مسئلہ کشمیر عالمی منظر نامے میں پھر سر فہرست

احمد آزاد ۔فیصل آباد٭٭٭***
کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جس کے باسی عرصہ دراز سے جذبہ حریت سے سرشار ہندوستانی فوج سے برسرپیکار ہیں ۔شاید ہی دنیا میں ایسا کوئی خطہ ارضی ہوجس کے باسیوں نے اپنی کئی نسلیں آزادی حاصل کرنے کیلئے قربان کردی ہوں ۔اکثریہ ہوتا ہے کہ ایک نسل سے چلتی ہوئی آزادی کی تحریک جب دوسری نسل کے ہاتھ میں پہنچتی ہے تو اس کا رنگ وروپ مختلف ہوجاتا ہے اور آزادی کا مطلب کچھ اور سمجھ لیا جاتا ہے ۔کشمیر و فلسطین وہ خطے ہیں جن کے باسیوں نے آزادی کی خاطر تمام تر آسائش زدہ مراعات و ہتھکنڈے ناکام کردئیے ہیں ۔کشمیرمیں ہندوستانی سیکیورٹی فورسز کشمیریوں پر ظلم وستم کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں ۔کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دوایٹمی طاقتیں ہمہ وقت آمنے سامنے رہتی ہیں اوردنیا کسی بھی وقت ایٹمی جنگ کا سامنا کرسکتی ہے ۔ایک چھوٹی سی غلطی لاکھوں ، کروڑوں بلکہ اربوں انسانوں کی سانس روک سکتی ہے۔کشمیرمیں تحریک آزادی کو برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ایک نئی اٹھان ملی ہے جس کی بازگشت اس بار 5فروری کے موقع پر دنیا بھر میں سنی گئی ۔دنیا کے تیزی سے بدلتے حالات کے پیش نظر کشمیری قوم بھی اپنی تحریک کوجدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرچکی ہے اورسوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو ماضی کی نسبت بہترین طریقے سے استعمال کررہی ہے۔فیس بک ،ٹوئٹر، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیاکے ٹولز پر کشمیری اپنا موقف دیتے اور ہندوستانی افواج کے مظالم کو فلماتے نظر آتے ہیں ۔تقسیم برصغیر کے وقت ہی کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن ہندوستان کی وجہ سے کشمیر یوں کی دیرینہ خواہش آج تک پوری نہ ہوسکی۔ اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر ہندوستان بذات خود اس بات کو تسلیم کرچکا ہے کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دے گا لیکن ہنوز دلی دوراست۔پاکستان کشمیریوں کا وکیل ہے اور ہر فورم پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کا دفاع کرنا اور کشمیریوں کے حق میں بات کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے اور جس میں پاکستان حق بجانب بھی ہے ۔اس سال جہاں پورے پاکستان نے ہر طرح کی سیاسی ،سماجی و مذہبی تنظیموں بشمول حکمران قیادت کے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنا موقف دیا وہیں پر دنیا بھر میں کشمیریوں کے حق میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کیے گئے۔بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے خصوصاًفغانستان سے امریکا کی واپسی کی وجہ سے کشمیرکا مسئلہ ایک بار پھر عالمی منظر نامے میں سرفہرست نظر آرہا ہے ۔7دہائیوں سے جاری تحریک آزادی کی کامیابی کے آثار جس قدر اس وقت روشن ہیں اس سے پہلے شاید کبھی نہ تھے۔ ہند ہر طرح کے ظلم و تشدد کو کشمیریوں پر آزما چکا ہے لیکن کشمیری اپنی آزادی سے کسی بھی طرح پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔آئے روز اٹھتے جنازے دنیا بھر کو پیغام دے رہے ہیں کہ ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہی ہوتا ہے۔ ہند ایک بڑے ملک کے طور پر دنیا بھر میں سفارتی و سیاسی مراسم رکھتا ہے اور اپنی سفارت کاری میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کا نام دے کر پیش کرتا رہا ہے ۔اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر خود جانے کے باوجود تجارتی مراسم بڑھا کر کئی ایک ممالک کو ہندوستان نے کشمیر کے معاملے پر خاموش کردیا تھا اور امریکہ کے افغانستان میں آنے کی وجہ سے بھی پاکستان کی نسبت ہند کی طرف امریکہ کا جھکائو ہونا ایک منصوبے سے کم نہ تھا ۔ ہند نے ایک لمبے عرصے تک پروپیگنڈہ وار کے ذریعے جھوٹ کو سچ بنا کر دنیابھر کو باور کروانے کی کوشش کی کہ پاکستان دہشت گردوں کی سربراہی کرنے والا ملک ہے اور اس کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے اڈے ہیں ۔یہ الزام بھی بار بار دہرائے جاتے رہے کہ افغانی طالبان کشمیر میں پہنچ رہے اور یہ کہ افغانی طالبان کے ساتھ کشمیری مسلح جدوجہد کرنے والے افراد کے تعلقات ہیں ۔ ہند کا مقصد اپنی پوزیشن کو ایک ایسی جگہ پر لانا تھا یہاں وہ آزادی کی تحریکوں کو دہشت گردی کا لیبل لگاسکے اور مختلف علاقوں میں اٹھی ہوئی آزادی کی تحریکوں کو دبانے میں عالمی رائے عامہ ہموار کرسکے ۔اقوام متحدہ میں چونکہ تنازع کشمیر کی مکمل تاریخ موجود ہے اس لیے اس میں اسے خاطر خواہ کامیابی تو نہ ہوسکی لیکن کچھ لوگوں کو جو اصل میں ہندکے ظلم واستبداد کے خلاف ہیں دہشت گرد قرار دلوانے میں ہندوستان کامیاب ہوگیا۔پاکستان میں ہوئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں اکثریت میں ہندوستانی ہاتھ پایا جاتا رہا ہے اور کلبھوشن یادیو کی شکل میں ایک زندہ وجاوید ثبوت بھی پاکستان کے قبضے میں ہے ۔افغان سرحد کے ذریعے پاکستان میں ایک عرصے تک دہشت گردانہ واقعات کرواتا رہا ہے جس کے ثبوت پاکستان نے کئی بار اقوام متحدہ اور دیگر مقتدر ممالک کے ساتھ بانٹے۔اس وقت امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہندسے کہیں زیادہ ہے کیونکہ وہ افغانستان میں سے باعزت طور پر واپسی کا خواہاں ہے اور یہ واپسی پاکستان کے بغیر ہونا ممکن نہیں۔ پاک امریکہ تعلقات میں سے ہند کا نکلنا ہی پاکستان کے لیے ایک پلس پوائنٹ ہے جس کو اس وقت پاکستان بہترین طریقے سے استعمال کررہا ہے ۔اس نادر موقع کو پاکستان نے گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ہندوستانی ہٹ دھرمی سے دنیا بھر کے سربراہان حکومت و مملکت کو آگاہ کیا ۔ترکی ،روس اور ایران جیسے ممالک بھی ہند کو ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں لیکن اس کی ہٹ دھرمی اپنی جگہ قائم و دائم ہے ۔کشمیر میں ہندوستانی مظالم کے خلاف اسپین اور اٹلی میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے شمعیں روشن کی گئیں۔ لندن، بریڈ فورڈ، برمنگھم، مانچسٹر اور گلاسگو سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں میں تاریخی ریلیاں نکالی گئیں۔ برطانوی پارلیمنٹ میں منعقدہ کشمیر کانفرنس نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی قرارداد منظور کی۔ جس میں کہا گیا کہ تصفیہ طلب تنازع خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے لہٰذا عالمی برادری کو اس کے جلد از جلد منصفانہ حل کی خاطر اپنا کردار موثر اور نتیجہ خیز طور پر ادا کرنا چاہیے۔ جدہ میں پاکستانی قونصل خانے کے زیراہتمام تقریب ہوئی جس میں پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔صدر مملکت پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے پیغامات جاری کیے گئے جن کا لب لباب یہ تھا کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادی کا حق ملنا چاہیے۔ ہندوستانی مظالم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نہیں دبا سکتے ۔سب سے حیران کن بات کابل میں شاید پہلی بار کشمیریوں کے حق میں مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین بھی شریک ہوئیں اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بات کی گئی ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ شہیدوں کی زمین کبھی غلامی کی زنجیریں نہیں پہن سکتی اورغلامی سے نجات کیلئے اپنے مال کے ساتھ جان تک کی قربانی دینا پڑتی ہے اور کشمیری قوم اس کاز میں ہراول دستے کے طور پر موجود ہے ۔کشمیرکی آزادی لکھی جاچکی ۔
 

شیئر: