ابن انشاءکی موت ، اِک خلاجورواں صدی میں شاید ہی پُر ہو سکے

 زینت ملک ۔جدہ
    
حیات و کائنات علم کا منبع ہے۔ ایک علم وہ ہوتا ہے جس کے لئے کتاب و قلم کی ضرورت ہوتی ہے اوردوسرا وہ ہوتا ہے جو انسان کے سینہ بہ سینہ صدیوں کا سفر طے کرتا ہے۔ علم سیکھنے کے لئے معلم کی ضرورت ہوتی ہے۔کائنات میں بھی قدرت نے بےشمار چیزیں انسان کے سبق سیکھنے کے لئے بنائی ہیں یعنی کائنات پر غور کریں تو بھی بہت سی ان کہی باتیںسامنے آجاتی ہیں۔ یہ سورج کیوں اور کیسے ایک مقررہ وقت پر روزانہ طلوع ہوتا ہے، اس کی وجہ سے کائنات پر حیات کو حیات حاصل ہے۔ قدرت نے کیسے کیسے عجائبات تخلیق کئے ہیں جو غور و فکر کرے گا، اپنے خالق کے قرب کو پالے گا۔ اپنے خالق کے دیدار کی خواہش میں ہر وہ حکم بجالائے گا جس کا کہ اسے حکم دیا گیا ہے۔
     مطالعہ انسان کی ذہنی نشوو نما کرتا ہے ۔ایک کتاب مدتوں تک لوگوں کے لئے چشمہ فیض بنی رہتی ہے ۔مطالعہ جس قدر اعلیٰ کتب کا ہوگا، اہل علم کی قدر و قیمت اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ برصغیر پاک و ہند1857ءسے قبل علم و فضل کا بحر بیکراں تھا۔ دور دراز سے سیاح آکر وہاں کے کتب خانوں سے مستفیض ہوتے تھے بقول مولانا الطاف حسین حالی مسلمانوں کا اقبال جب عروج پر تھا تو اس وقت کتب خانوں کی اہمیت تھی :
قدیم خلافت میں اونٹوں پہ لد کر
چلے آتے تھے مصر و یوناں کے دفتر
     ابن انشا ءکی سیاحت اس طور ضبط تحریر میں آئی کہ سفرنامے سے زیادہ ایسا مکتوب قرار پائی کہ جسے سیاحت کا شوق ہو وہ ان سفر ناموں کو اپنی سیاحتی رہنمائی کے لئے ساتھ لیکر سفر شروع کرے۔ اس طرح سیاحت کے شوقین کو دو فائدے حاصل ہونگے ۔پہلا تو یہی کہ اسے جگہوں کی معلومات میں آسانیاں ملیں گی ۔دوسرایہ کہ وہ اپنے آپ کو سفر کے دوران کہیں بھی تنہا محسوس نہیں کرے گا۔ ہر جگہ ابن انشاءکے یہ سفرنامے اس کے ساتھی بن کر اسے اتنا منہمک رکھیں گے کہ اسے سفر کی صعوبت کا احساس دور دور تک نہ ہو گا۔
    ابن انشاء نے اپنے سفرنامے ”ابن بطوطہ کے تعاقب میں“ جو نجمی اور جمشید کے کارٹونوں کے ساتھ1974ءمیں طبع اول ہوا، ابن انشاءلکھتے ہیں کہ:
    ” ابن بطوطہ ایران گئے۔ابن انشا ءبھی ایران گئے۔ابن بطوطہ نے لنکا کا سفر اختیار کیا ۔ ابن انشا ءنے بھی کیا ۔ مصر،شام، روم، افغانستان، ہند، بنگال، انڈونیشیا اور چین کی سیاحت بھی دونوں نے کی لیکن باہم فاصلہ 6صدیوں کا رہا۔ اس سفر نامے میں ایران اور لنکا کے علاوہ احوال تازہ پورب پچھم کے دوسرے ملکوں اور شہروں لندن، پیرس، جرمنی، فلپاین، ہانگ کانگ اور جاپان کا سفربھی شامل ہے۔ انہوں نے اپنے سفر نامے کے پہلے صفحے پر’ ’رتن ناتھ سرشار، فسانہ آزاد“ کی نظم شامل اشاعت کی ہے، ملاحظہ ہو:
اکتا گیا جی یہاں سے بھائی
پھر چلنے کی دل میں جھک سمائی
ایسی صد ہا پڑی ہیں افتاد
روکے سے کہیں رکے ہیں آزاد
 گردش میں ہے ان دنوں جو اختر
پاﺅں پر سوار ہے سنیچر
 چھپر پہ دھرا ہے عیش و آرام
سیاحوں کو ایک جا پہ کیا کام
 بس یہی ہے لطف زندگانی
دانہ ہو نیا، نیا ہو پانی
چشمہ نہ بہے تو اس میں بو آئے
خنجر نہ چلے تو مورچہ کھائے
 لیتے ہیں خبر ادھر ادھر کی
اب بھرتے ہیں سدھیاں سفر کی
 سیٹی بجی ریل کی مری جاں
لو جاتے ہیں اب، خدا نگہبان
    ایک مختصر سے سیاہ و سفید رنگ کے کارٹون میں ایک شخص کو سفر کرتے دکھایا گیا ہے جس کے پس منظر میں اس کا گھر نظر آرہا ہے اور وہ ایک بڑے درخت کے پاس سے گزر رہا ہے ۔اس میں اس سیاحتی اشعار کا قرار واقعی تصویری منظر پیش کیا گیا ہے۔ اس سیاحت پر کمربستہ شخص ،اسلامی لباس میں ملبوس ہے اور سر پر صافہ باندھ رکھا ہے ۔
     ظاہر ہے کہ کائنات کی سیاحت ،علم حاصل کرنے کے لئے ہی کی جانی چاہئے ۔ قدرت کی صناعی دیکھ کر اس کا دل یقین میں اور مستحکم ہوتا جاتا ہے ۔ہر کتاب کا مصنف جس جگہ پر پیش لفظ یا مقدمہ تحریر کرتا ہے، وہاں ابن انشاءنے ”سیاح کی منا جات “ کے عنوان سے کچھہ لکھ کر اس کو خاص بنا دیا ہے ۔تحریر ہے:
    ” چلتے ہو تو چین کو چلئے، آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، اور اب یہ ابن بطوطہ کے تعاقب میں ۔“ آخر اتنی کتابیں کون پڑھے گا، اتنے قصے کون سنے گا ؟ اس پر ہمیں سیاح کی مناجات یاد آتی ہے جو پچھلے دنوں آرٹنجوالڈن نے اپنے کالم میں لکھی تھی ۔ نمونہ کلام کا کچھ حصہ :
    ” اس سیاح غریب کو جس کے مقدر میں بدیس گھومنا،خوار ہونا، فوٹو لینا، تصویری پوسٹ کارڈ پوسٹ کرنا، تحفے خریدنا لکھا ہے۔“    ابن انشا ءنے اس میں اپنا منشا بھی شامل کردیا کہ کاش! ہمارا جہاز اغوا نہ ہو، ہمارا سامان گم نہ ہو، اور اگر ہمارے پاس اجازت سے زیادہ بوجھ ہو تو کوئی گرفت نہ کرے۔ کسی کی اس پر نظر نہ پڑے۔ ہمیں توفیق ملے کہ ہم وہ سارے میوزیم، محل اور قعلے دیکھیں کہ جن کا دیکھنا ہماری گائیڈ بک میں لازمی لکھا ہے ۔ہم دوپہرکو سستانے کی وجہ سے کوئی تاریخی مقام دیکھنا بھول جائیں تو ہمیں معاف کر دیجئے ، ہم آخر انسان ہیں۔“
    مزید کہتے ہیں کہ یہ تو خیر ہر سیاح کی واردات ہے۔جرمنی و لندن کے سفر کے دوران جو1971ءمیں اختیار کیا، بڑے اہتمام سے ایک ہدایت نامہ پیارے ہموطنوں کے لئے لکھا ۔ انہوں نے لکھا کہ ہم جب کبھی ملک سے باہر قدم نکالتے ہیں، پیچھے کوئی نہ کوئی خرابی ہو جاتی ہے۔ہم نے سوچا کوئی بات نہیں، ناسمجھ ہیں، ہم واپس جاکر سمجھا دیں گے۔اس ملک میں کوئی ہمارے کہنے سے باہر تھوڑاہی ہے لہٰذا ہانگ کانگ سے ٹوکیو ، سیول، ہونو لولو ہوتے ہوئے سان فرانسسکو جا وارد ہوئے۔ امریکہ سے سویڈن اور ترکی کے راستے واپسی تک حالات ہمارے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ گول میز کانفرنس کی بات ہونے لگی تھی۔ گول میز کانفرنس میں شریک ہونا بھی ہم نے پسند نہیں کیا۔ یہ بھی ہمیں اپنے اصول کے خلاف نظر آیا ۔ ہمارا اصول ہے کہ جہاں ہمیں کوئی بلائے نہیں، وہاں جاتے نہیں۔ خیر ہماری بات تو چھوڑئیے تشویشناک خبریں سنتے تھے اور ہر بے عمل محب وطن کی طرح ملک کے حق میں دعا کر کے اپنے فرض سے سرخرو ہو جاتے تھے لیکن ہمارے ہم سفر فضل الباری صاحب کا معاملہ دیگر تھا۔ آپ مشرقی پاکستان کے وزیر صحت تھے اور ہمارے تین نفری وفد کے لیڈر ۔ صحت انکی خاصی خراب،ہمارے ہمرکاب جو تین ایرانی اور تین ترک تھے وہ فقرہ بھی کس دیتے تھے کہ وزیر صحت کسی اچھی صحت والے کو بنا یا ہوتا بلکہ بہتر تو یہ تھا کہ نہ بنا یا ہوتا۔
    لندن ایر پورٹ پر پر پہنچتے ہی وہ ہم سے یوں جدا ہوئے کہ دعا سلام بھی نہ کی۔ ان کی وزارت کے ساتھ” شبے ماند،شبے دیگر نمی ماند“ کی واردات ہوئی۔ گویا وہ سیاسی بصیرت سے ایسے محروم نہیںتھے، و یسے صحت سے تھے ۔” پھر چھیڑا حسن نے اپنا قصہ “ میں تحریر کرتے ہیں کہ’ ’ ہمارا سفر نامہ،” آوارہ گرد کی ڈائری“ پچھلے دنوں چھپا تو اس کی رونمائی کی تقریب میں ہمارے ایک عزیز دوست نے ہمیں غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے یہ فقرہ کہا:
    ” اس ملک کی عمرانیات، لسانیات، نسلیات، نباتات ،جمادات، حیوانات، سیاسیات ، ادب، آرٹ ،اوپرا،بیلے وغیرہ کے بارے میں کوئی معلومات بہم نہیں پہنچاتے ۔ یہ بات ہمیں بری لگی جو مشتاق احمد یوسفی کی منطق کے بموجب اس بات کا ثبوت تھی کہ سچی تھی لہٰذا اب کے ہم نے ولایت کے لئے رخت سفر باندھا تو طے کرلیا کہ فقط فنون لطیفہ،ادب، آرٹ، تھیٹر وغیرہ اور اونچے مسائل اور ارفع مباحث سے سروکار رکھیں گے جیسا کہ ہم ایسے تعلیم یافتہ آدمی کے شایان شان ہے ۔دانشور کی سطح سے ہر گز نیچے نہیں اتریں گے۔ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔ میں، محبوب عالم پیسہ اخبار والے اپنا ذکر کرتے ہیں کہ وہ برلن میں ایس بان مین 1900 میں اور ہم1967 میں سفر کرتے رہے ہیں۔ سیاحت کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے ارد گرد کی چیزوں کا نہ صرف جائزہ لے بلکہ اس کی تاریخی اہمیت سے آگاہ ہوکر اس جگہ جائے کہ کس حکمران نے یہاں حکومت کی، وہاں کو عوام کیسے تھے اور یہ کہ کن اہم شخصیات نے یہاں کے بارے میں سفر یا ت میں ذکر کیا ۔
    ابن انشا ءکے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی شاعری ہو یا نثر یا پھر سفر نامے اور روزانہ کا اخبارکا کالم ،ہر ایک جملہ شستہ اور دلآویز ہے شاید ہی یہ خلا اس صدی میں پُر ہو سکے ۔
 

شیئر: