سعودائزیشن کی شرح 75فیصد سے کم کی جاسکتی ہے؟

ریاض۔۔۔ وزیر محنت کو اختیار ہے کہ اہل سعودی کارکن نہ ملنے کی صورت میں کسی بھی ادارے کی سعودائزیشن کی شرح 75فیصد سے کم کرسکتا ہے۔ یہ استثنی وقتی ہوگا اور مناسب سعودی کارکن ملنے پر ختم کردیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق نئے لیبر قوانین کے نفاذ کے بعد تمام اداروں کو کارکنان کی مجموعی تعداد کے تناسب سے 75فیصد سعودی ملازم رکھنے ہوں گے۔ سعودائزیشن کی شرح مکمل نہ کرنے والے ادارے کا مکتب العمل میں کمپیوٹر بند ہوجائے گا۔ نئے لیبر قوانین میں وزیر محنت کو اختیار دیا گیا ہے کہ کسی بھی ادارے میں کام کرنے کے لئے اہل سعودی کارکن نہ ملنے پر وہ سعودائزیشن کی 75فیصد شرح کم کرسکتا ہے تاہم یہ استثنی اس وقت تک رہے گا جب تک اہل سعودی ملازمین دستیاب نہیں ہوتے۔ وزیر محنت کو دیا جانے والا یہ اختیار صرف اداروں کے لئے ہی نہیں بلکہ وقتی اور عارضی کام کرنے والے اداروں کی سعودائزیشن کے لئے بھی ہے۔ وزیر محنت کو دیا جانے والا یہ اختیار اداروں کے مفاد عامہ کو ملحوظ رکھنے کے لئے ہے تاکہ کسی ادارے کا کام تعطل کا شکار نہ ہو ۔ ذرائع نے کہا ہے کہ بعض اداروں میں ٹیکنکل کام ہوتے ہیں جنہیں کرنے کے لئے خصوصی مہارت ، تعلیم یا اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے تاہم قانون کے مطابق ادارہ75فیصد سعودی کارکن رکھنے کا پابند ہے۔ نئے لیبر قوانین میں یہ لچک رکھی گئی ہے کہ جس ادارے میں کام کرنے کے لئے خصوصی مہارت ، تعلیم یا اہلیت کے حامل سعودی نوجوان میسر نہ ہوں تو اسے 75فیصد کی شرح سے استثنی دیا جائے۔ 
 

شیئر: