ولی عہد کے دورہ پاکستان کی تیاریاں،10ارب ڈالر کے معاہدے متوقع

کراچی ( صلاح الدین حیدر) وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کئی ایک معاہدوں پر دستخط ہوں گے جن کی مالیت 10 ارب ڈالر ہوگی۔ ایسے ہی معاہدے متحدہ عرب امارات، چین اور ملائیشیا سے بھی ہوں گے۔ شہزادہ محمد بن سلمان اگلے مہینے پاکستان آئیں گے۔ان کی آمد کی تفصیل اجلاس میں طے کی گئی جو کہ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہوا۔ سعودی عرب نے آئل ریفائنری پاکستان میں قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ یو اے ای اور ملائیشیا سے معاہدے کی تفصیلات اگلے مہینے تک تیار ہوجائیں گی۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین ہارون شریف کے مطابق سعودی عرب 4 اہم منصوبوں آئل ریفائنری، پٹرول کیمیکل ، توانائی اور کان کنی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ سعودی عرب اور دوسرے ممالک کی سرمایہ کاری سے ملکی معیشت کو بہت فائدہ ہوگا۔ یہ 10 ارب ڈالر، ان3 ارب کے علاوہ ہوں گے جو کہ مملکت نے پاکستانی مالی خسارے کو پورا کرنے کے لئے پہلے ہی ہمارے خزانے میں جمع کرادیئے ہیں 65 فیصد منصوبے پاکستان کے معاشی دارالخلافہ میں دیگر 35 فیصد لاہور میں لگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت نے یہ بات پہلے ہی صاف کردی ہے کہ بیرونی ممالک سے آنے والی تمام سرمایہ کاری پاکستانی کمپنیوں کی شراکت سے ہوں گی تاکہ ہمارے بزنس مین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ صرف آئل ریفائنری سعودی عرب کی آرامکو اپنے طور پر لگائے گی ۔ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری سعودی عرب کی کمپنی سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں منصوبے لگائے گی۔ اس نے اس قسم کے منصوبے تیونس، عرب امارات اور اردن میں لگا رکھے ہیں۔ متحدہ عرب امارات تعمیرات اور دوسرے شعبوں میں سرمایہ لگانے میں دلچسپی رکھتاہے۔ اس قسم کی سرمایہ کاری جس کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔ حکومت نے ٹیکسوں میں پہلے ہی47 فیصد سے کم کر کے 21 فیصد کردی ہے۔
 

شیئر: