سعودی ولیعہد اور القحطانی کے مکالموں کا راز کھل گیا!

ریاض۔۔۔امریکہ کی معتبر سیکیورٹی کمپنی ’’کرول‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ایوان شاہی کے سابق مشیر سعود القحطانی کے درمیان ہونیوالے ٹیلیفونک رابطوں اور پیغامات میں جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔اس کے برعکس کئے جانیوالے دعوے سراسر غلط ہیں ۔ امریکی کمپنی کی رپورٹ امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل نے شائع کی ہے اور ’’العربیہ ‘‘نے اس کا ترجمہ جاری کیا ہے ۔سی آئی اے نے خاشقجی کے قتل سے متعلق مذکورہ مکالموں کو بنیاد بناکر جو نتیجہ اخذ کیا تھا وہ غلط نکلا۔کمپنی نے تاکید کی ہے کہ سعودی ولیعہد اور ان کے معاون کے درمیان پیغامات اور مکالموں میں خاشقجی کا موضوع زیر بحث نہیں آیا۔امریکی کمپنی نے یہ خفیہ رپورٹ سعودی پبلک پراسیکیوٹر کیلئے تیار کی ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور القحطانی کے درمیان 2اکتوبر 2018ء کو واٹس ایپ پر پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا۔ یہ وہ دن ہے جس روز خاشقجی کو قتل کیا گیا تھا ۔ ان پیغامات میں خاشقجی کے قتل یا ان سے متعلق کوئی موضوع زیر بحث نہیں آیا۔مذکورہ پیغامات کے معائنے کا فیصلہ اس وجہ سے کیا گیا کیونکہ ان کی بابت شکوک و شبہات پیدا کر دئیے گئے تھے اور مغربی میڈیا میں ان پیغامات کو الزام کی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔پبلک پراسیکیوٹر نے سب کی نظروں میں معتبر غیر جانبدار اور ماہر ادارے سے جان بوجھ کر مذکورہ پیغامات کی حقیقت دریافت کرائی ۔سی آئی اے نے اپنی خفیہ رپورٹ میں ان پیغامات کو بنیاد بنایا تھا ۔ سی آـئی اے کے عہدیداروں نے رپورٹ میں اعتراف کیا کہ انہیں سعودی ولیعہد اور قحطانی کے درمیان رابطوں کا علم تھا۔البتہ انہیں رابطوں کے مضامین کا پتہ نہیں تھا۔کرول نے القحطانی کے موبائل کا معائنہ کر کے رپورٹ دی ہے ۔ امریکی انسپکٹرز نے شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے 2اکتوبر کو القحطانی کو بھیجے گئے 11پیغامات کا معائنہ کیا ۔ انہوں نے اس روز مزید 15پیغامات بھیجے تھے۔کرول کا کہنا ہے کہ ان میں سے کسی ایک میں بھی جمال خاشقجی کی بابت کوئی واضح بات نظر نہیں آئی۔امریکی انسپکٹرز کو ایسا کوئی ثبوت بھی نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ پیغامات میں کوئی ردوبدل کیا گیا ہو یا انہیں حذف کر دیا گیا ہو ۔ کرول کا کہنا ہے کہ القحطانی کے موبائل میں ایک پیغام کے مٹائے جانے کا ثبوت ملا ہے ۔ القحطانی نے وہ پیغام ارسال کیا تھا اور پھر اس میں پرنٹ کی غلطی ہونے کی وجہ سے اسے حذف کر دیا تھا اور تصحیح کے بعد دوبارہ ارسال کیا تھا ۔ سعودی پبلک پراسیکیوٹر نے اس کی بابت بھی استفسار کیا تھا ۔ ولیعہد کی جانب سے مشیرکے نام بھیجے گئے پیغامات عام نوعیت کے تھے ۔ سعودی حکومت کئی باریہ باور کرا  چکی ہے کہ سعودی ولیعہد کو خاشقجی کے قتل کا علم نہیں تھا۔

شیئر: