جوہانسبرگ ٹیسٹ: پاکستان ٹیم کلین سویپ سے بچنے کی سعی کریگی

جو ہانسبرگ:پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا تیسرا اور آخری میچ آج سے جوہانسبرگ میں شروع ہو رہا ہے۔ابتدائی دونوں میچوں میں شکست اور سیریز ہارنے کے بعد اب پاکستان ٹیم کو کلین سویپ کی خفت سے بچنے کا چیلنج بھی درپیش ہے ۔ جوہانسبرگ کا وانڈررز اسٹیڈیم بھی ایسا گراونڈ ہے جہاں پاکستانی ٹیم کبھی ٹیسٹ میچ نہیں جیت سکی ۔ یہاں دونوں ٹیموں کے درمیان 3میچ ہوئے جن میں سے2جنوبی افریقہ نے جیتے اور ایک ڈرا ہوا۔ یہ وہی گراونڈ ہے جہاں 2013ءمیں پاکستانی بیٹنگ اپنی ٹیسٹ تاریخ کے سب سے کم اسکور 49رنز پر ڈھیر ہوئی تھی ۔ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے مطابق وانڈررز کی وکٹ بھی سنچورین جیسی ہے جہاں پاکستان نے اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا۔پاکستانی بیٹنگ اور بولنگ لائن کی مسلسل ناکامی کے بعد اس میچ کیلئے پاکستانی ٹیم میں کئی تبدیلیوں کا امکان ہے ۔ ٹیم انتظامیہ اس میچ کیلئے جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے طویل عرصے بعد 5 بولرز اور 6 اسپیشلسٹ بلے بازوں کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ پاکستانی ٹیم میں 4 فاسٹ بولر ز محمد عامر، محمد عباس،فہیم اشرف اور حسن علی جبکہ ایک اسپنر شاداب خان کو شامل کیا جائے گا ۔بیٹنگ لائن امام الحق، شان مسعود، اظہر علی، اسد شفیق، بابر اعظم اور کپتان سرفراز احمد پر مشتمل ہو گی۔ اننگز کا آغاز امام الحق کے ساتھ شان مسعود کریں گے جبکہ مڈل آرڈر میں اظہر علی، اسد شفیق، بابر اعظم اور سرفراز احمد ہوں گے۔ آل راونڈر فہیم اشرف اور شاداب خان کو یاسر شاہ اور فخر زمان کی جگہ ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے ، فاسٹ بولر شاہین آفریدی کی جگہ حسن علی کی واپسی ہوگی۔ قبل ازیں وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کی شمولیت کے امکانات ظاہر کئے گئے تھے لیکن کپتان سرفراز احمد بیٹنگ لائن میں مزید تبدیلیوں کے حق میں نہیں اور ان کے اصرار پر امام الحق، اسد شفیق اور اظہر علی کو بدستور مواقع دیئے جارہے ہیں ۔
کھیلوں کی مزید خبریں اور تبصرے پڑھنے کیلئے واٹس ایپ گروپ میں"اردو نیوز اسپورٹس"جوائن کریں

شیئر: