تجزیہ:فاسٹ بولرز کھلانے کی حکمت عملی کامیاب

کراچی ( صلاح الدین حیدر) دیر آید درست آید، پاکستان نے اپنے موجودہ دورہ جنوبی افریقہ میں اطمینان کا سانس لیا ہوگا کہ اس کی 4 تیز گیندیں کرنے والے بولرز کی کھلانے کی حکمت عملی صحیح ثابت ہوئی اور اس نے اپنے سے کہیں بہتر ٹیم کو تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں 262 رنز پر آوٹ کردیا لیکن ایک بار پھر سے ہمارے بیٹسمین ناکام ہوگئے اور صرف 6 رنز پر 2 وکٹیں گنوا بیٹھے۔ پاکستانی بولر محمد عامر، محمد عباس، فہیم اشرف اور حسن علی نے حریف ٹیم کے 9 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ چائے کے وقفے کے بعد خاص طور پر فہیم اشرف، حسن علی اور عامر عباس نے مل کر 17.3 اوور میں صرف 33 رنز دے کر 7 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی ۔ فہیم اشرف نے 57 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا جبکہ عامر، عباس اور حسن علی نے بالترتیب 36، 44 اور 75 رنز کے عوض 2,2 وکٹیں حاصل کیں۔ دسویں وکٹ لیگ اسپنر شاداب کے حصے میں آئی مگر پرانی تاریخ ایک مرتبہ پھر دہرائی گئی۔ ہمارے شروع کے بیٹسمینوں نے بولروں کی کامیابی پر پانی پھیر دیا۔ جنوبی افریقہ کو ان کے کپتان فاف ڈوپلیسس کی غیر حاضری مہنگی پڑی اسلئے کہ صرف بیٹسمین ہی اچھا اسکور کر پائے۔ اوپنر مارکن نے بہترین اننگ کھیلی باوجود ان کی ٹیم کو آغاز میں نقصان اٹھانا پڑا جب ایلگر ایک بار پھر 5 رن بناکر آئوٹ ہوگئے۔ کپتان سرفراز نے فہیم اشرف کی گیند پر کیچ پکڑا لیکن پھر ہاشم آملہ دنیا کے مانے ہوئے بیٹسمین ہیں انہوں نے دوسری وکٹ  کے لئے 132 رنز بناکر اپنی ٹیم کو مزید ہزیمت سے بچالیا لیکن مارکن بدقسمتی سے سنچری مکمل نہ کرسکے اور 90 رنز پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ہاشم آملہ، فرحان بہارالدین اور اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے زبیر حمزہ نے 41 رنز کی اننگز کھیلی ان کے سوا کوئی اور بیٹسمین جم کر نہیں کھیل سکا۔ دوسرے ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے شان مسعود اس مرتبہ 2 رنز ہی بنا پائے جبکہ اظہر علی پھر صفر پر آئوٹ ہوگئے دونوں وکٹیں 6 کے اسکور پر گریں اور دونوں کھلاڑیوں کو فلینڈر وکٹ کیپر ڈی کوک کے ہاتھوں کیچ آوٹ کرکے اپنی ٹیم کو کھیل میں واپس لے آئے۔ فلینڈر نے 4 اوورز میں 3میڈن پھینکے اور صرف ایک رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔ کھیل ختم ہونے سے تھوڑا پہلے تک پاکستان 9 اوور میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 17 رنز بنا پایا تھا امام الحق اور عباس جو  نائٹ واچ مین کی حیثیت سے کھیلنے آئے کوئی رن نہیں بناسکے۔
********
 

شیئر: