چیف جسٹس ثاقب نثار کی آنکھیں نم ہوگئیں

لاہور.... سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جوڈیشل ایکٹوازم کی بنیاد نیک نیتی پر مبنی تھی ۔ میرا اس کے سوا کوئی اور مقصد نہیں تھا ۔اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے اور کسی کے اختیارات میں مداخلت کا کبھی ذہن میں خیال نہیں آیا۔مجھ سے دانستہ یا نا دانستہ غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن اس میں بد نیتی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔ اگرکسی کے ساتھ سختی کی تو اس کا مقصد کسی کی تذلیل نہیں بلکہ قانون پر عملدرآمد کی کوشش تھی ۔سپریم جوڈیشل کونسل میں صرف 2 ریفرنسز پڑے ہیں۔ باقی سارے میرٹ پر نمٹا دئیے گئے ۔ان ریفرنسز کو ججز کے گلے کا پھندا بنا سکتے ہیںاور نہ جھوٹے ریفرنسز سے ججز کو بلیک میل ہونے دیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زندگی میں بہت کم رویا ہوں۔ آج آپ کے پیار نے میری آنکھیں نم کر دی ہیں ۔ اپنے گھر میں ہی رہا ہوں اور آج بھی اپنے گھر میں ہی ہوں ۔ لاہور ہائیکورٹ سے میری وابستگی سب سے پرانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں مال روڈ پر واقع اسکول میں پڑھتا تھا۔بابا غنی مجھے سائیکل پر بٹھا کر ہائیکورٹ بار لاتا تھا۔ میرے والد ہائیکورٹ میں پریکٹس کرتے تھے۔میں یہاں کی راہداریوں میں کھیلتا رہتا تھا۔میری اس عمارت سے 56سال کی وابستگی ہے ۔ میں نے اس وقت اس عمارت اور عدلیہ کا احترام دیکھا تھا لیکن آج شاید لوگوں کی نظر میں یہ نسبتاً کم ہوا ہے کیونکہ لوگوں کو جلد اور شفاف انصاف نہیں مل رہا ۔انہوںنے کہا کہ یہ وہی سڑک ہے جس پر میں موٹر سائیکل پر گزرتا تھااورآج جب میں اپنے سفر کا اختتام کر رہا ہوں تودو جھنڈوں والی گاڑی پر آیا ہوں۔ اس کے پیچھے محنت، ایمانداری اور ادارے سے محبت ہے ۔ 

شیئر: