خروج وعودہ پر جاکر واپس نہ آنے والا 3سال کےلئے بلیک لسٹ

 یہ پابندی تمام جی سی سی ممالک کیلئے ہے، دوبارہ مملکت آنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ سابق کفیل ورک ویزاجاری کرا دے
قارئین کرام حسب سابق اس ہفتے بھی موصول ہونےوالے سوالات میں سے بعض کے جوابات دیئے جارہے ہیں ۔ قانونی مشورے کے عنوان سے محکمہ جوازات ، مکتب العمل والعمال ( لیبر آفس ) ورک پرمٹ، وزٹ ویزوں اور اس قسم کے دیگر اداروں سے متعلق موصول ہونے والے سوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں ۔ اس حوالے سے جو بھی استفسارات ہوں آپ اردونیوز کی ای میل پر ارسال کر سکتے ہیں ۔ذیل میں منتخب سوالات کے جواب حاضر ہیں ۔
٭٭٭٭٭
٭ میرا ایک دوست گزشتہ 8 برس سے مقیم تھا ۔ خروج و عودہ ( ایگزٹ ری انٹری ) پر پاکستان گیا جہاں بعض مجبوریوں کی وجہ سے وقت مقررہ پر نہ لوٹ سکا اور ایک برس گزر گیا۔ کفیل سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ وقت مقررہ پر نہ لوٹنے کی وجہ سے ویزہ کینسل ہو چکا ہے۔ یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میرا دوست کسی دوسرے ویزے پر مملکت نہیں آسکتا ۔ پابندی کاقانون یہ درست ہے تو کتنی مدت کےلئے مملکت آنے پر پابندی ہوتی ہے۔( ساجد حسن ، خمیس مشیط)
٭٭مملکت کے امیگریشن قوانین کے مطابق ایگزٹ ری انٹری ویزے ( خروج و عودہ ) پر جانے والے کےلئے لازم ہے کہ وقت مقررہ کے اندر واپس لوٹے ۔ اگر کسی بیماری یا دیگر مجبوری کی وجہ سے وقت مقررہ پر نہ آنے کی صورت میں اپنے ملک میں سعودی سفارتخانے سے رجوع کر کے انہیں جائز وجہ بتانے کے بعد خروج و عودہ کی مدت میں محدود توسیع کرائی جاسکتی ہے ۔ آپ کے دوست کو ایک برس سے زیادہ مدت ہو چکی ہے اس صورت میں جملہ تفصیلات خود کارسسٹم کے تحت مملکت مرکزی کمپیوٹر کے ذریعے تمام پورٹس کو ارسال کردی جاتی ہیں جہاںایسے افراد کو بلیک لسٹ کی فہرست میں از خود شامل کر دیا جاتاہے اس صورت میں کسی بھی دوسرے ویزے پر خواہ وہ عمرہ ویزہ ہو ، حج یا وزٹ مملکت میں 3 برس کےلئے نہیں آسکتے ۔ یہ پابندی تمام جی سی سی ممالک کے لئے عائد ہوتی ہے یعنی ان ممالک میں کسی بھی ویزے پر 3 برس کےلئے نہیں جاسکتے ۔ خروج وعودہ کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کےلئے مذکورہ پابندی کے اندر دوبارہ مملکت میں آنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ سابق کفیل اگر چاہے تو وہ ورک ویزاجاری کرا دے اس ویزے پر آپ دوبارہ مملکت آسکتے ہیں اورجب مستقل طور پر واپس جانا ہو تو فائنل ایگزٹ ویزا لگوانا ہو گا تاکہ بلیک لسٹ ہونے سے بچا جاسکے ۔مذکورہ صورت میں مملکت آنے کا یہی ایک راستہ ہے جبکہ کسی دوسرے اسپانسر کے ویزے پر آپ مملکت نہیں آسکتے ۔ محکمہ پاسپورٹ نے تمام سسٹم کو کمپیوٹرائز کیا ہوا ہے جس سے فوری طور پر امیگریشن حکام کو معلوم ہو جاتا ہے کہ مملکت آنے والے کا ماضی کس طرح کا تھا آیا اس پر کسی قسم کی قانون شکنی درج ہے یا نہیں ۔ 
٭13 برس مملکت میں مقیم رہا کفیل سے کسی بات پر اختلاف ہو نے کے سبب مجھے بے دخل کر دیا گیا ۔ میرے اہل خانہ بھی میرے ساتھ مقیم تھے انکا بھی خروج ( ایگزٹ) میرے ساتھ ہی لگا دیا گیا ۔ کیونکہ مجھے 5 برس کےلئے بلیک لسٹ کیا گیا تھا اس لئے سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنے بڑے بیٹے کو جو میری کفالت میں مملکت میں مقیم تھا ورک ویزے پر سعودی عرب بھیج سکتا ہوں۔( عفران احمد ۔ کراچی پاکستان)
٭٭مملکت کے قانون کے مطابق اقامہ قوانین کی خلاف ورزی پر عام طور پر 3 برس کےلئے بلیک لسٹ کیا جاتا ہے جس کا نفاذ تمام خلیجی ممالک کے لئے ہوتا ہے ۔ اگر کسی کیس کے تحت مملکت سے بے دخل کیا گیا ہو تو اس صورت میں مخصوص کمیٹی جوگورنریٹ ، جوازات اور لیبر آفیس کے نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے وہ سزا کے علاوہ بلیک لسٹ کی مدت کا بھی تعین کرتی ہے ۔ آپکے کیس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اقامہ قانون کے تحت نہیں بلکہ کسی اور اختلاف کے صورت میں مملکت سے بھیجے گئے ہیں ۔ اس لئے آپ کو 5 برس کےلئے بلیک لسٹ کیا گیا ہے ۔ یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ 2016 سے قبل مملکت سے بلیک لسٹ کئے جانے کی مدت 5 برس ہی ہوتی تھی جسے تبدیل کر کے 2016 کی تیسری سہہ ماہی میں 3 برس کر دیا گیا تھا اس اعتبار سے آپ پر جو پابندی عائد کی گئی ہے وہ وہ مذکورہ تاریخ کے بعد کی ہے یا پہلے کی ۔ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ پابندی 5 برس کےلئے عائد کی گئی ہے یہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب آپ کا کیس مخصو ص کمیٹی کے سامنے پیش ہوا ہو اور وہاں سے سزا جاری کی گئی ہو ۔ جہاں تک آپکے سوال کا تعلق ہے کہ آپ اپنے بیٹے کو ورک ویزے پر مملکت بھیجنا چاہتے ہیں تو اس بارے میں ڈائریکٹر جنرل جوازات سے استفسار کیا گیا تھا جنہوں نے جواب دیا کہ پابندی کا اطلاق اس فرد پر ہو گاجسے سزا دی گئی ہے متاثرہ شخص کے اہل خانہ اس سزا سے مستثنی ہونگے کیونکہ جرم انہو ںنے نہیں کیا اس لئے سزا بھی انہیں نہیں دی جاسکتی ۔ ایسی صورت میں آپ اپنے بیٹے کو مملکت میں کسی بھی ورک ویزے پر مملکت بھیج سکتے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭

شیئر: