قرآن مجید سے دوری کا طبعی نتیجہ ، امت کی بدحالی

قرآنی ہدایات آج بھی تاریخ کا رخ موڑسکتی ہیں اور اس کو پستی سے نکال کرنقطۂ عروج تک پہنچا سکتی ہیں
مفتی تنظیم عا لم قا سمی ۔ حیدرآباد

تخلیق کائنات کے بعد انسان کا وجود جب عمل میں آیا تو یہ تہذیب و تمدن سے نابلد ، زندگی کے نشیب و فراز سے ناواقف ،کھانے پینے ، رہنے سہنے اور دیگر تمام ضروریات زندگی سے نا آشنا تھا ۔اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ دنیا کے اس رنگ و بو میں قدم کیسے آگے بڑھا یا جائے ، کس طرح اللہ کی دی ہوئی زندگی کو گزاراجائے ، کائنات میں پیدا کی گئی ان مادی منفعتوں سے کس طرح استفادہ کیا جائے ۔رب کائنات نے معصوم بچوں کی طرح ان کی رہنمائی کی ، انگلیوں کے ذریعہ سہارا دیا ،زندگی گزارنے کے اصول وقواعد بتائے ،دنیا و آخرت میں کامیابی کے ذرائع سے آگاہ کیا اور اپنی مرضی اور خوشنودی کے مطابق زندگی بسر کرنے کی ہدایت دی ، اس کیلئے ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی اکرم ﷺ کے عہد مبارک تک ہردور میں ہر نسل اور ہر طبقہ کیلئے نبی اور رسول کو معبوث کیا گیا ، انہیں آسمانی کتابیں اور صحیفے دیئے گئے جن میں توریت ، زبور ، انجیل اور قرآن زیادہ مشہورہیں ۔جب کائنا ت کا بیشتر حصہ گزرچکا ، موقع اور حالاتِ زمانہ کے اعتبار سے کتابیں اور رسول بھیج دئیے گئے ، تو اب ضرورت تھی کہ دین ومذہب کی تکمیل کردی جائے اور وہ آخری ہدایت نامہ بھی دے دیا جائے ، جس میں تمام نوع انسانی کی ہدایت کا رازمضمر ہے ، جوکسی زمانہ اور جگہ کے ساتھ خاص نہیں، رہتی دنیا تک تمام نسلوں کیلئے رحمت اور پیغام ہے ، چنا نچہ آ خری قا نو ن کی حیثیت سے رسو ل اکر م ﷺپر قر آ ن نا زل کیا گیا۔
    قرآن ایک قانون ہے ،جو اللہ کی طرف سے بندوں کو دیا گیا ہے تاکہ زندگی کی وضع قطع اس کے مطابق بنائی جائے ، نشست و بر خاست اور قول و عمل قرآن کے دیئے گئے تاکہ سانچہ میں ڈھالا جائے ، اس کے بغیر نہ تو کوئی نور ہدایت پا سکتا ہے اور نہ ہی فلاح و بہبود کی کسی جھلک کی توقع کی جاسکتی ہے کیونکہ کسی بھی قابل عمل قانون میں جن بنیادی عناصر کا ہونا ضروری ہے ، وہ صرف قرآن میں موجود ہیں، مثلاًقانون کیلئے ضروری ہے کہ وہ آفاقی اور عالمگیر ہونے کے ساتھ مستحکم اور مضبوط ہو ، جو بلا کم وکاست تمام طبیعتوں کی ہدایت کیلئے سا مان فراہم کرسکے ۔کسی ردو بدل اور حذف وترمیم کے بغیر ہرعہد اور زمانہ کے مسائل کا صحیح حل اس سے نکالا جاسکے اور ظاہر ہے کہ قرآن کے علاوہ کسی دوسرے قانون میں یہ و صف تلاش نہیں کیا جاسکتا ۔اسی طرح قانون کا اہم اور بنیادی مقصد عدل وانصاف کا فراہم کرنا ہے ۔
    اگر کوئی مقدمات میں انصاف اورمساوات کا متلاشی ہے ، تو قانون کی چوکھٹ سے اسے کسی حرف اور نقطہ کے تغیر کے بغیر حقوق دیئے جاسکیں۔ ظلم و زیادتی ، حق تلفی اور جابرانہ طور طریقے کو ختم کرنے کی بے باکا نہ صلاحیت اس میں پائی جاتی ہو اور اس سلسلہ میں اس میں کوئی لچک نہ ہو ، ایسا قانون قرآن کے علاوہ دوسری جگہوں میں تقریباًناپید ہے ۔قانون کے لئے یہ بھی ضرو ری ہے کہ اس کے پاس اس بات کی کوئی معقول وجہ موجود ہو کہ وہ کیوں کسی چیز کو ’’جرم ‘‘ قرار دیتا ہے ۔انسانی قانون کے پاس اس کا جواب یہ ہے کہ جو عمل ’’امنِ عامہ یا نظم ِ مملکت‘‘ میں خلل ڈالتاہو ، وہ جرم ہے ۔ اس کے بغیر اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی فعل کوجرم کیسے قرار دے ، یہی وجہ ہے کہ قانون مروجہ کی نگاہ میں زنا اصلاً جرم نظر نہیں آتا بلکہ وہ صرف اس وقت جرم بنتاہے جبکہ طرفین میں سے کسی نے دوسرے پر جبر کیاہو۔گویا انسانی قانون کے نزدیک اصلی جرم زنا نہیں بلکہ جبرو اکراہ ہے۔اس طرح کے بیشتر معاشی اور معاشرتی قوانین ہیںجن کی وجوہ اور علل سے قطعی ناواقفیت ہے ، لیکن جب قرآن کسی چیز کوموجب گنا ہ اور جرم قراردیتا ہے تو اس کی مصلحت اور حکمت پر بھی روشنی ڈالتا ہے جیسا کہ آج کے سائنسی ایجادات وانکشافات اور جدید تحقیقات سے قرآن کے بتائے گئے تمام مصالح کی تصدیق ہوجاتی ہے ۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے قرآن لاثانی قانون ہے جس کی ندرت اور امتیازی و صف نے دنیا کو عاجز کردیا۔ہر زمانہ کے ادیب ، ماہر قانون داں ، اعلیٰ تعلیم یافتہ دنگ رہ گئے اور ہزار کوششوں کے باوجو د قرآن کی طرح بے داغ اور صاف وشفاف ، فصیح و بلیغ اور کامل ترین قانون وضع نہ کرسکے ۔ زمانہ نے دیکھا کہ لبید بن ربیعہ اور ابن المقفع جیسے قادر الکلام ذہین و طباع قرآنی چیلنج کے سامنے سرنگوں ہوگئے اور اپنی بیکسی کا اعتراف کیا ۔
    یہ قانون الہٰی ہر دور کیلئے یکساں معیارِ ہدایت ہے اور ہر دور کے تقاضوں کی رعایت اس میں ملحوظ ہے۔متلاشیٔ حق، عمر اور منزل کے جس موڑ پربھی ہو ، قرآن مکمل طور پر اس کی ر ہنمائی کرتا ہے ۔ سائنسی ایجادات اور جدید ٹکنالوجیاں عروج کے جس نقطہ پر بھی ہوں ، مسائل اور مشکلات کا وہ ایسا حل بتاتا ہے کہ محسوس ہوتا ہے ، شاید اسی مسئلہ کو حل کرنے کیلئے قرآن نازل کیاگیا ہے اور اسی مسئلہ کا حل قرآن کے نازل کئے جانے کا اہم مقصد ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نزول قرآن پر 14صدی سے زا ئد عر صہ گزرجانے کے باوجود آج تک اس میں تابانی ،روحانیت اور انقلابی تاثیر موجود ہے جس کا غیر مسلموں کوبھی اعتراف ہے ۔
     قرآن جس قوم پر نازل ہواوہ تہذیب و ثقافت سے نابلد اور اخلاق و کردار سے بالکل ناآشناتھی لیکن قرآن نے اس کی تقدیر کو بدل دیا۔ کچھ ہی دنوں میں وہ ایسی مہذب قوم بن گئی کہ قیصروکسریٰ دم بخودرہ گئے ۔ وہ قوم مفلس تھی مگر قرآن نے اسے اتنا عروج بخشا کہ دنیا کی سلطنتیں قدم بوس ہوگئیں ۔جس قرآن اور قانون پر عمل کرکے بدو اور گنوار عرب قوم نے حیرت انگیز ترقی کی، دنیا پر قبضہ کیا اور ہر میدان کے وہ شہسوار بنے ، آج بھی اسکے ذریعہ عروج حاصل کیا جاسکتا ہے، اس لئے ضرورت ہے کہ ہر ملک میں اسی قرآنی قانون کو نافذ کیاجائے ۔ قرآن کی اہمیت اور عصر حاضر میں قرآنی قانون کی کامیابی کے سلسلہ میںصرف مسلمان محققین ہی نے نہیں بلکہ غیر مسلم دا نشور وں نے بھی شہادت دی ہے چنا نچہ جان ڈیون پورٹ ’’ہسٹری آف دی ورلڈ‘‘ میں لکھتا ہے:
     قرآن میں وہ اصول موجود ہیں ، جن کی بنیاد پر حکومت کی بنیاد پڑی اور انہی سے ملکی قوانین احذ کئے گئے ۔ قرآن ایک بے نظیر قانون ہدایت ہے ، اس کی تعلیمات فطرت کے انسانی کے مطابق ہیں ۔
     کائونٹ ٹالسٹائی لکھتا ہے:
    قرآن معاشرت اور اخلاق کی اصلاح کیلئے ہدایت ہے ۔ اگر صرف یہ کتاب دنیا کے سامنے ہوتی اور ریفارمر پید انہ ہوتا تو عالمِ انسانی کی رہنمائی کے لئے کافی ہوتی۔
     نپولین بونا پارٹ لکھتا ہے :
     قرآن بلاشبہ آسمانی کتاب ہے ۔میری خواہش ہے کہ دنیا پر قرآن پاک کے اصول و آئین کے مطابق حکومت کی جائے کیونکہ صرف اسی میں نبی نوع انسانی کی حقیقی فلاح اور بہبود مضمر ہے (مذہب اور جدید چیلنج)۔
    قرآنی ہدایات آج بھی تاریخ کا رخ موڑسکتی ہیں اور اس کو پستی سے نکال کرنقطۂ عروج تک پہنچا سکتی ہیں لیکن افسوس ہے کہ آج بھی ہمارا معاشرہ قرآنی تعلیمات میں پسماندہ ہے۔خلفا ئے راشد ین اور قرونِ اولیٰ کی اسلامی حکومتوں کے عروج اور اُن کی بڑھتی ہوئی تابانی اور تاریخ سے یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ عصر حاضر میں دنیا کاکوئی قانون امن وامان ، عدل و مساوات کی ضمانت نہیں دے سکتا اور نہ ہی اس قانون سے کائناتی ماحول کی پر اگندگیاں ختم کی جاسکتی ہیں۔خوشحالی وترقی ، چین وسکون اور امن عالم کو حاصل کرنے اور موجود ہ خوفناک حالات سے نمٹنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ عصر حاضر میں بین الاقوامی طریقہ پر ہر ملک میں قرآن کے قانون کو نافذ کردیا جائے۔
     اس موقع پر حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒکا وہ اقتباس قابل توجہ ہے جو انہوں نے مالٹا کے جیل سے رہائی کے بعد کہا تھا:
     ’’ مالٹا جیل کی خلوتوں میں ہمیشہ یہ مسئلہ سامنے آیا کہ آج کل پوری دنیا میں مسلمانوں کی ذلتِ و پستی اور ہر جگہ مصائب و آفات میں مبتلاء ہونے کے اسباب کیا ہیں؟ مسلسل غور وفکر کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اس کے اسباب 2ہیں ، اول مسلمانوں کا قرآن کو چھوڑدینا ، دوم آپس میں لڑنا ۔‘‘( الخیر الکثیر)۔
     قرآن کی اسی اہمیت کے پیش نظر آغازِاسلام سے اب تک ہر دور کے علمائے امت نے خدمتِ قرآن پر غیر معمولی توجہ دی ہے ۔ اس کی ہرزاویہ سے خدمت کی گئی ہے اور اسکے ایک ایک گوشہ کو تحقیق کا موضوع بنا یا گیا ہے ، چنانچہ آج اسلامی کتب خانے اور لائبر یریا ں علوم ِقرآن اور اس کے متعلقہ علوم و فنون سے بھر ی ہوئی ہیں ۔عربی ، فارسی ، اردو، ہندی ، انگریزی اور دوسری مختلف زبانوں میں کتابیں اتنی دستیاب ہیں کہ دوسرے فن پر اتنی کتابیں موجودنہیں ۔ ضرورت ہے کہ قرآن کے معنی و مفہوم کوخودسمجھیں اور دوسروں کو بھی اس کے سمجھنے کی دعوت دیں ۔ اجتماعی ، انفرادی ، سماجی ، معاشی اور معاشرتی ،جیسے بھی مسائل ہوں عصر حاضر میں یہ کتاب رہنمائی کیلئے کا فی ہے بلکہ قیامت تک جس دور میں بھی اسے رہنمابنایا جائے عصری تقاضوں کے مطابق قیادت کی بھر پور صلاحیت اس میں پائی جاتی ہے اس لئے یہ کہا جاسکتاہے کہ قرآن ہر دور کے لحاظ سے عصری کتاب ہے۔ اس میں وہ تاثیر ہے جو انسانی زندگی میں انقلاب برپا کرسکتی ہے بلکہ اس کا ظاہری ادب بھی انسان کو اعلیٰ مقام تک لے جاتا ہے۔
    ایک بڑے بزرگ کا واقعہ ہے کہ پہلے وہ بری عادتوں میں گرفتار تھے ،شراب بھی پیا کرتے تھے ۔ایک مرتبہ انہوں نے دیکھا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھا ہوا زمین پر پڑا ہوا ہے۔انہیں حیرانی ہوئی کہ یہ تو اللہ کا کلام ہے اور یہاں زمین پر پڑا ہوا ہے ۔اُن کے پاس اس وقت پیسے بہت مختصر تھے ،فورا ًانہوں نے اس کاغذ کو اٹھا لیا اور بازار سے عطر خرید لائے اور اس کاغذ میں عطر لگا کر اسے اونچے مقام پر رکھ دیا ۔اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا پسند آگئی ۔
    اللہ تعالیٰ نے انہیںگناہوں سے توبہ کی توفیق دے دی اور پھر وہ اللہ کے ولی ہو گئے۔ ساری دنیا میں وہ بشر حافی کے نام سے مشہور ہوئے ۔چونکہ ننگے پیر انہوں نے توبہ کی تھی اسی لئے وہ زندگی بھر ننگے پیر ہی رہے۔ جس راستے سے یہ گزرتے تھے اس راستہ پر جانور تک غلاظت نہیں کیا کرتے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے زمین کو پاک صاف بنادیا ۔ایک بزرگ نے دیکھا کہ جانور اُن کے راستہ میں پیشاب کررہا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ بشر حافی کا انتقال ہوگیا ہے۔ جب اس بات کی تحقیق کرائی گئی تو معلوم ہوا کہ واقعتا ان کا انتقال ہوگیا تھا(ماہنامہ دعوۃ الحق )۔
    قرآن کے محض ادب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک شرابی کو ولایت کے مقام تک پہنچا دیا ۔آپ اندازہ کیجئے کہ اگر ہماری زندگی میں قرآن داخل ہوجائے اور اس کے سانچے میں ہم ڈھل جائیں تو کیا دنیا کی کوئی طاقت ہماری چمکتی ہوئی تقدیر کو بدل سکتی ہے؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قرن اول کی طرح ہمارا رعب ہو اور ہم عزت کی زندگی گزاریں تو اسکے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کہ قرآن کو اپنے سینے سے لگا ئیں اور اسے اپنا دستورِ حیات بنالیں ۔

مزید پڑھیں:- - - - -قرآن مجید ، بْرہانِ الٰہی

شیئر: