Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دولت .... واہ واہ

 آج لوگ تقاریب میں غربت کے خاتمے اور غریبی مٹانے کےلئے بھڑکیلے بیانات تو دیتے ہیں لیکن عملی اقدامات میں جب باری آتی ہے تو نتیجہ صفر نکلتا ہے
زبیر پٹیل۔ جدہ
دکھاوا ہمارے یہاںاس وقت اتنا عام ہوگیا ہے کہ جسکے پاس بے تحاشا دولت ہے یا جن کے یہاں دولت کے ”آبشار“ یا ”کھیت“ ہیں وہ میڈیا میں ہر وقت اپنی کوریج سے نہیں چوکتے چاہتے ہیں کہ کسی بھی طریقے سے میڈیا میں”ان“ رہیں اور اسکے لئے کسی بھی حد تک جانے(دولت خرچ کرنے) کو تیار رہتے ہیں۔دنیا میں2طرح کے امیر لوگ ہیں ایک وہ جو ہر وقت اپنی شہرت اور تشہیر کے خواہش مند ہوتے ہیں جبکہ دوسرے وہ ہیں جو غربت کے خاتمے کیلئے خاموشی سے بھلائی اور فلاح کے کام کرتے ہیں اور تشہیر سے گریز کرتے ہیں۔ دوسرے قسم کے لوگ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جبکہ پہلی قسم کے لوگ دنیا میں بے تحاشا ہیں۔سوال یہ ہے کہ انہیں اپنی دولت او ر شہرت کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟اگر وہ دولت کا کچھ حصہ خاموشی سے اللہ کی راہ میں خرچ کردیں تو اس سے انکی دولت کم نہ ہوگی۔
گزشتہ ماہ کاروباری دنیا کی ایک مقبول شخصیت نے اپنی بیٹی کی شادی پر تقریباً100ملین ڈالر کے لگ بھگ اخراجات کئے جس کے بعد میڈیا میں وہ اس حوالے سے کافی دنوں تک” ان“ رہے۔ میرا اس کیٹگری کے تمام امیروں سے سوال ہے کہ آخر وہ ایک شادی پر اتنی دولت خرچ کرکے کیا جتانا چاہتے ہیں؟۔ یہ صرف اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ آج لوگ تقاریب میں غربت کے خاتمے اور غریبی مٹانے کےلئے بھڑکیلے بیانات تو دیتے ہیں لیکن عملی اقدامات میں جب باری آتی ہے تو نتیجہ صفر نکلتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عملی طور پر بھی 100فیصد نہ سہی کم از کم 75فیصدحصہ تو ثابت کریں۔
 

شیئر:

متعلقہ خبریں