کسی بھی چیز کو حقیر مت جانیں

 کہا جاتا ہے بڑھاپے میں تو ہر شخص موت کے خوف سے عبادت الٰہی میں زیادہ وقت گزارتا ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جوانی میں بھی اسی خشوع و خضوع کیساتھ عبادت کریں
زبیر پٹیل ۔ جدہ
کہتے ہیں قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ اس محاورے کو گزشتہ دنوں ایک خبر نے درست ثابت کیاہے۔ یہ خبر اور محاورہ ہم سب کیلئے پیغام بھی ہے کہ کسی بھی چیز کو کمتر مت سمجھو کیونکہ وہی کمتر چیز ایک دن بہت بڑی بن جاتی ہے۔ ایک خبر گزشتہ دنوں شائع ہوئی تھی کہ مکہ مکرمہ میں 17منزلہ وقف ہوٹل تعمیر کیا جارہا ہے جو سعودی عرب کی ایک سپر مارکیٹ چین نے ہلالہ عطیات کی مدد سے تیار کرنا شروع کیا ۔ آپ سن کر حیران ہونگے کہ یہ منصوبہ 60ملین ریال کا ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو خریداری کے بعد بچ جانے والے چند ہلالہ سے شروع کیا گیا جسے ہم اور آپ حقیر سمجھ کر نہیں لیتے مگر کمپنی نے اسے جمع کرنا شروع کیا اور آج اس مد میں بڑی رقم جمع ہوگئی۔ یہ چیز اپنے اندر ایک گہری سوچ رکھتی ہے۔
کچھ اسی طرح کا حال آج ہماری زندگیوں میں بھی ہے۔ ہم اپنی زندگی کو حقیر جان کر اس کی توہین کررہے ہیں۔ہمیں اللہ پاک نے دنیا میں کس مقصد سے بھیجا اور ہم کن دنیاوی معاملات میں الجھ کر رہ گئے۔آج ہم ایک دوسرے کی گردن پر پیر رکھ کر اوپر جانے کی خواہش میں مرے جارہے ہیں اور رب کی خوشنودی کی جگہ باس اور پرنسپل کی خوشنودی حاصل کرنا زیادہ ضروری سمجھ رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا میں آکر دنیاوی زندگی میں بکھر گئے اور آخرت کیلئے کچھ بھی تیاری نہیں کررہے۔ کہا جاتا ہے بڑھاپے میں تو ہر شخص موت کے خوف سے عبادت الٰہی میں زیادہ وقت گزارتا ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جوانی میں بھی اسی خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کریں۔
٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر:

متعلقہ خبریں