا۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند آگئے۔ اب باری تھی سوال وجواب کی۔
    لڑکا: تمہارا نام کیا ہے؟
    لڑکی : شبنم ...شبنم رانی!
    لڑکا:تمہیں قرآن کریم پڑھنا آتا ہے ؟ اردو لکھ سکتی ہو؟
    شبنم : مجھے پڑھنا لکھنا نہیں آتا۔ یہ بول کر وہ چپ ہوگئی۔
    تبھی بانو بول پڑی:”بھائی صاحب ! مانا کہ اسے پڑھنا نہیں آتا، پر گھر کا سارا کام کاج یہی توکرتی ہے۔ چادر بھی کاڑھ لیتی ہے ، یہ جو پردہ لگاہے ناں، اس پر یہ بیل بوٹے سب اسی نے بنائے ہیں۔ اس نے پڑھنے پر توجہ نہیں دی ورنہ ہم سب سے آگے نکل جاتی۔ اتنی تیز ہے ہماری شنورانی!
    لڑکا اپنے ابو کے کان میں کہنے لگاکہ ”اگر واقعی یہ اس قدر تیز ہے اور پڑھ سکتی ہے تو پھر شادی پکی، مگر اس شرط کے ساتھ کہ 6ماہ بعدہماری سگائی ہوگی۔ اس6 ماہ میں اسے کم ازکم قرآن کریم پڑھنا تو آجانا چاہئے؟
    باپ نے کہاکہ ”ہاں مجھے لگتا ہے، یہ پڑھ لے گی۔“
    پھرسب کے سامنے لڑکے کے والد نے لڑکی کے والدسے کہاکہ ” ہمیں یہ رشتہ منظور ہے اور اپنے بیٹے کی شرط کا اعادہ کیا۔“
    بانو کی اس تیز زبان نے بات توبنا دی اور مہمان چلے گئے مگر چھ ماہ میں شبنم جیسی کند ذہن لڑکی کو پڑھانا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ خیر سب نے لڈو کھائے، مگربانو لڈوہاتھ میں لئے اس سوچ میں غرق ہوگئی کہ کیا شبنم چھ ماہ میں قرآن کریم پڑھ لے گی؟
    اتنے میں شنبم نے اس کے ہاتھ کا لڈو اس کے منہ میں ڈال دیا۔ ارے کھاناں، اب کیا سوچتی ہے۔ میں اتنی تیز ہوں نا ں،تو اب توہی مجھے پڑھائے گی۔ نغمہ چاچی بھی بول پڑیں،” ہاں بیٹی!اب یہ عزت تیرے ہاتھ میں ہے۔“
    بانو نے یہ سارا قصہ اپنی ماں کو آکر بتایا ،ماں نے بھی تسلی دی کہ” بیٹی! واقعی تونے بہت اچھا کام کیا۔پرتونے شبنم کی جھوٹی تعریف کرکے اسے آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اب تو ہی اس کے لئے کچھ کر۔اسے دن رات محنت کرکے پڑھا تاکہ وہ چھ ماہ میں اچھی طرح قرآن کریم پڑھنے لگے۔
    ماں کی باتیں سن کر بانو کو لگا کہ اب یہ میری ذمہ داری ہے۔ اگر میں نے ایسا نہیں کیا اور اسے نہ پڑھاسکی تو اس کا یہ رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ بات پھیل چکی ہے۔ اگر رشتہ ٹوٹ گیا تو رسوائی ہوگی۔پھر کیا تھا۔ بانو نے دن رات ایک کردئیے۔بارش کے موسم میں بھی وہ اپنے گھر سے سپارہ لے کر جاتی اور شبنم کو خوب پڑھاتی،یاد کراتی۔ دھیرے دھیرے وہ اس قابل ہوگئی کہ الفاظ کوپڑھ سکے۔ ایک دن بانو نے شبنم سے کہا ”دیکھ بہن، یا تو تجھے یہ پڑھنا ہے یا پھر مرنا ہے۔ کیوں کہ تو بھی اسے پسند ہے اور وہ بھی تجھے پسند ہے۔ بیچ میں کوئی فاصلہ ہے تو وہ تیری پڑھائی کا ہے۔ بہن! اب وقت کم ہے۔تجھے اور محنت کرنی ہوگی۔“
    یہ بات شبنم کے دماغ میں گھر کر گئی اور اس نے بھی جی جان لگادی، جس لڑکی کو حروف پہچاننے میں اتنی دشواری ہورہی تھی کہ بمشکل لفظوں کو ملا ملا کر پڑھنے کی کوشش کرتی تھی اب کچھ ہی دنوں میں وہ بہت اچھے انداز میں قرآن کریم پڑھنے لگی تھی۔ اس طرح اس کی شادی کا خواب اسے پورا ہوتا دکھائی دینے لگا تھا۔
    بالآخر وہ دن بھی آیا۔شبنم دلہن بنی ،رخصتی کے وقت بانوسے لپٹی وہ روروکر ہلکان ہوئے جا رہی تھی۔بانوسوچ میں پڑ گئی کہ اس کا یہ رونا رخصتی کا ہے،یا اظہارتشکر کا ؟ شبنم نے روتے ہوئے کہا”بہن !تیرا مجھ پر یہ احسان والدین سے بڑھ کر ہے۔اسے میں کبھی نہیں بھلا سکتی۔ سب نے مل کر اسے ڈولی میں بٹھا دیا اور وہ پیا کے گھر سدھار گئی۔
 

شیئر: