ہم نے کی ہیں مشقتیں برسوں ، اپنی ٹوپی اچھالنے کیلئے

شہزاد اعظم
    ہماری قومی زبان اردو ہے، بولی جائے نہ بولی جائے، ہم اور ہمارے صاحبان اردو ہی بولتے ہیں یا اردوبولنے کی تگ و دوکرتے ہیںیا جد و جہد کرتے ہیں یا اردوبولنے کی مشقت کرتے ہیں یا کوشش کرتے ہیںاور یہ کوشش کسی نہ کسی شدت اور شکل میں ساری عمرہی جاری رہتی ہے ۔ اردویعنی قومی زبان سے محبت کا دم بھرنے اور اسے بولنے کے باوجود ہم نجانے کیوں، غیر ملکی زبان” انگریزی “سے بے حد مرعوب ہیں۔اگر انگریزی ہم سے بولی نہ جاتی ہو اور ایسے میں ہم کسی ایسی محفل میں پہنچ جائیں جہاں انگریزی بولنے اور سمجھنے والوں کی اکثریت ہو تو ہم احساس کمتری کا شکار ہو کر ، شرمندہ اور کھسیانے سے ہو کرکسی کونے کھدرے میں دبک جاتے ہیں۔ اگر بچوں کو انگریزی نہ آئے تو انہیں ٹوئشن پڑھواتے ہیں، خود بھی ”انگریزی بولنا سیکھئے“ جیسے مراکز سے رجوع کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ہم انگریز اور ان کی زبان بولنے والوں سے انتہائی محبت کرتے ہیں، ان کی عادات اپناتے ہیں، ان کے اطوار کو اپنی منزل قرار دیتے ہیں۔ زیر نظر تصویر کو ہی دیکھ لیجئے۔جو پاکستان کے ”مانچسٹر“ کہلانے والے شہر فیصل آباد کی ہے یہاں جامعہ کی لڑکیاں اپنی گریجویشن پر نازاں و فرحاں ہیں۔ یہاں پھر وہی بات کہ ہماری قومی زبان”اردو“ میں ٹوپی اچھالنا ایک محاورہ ہے جس کے معانی کسی کا مذاق اڑانا ہے لیکن انگریز چونکہ یہ حرکت کرتا ہے کہ وہ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد سند لیتے وقت لٹکتے پھندنے والی ٹوپی پہنتا ہے جسے ”ہُڈ“کہا جاتا ہے۔پھر سند لے کر وہ اپنی ٹوپی خود اچھالتا ہے۔اُس کے لئے یہ حرکت درست ہو سکتی ہے کیونکہ اس کی زبان میں ”ٹوپی اچھالنا“ محاورہ نہیں مگر ہم اردو بولنے والے اس انداز میں اپنی ٹوپی خود اچھالتے ہیںفقط اس لئے کہ یہ کام انگریز بھی کرتا ہے۔ کاش ہم دوسروں کی ”اندھی تقلید“ سے باز آجائیںاور صرف ایسے کاموں کی تقلید کریں جو فائدہ مند ہوں۔
 

شیئر: