کانوں کا کچا، شک کا پکا ....آج کا انسان

یہ مسائل تو کچھ بھی نہیں مگر انسان اپنی ناسمجھی اور بے عقلی کے باعث ہر بات کو مسئلہ بناکر اسے پہاڑ بنادیتا ہے،جسے ہم مسائلستان کہہ سکتے ہیں،اگر تھوڑی سی سمجھداری اور عقلمندی کا مظاہرہ کریں تویہ پہاڑ ہی نہیں بن سکتا
زبیر پٹیل ۔ جدہ
آج کا انسان کانوں اور دماغ کا جتنا کچا ہے شک میں اتنا ہی پکا ہے اگر اسے کوئی بھی جھوٹی سچی کہانی سنادی جائے وہ اس پر یقین کرتے ہوئے بات کو کچھ مزید مرچ مصالحہ لگا کر آگے بڑھا دیتا ہے اور اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ اس بات کو جس کا سرے سے وجود ہی نہیں دعویدار بن جاتا ہے۔وہ یہ بات سوچتا ہی نہیں کہ وہ اسے تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھا رہا ہے۔ تحقیق کی وہ ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔اسی طرح کانوں میں تو آج کل کیا کچھ باتیں پڑتی رہتی ہیں مگر ہم اسے سچ ہی تصور کرتے ہیں۔ جہاں تک شک کا دائرہ ہے تو اس میں ہم چیمپیئن ہی ہیں۔لوگوں کا آج یہ حال ہے کہ اگرکوئی اچھائی کرے تو اس پر بھی شک کرتے ہیں اگر کوئی برائی کرے تو بھی شک کے دائرے میں رہتا ہے اسی شک نے ہمیں دنیا میں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اگر ہربات کھلے دل و دماغ سے محسوس کریں اور پرکھیں تو شاید یہ مسائل جو آج ہماری زندگی میں زہر گھولے ہوئے ہیں ختم ہوجائیں۔
یہ مسائل تو کچھ بھی نہیں مگر انسان اپنی ناسمجھی اور بے عقلی کے باعث ہر بات کو مسئلہ بناکر اسے پہاڑ بنادیتا ہے۔جسے ہم مسائلستان کہہ سکتے ہیں۔اگر تھوڑی سی سمجھداری اور عقلمندی کا مظاہرہ کریں تویہ پہاڑ ہی نہیں بن سکتا زندگی اپنی اور دوسروں کی بیحد پرسکون گزرسکتی ہے مگر لوگ آج کسی کو سکھی دیکھنا گوارہ ہی نہیں کرتے بہرحال اپنا اپنا نصیب ہے۔اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں۔ اپنا ہی کیا انسان کو بھگتنا پڑتا ہے۔شاید اسی لئے کہا گیا ہے کہ ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے“۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
 
 

شیئر:

متعلقہ خبریں